اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس، شریک ملزمان پر فردجرم کی کارروائی 28 مارچ تک موخر

اسحاق ڈار

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ضمنی ریفرنس کے سلسلے میں 3 نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی  بدھ تک کیلئے موخر کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے 26 فروری 2017 کو دائر کیے گئے اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد سمیت 3 افراد کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق نیب ریفرنس پر سماعت کی۔سماعت کے دوران ضمنی ریفرنس میں نامزد 3 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم ان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی 28 مارچ تک موخر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی۔

سابق وزیر خزانہ اِن دنوں علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں۔بعدازاں رواں برس 26 فروری کو نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیا، جس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد کے علاوہ نعیم محمود اور منصور رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں