شہنشاہِ ظرافت اداکار منور ظریف کی برسی اتوار کے روز منائی جائے گی

منور ظریف

انکی مزاحیہ اداکاری کا انداز منفرد اور نرالا تھا ، 15سالہ فلمی کیریئر میں 321 فلموں میں کام کیا، منور ظریف 29اپریل 1976ء کو دنیا سے رخصت ہو گئے

لاہو: پاکستان فلم انڈسٹری کے شہنشاہِ ظرافت اور بے ساختہ اداکاری سے مسکراہٹیں بکھیرنے والے اداکار منور ظریف کی برسی (اتوار) کو منائی جائے گی ۔ منور ظریف 25دسمبر 1940ء کو لاہور کے گنجان آباد علاقے قلعہ گجر سنگھ میں پیدا ہوئے تھے۔مزاح کا فن انہیں وراثت میں ملا تھا، انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز 1961ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’ڈنڈیاں‘‘ سے کیا جس کے بعد ان کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔ تاہم 1973ء میں وہ پہلی بار اردو فلم ’’پردے میں رہنے دو‘‘ میں سائیڈ ہیرو کے روپ میں سامنے آئے اور اسی سال ایک اور فلم ’’رنگیلا اور منور ظریف‘‘ کی کامیابی نے انہیں سپر اسٹار بنا دیا، مگر ان کے کریئر کی لازوال فلم ’’بنارسی ٹھگ‘‘ رہی جس میں منور ظریف نے مختلف گیٹ اپ کئے اور اپنے ورسٹائل اداکار ہونے کی مہر ثبت کردی۔ منور ظریف جب اسکرین پر جلوہ گر ہوتے تو لوگ ان کی باتوں پر لوٹ پوٹ ہوتے دکھائی دیتے۔

منور ظریف کی مزاحیہ اداکاری کا انداز منفرد اور نرالا تھا جس کے باعث انہوں نے مزاحیہ اداکاری میں اپنا نام کمایا جسے آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دورِ حاضر کے کامیڈین نقل کرتے نظر آتے ہیں۔ بنارسی ٹھگ، جیرا بلیڈ، رنگیلا اور منور ظریف، نوکر ووہٹی دا، خوشیاں، شیدا پسٹل، چکر باز، میرا ناں پاٹے خاں، حکم دا غلام، نمک حرام، بندے دا پتر اور اج دا مہینوال ان کی ایسی ہی لاتعداد فلموں میں سے چند کے نام ہیں، ان کی آخری فلم لہودے رشتے تھی جو 1980ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں۔  مہک ملک کو مقامی ہوٹل میں ہلچل مچا دینے پر نکال دیا گیا، دوسری جانب اداکارہ مہک نور کی فلموں میں مصروفیات ،اسٹیج ڈرامہ میں اقراء علی کاسٹ

جبکہ 1973،1971اور 1975میں انہیں ’’عشق دیوانہ، بہارو پھول برسا اور زینت’ میں بہترین مزاحیہ اداکاری پر نگار ایوارڈ دیئے گئے۔ان کے بعد کامیڈی فلموں کا ایک نیا دور شروع ہوا اور انہی کے قدم پر چل کر علی اعجاز، ننھا اور عمر شریف وغیرہ نے اسکرین پر کئی عرصے تک راج کیا۔رنگیلا اور منور ظریف کی فلمی جوڑی کو فلم کی کامیابی تصور کیا جاتا تھا۔ منور ظریف ایک بہت باصلاحیت اداکار تھے۔

منور ظریف نے اپنی بے ساختہ اداکاری کی وجہ سے بہت جلد فلمی دنیا میں اپنا مقام بنالیا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ اردو اور پنجابی فلموں کی ضرورت بن گئے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے 15 سالہ فلمی کریئر میں انہوں نے 321 فلموں میں کام کیا یعنی اوسطاً ہر سال ان کی21 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ منور ظریف 29اپریل 1976ء کو دنیا سے رخصت ہو گئے ۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں