خان میٹر ڈاٹ کام

عمران خان

تحریر: لقمان شریف

عمران خان نے ماضی میں جو بھی وعدے کئے ان میں سے کتنے وعدے وفا ہوئے اور کتنوں کو خان صاحب نے بھلا دیا اس روائت کو دیکھ کر ایک شہری سلمان سعید نے خان میٹر ڈاٹ کام کے نام سے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس میں خان صاحب کے ان وعدوں پر نظر رکھی جائے گی

Photo: Samaa TV

جو انھوں نے پاکستانی عوام سے کئے۔جیسے جیسے وعدے پورے ہونگے خان میٹر کی سوئی اوپر جائے گی۔پاکستان کی ترقی کی خاطر میری دعا ہے کہ خان میٹر کی کارکردگی عوام کی امیدوں پر پوری اترے گی کیونکہ اس میٹر کے اندر لگی ہوئی چرخیوں کے گول دائر ے قطعاً چوکور نہیں بس ایک مسئلہ ہے کہ حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے اس ویب سائٹ کا نام کچھ نامناسب ہے۔

ہم اپنی روز مرہ زبان میں جب کسی کو پاگل کہنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو وہ میڑ ہو گیا سو اس نام کا ایک مطلب یہ بھی نکل سکتا ہے کہ خان پاگل ہے۔میرا خیال ہے کہ عمران خان پاگل تو نہیں مگر ابنارمل ضرور ہیں۔(ابنارمل اس معنی میں کہ روز مرہ کی زندگی سے ہٹ کر کام کرنے والے لوگ،جو عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں اور زندگی میں کچھ کرنے کی تگ و دومیں رہتے ہیں) کیونکہ کسی نارمل آدمی کے بس میں اتنی بڑی بڑی اچیومنٹس نہیں ہوتیں۔ بڑے بڑے تخلیق کاروں،سائنسدانوں اورانقلابی لیڈر ان کونارمل نہیں سمجھا جاتا جیسے کہ ارسطو،سقراط،آئن سٹائن یا ایڈلف، ہٹلر جیسے لوگ انکے دماغ کے خلیے عام آدمی سے زیادہ تھے اسی لیے تاریخ میں ان کا نام زندہ ہے۔

loading...

ان لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عمران خان بھی بائیس سال سے صرف ایک ہی نقطے پر ڈٹے رہے کہ میں نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے اور وہ اس کے لئے جدو جہد کرتے رہے اور بالآخر کامیاب ہو گئے۔ اللہ نے انہیں حکمرانی دے دی۔اب وہ جس تبدیلی کا چراغ لے کر اندھیری رات میں نکلے ہیں وہ شبوں کے رکھوالوں کے لئے تازیانے سے کم نہیں اسی لئے اب اندھیرے تکلیف میں ہیں۔چاند ستاروں سے مصالحت کرنے والے سورج کو فریب دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔جب امریکہ جانے کے لئے انہیں چالیس آدمیوں کی فہرست پیش کی گئی تو عمران خان نے پوچھا کہ یہ لوگ وہاں جا کر کیا کریں گے۔جواب دیا گیا کہ نواز شریف 80 لوگوں کو ساتھ لے کر جایا کرتے تھے۔ ہم نے پھر بھی چالیس کی لسٹ بنائی ہے۔عمران نے کہا میرا سوال یہ نہیں کہ پچھلے دور حکومت میں کتنے لوگ جاتے رہے۔میرا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ وہاں جا کر کیا کام کریں گے۔مصالحت کاروں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لہذاعمران خان نے چھتیس لوگوں کے نام کاٹ دیئے۔
با لکل اسی طرح انہیں یہ بات سمجھا نے کی بہت کوشش کی گئی کہ وزیراعظم ہاؤس میں آپکی رہائش بہت ضروری ہے۔باہر کی دنیا سے جب دوسرے حکمران پاکستان آئیں گے تو وہ کیاسوچیں گے پاکستان کے رہن سہن کا یہ کیا نمونہ ہے اور ویسے بھی اگر وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنا دیا جائے تو یقننا یہ سیکیورٹی معاملات پر اثر انداز ہو ہوگی مگر عمران خان حضرت عمر رضی تعالی عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں زیورات سے لدی عورت ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جائیتو کسی کو یہ جرات نہ ہو کہ وہ ان زیوارات یا اس عورت کو بری نظر سے دیکھ سکے۔عمران خان کو کہاگیا کہ جب وزیراعظم کا اپنا جہاز موجود ہے۔تو عام فلائٹ پر آپکا بیرون ملک جانا مناسب نہیں۔جہاز میں موجود دوسرے لوگ آپکو تنگ کریں گے۔عمران خان بولے میں نے ساری زندگی عام لوگوں میں گزاری ہے۔میں اب بھی عام لوگوں میں رہنا چاہتا ہوں۔

عام لوگوں میں جینا اور مرنا چاہتا ہوں۔مجھے وزیراعظم کا جہاز استعمال کرنے میں کوئی عار نہیں مگر اسے ضرورت کے تحت استعمال ہونا چاہئے۔میری اگر ایک دن میں ملک کے مختلف شہروں میں میٹنگز ہیں تو میں وقت بچانے کیلئے جہاز استعمال کر سکتا ہوں مگر جہاں بے شمار فلائٹس جا رہی ہیں مجھے وہاں اپنا طیارہ استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟عمران خان نے ملٹری سیکرٹری کے تین کمروں میں رہائش اختیار کی ہے۔ظلمت شب کے رکھوالوں کے چمچوں نے اس بات کو بھی کافی اچھا لا کہ عمران نے یوٹرن لیا اور اپنے وعدے سے انحراف کیا۔ عمران خان کے اسی طرز عمل کو دیکھتے ہوئے شہری نے خان میٹر ڈاٹ کام بنائی ہے تا کہ پہلے100 دنوں پر نظر رکھی جائے اور اسکے اگر خان صاحب وعدے بھول جائیں تو انکو وہ وعدے یاد کروائے جائیں۔

عمران خان نے ایک گھنٹے 9 منٹ کی تقریر میں جو ایجنڈا دیا اس پر کب ،کیسے،کتنا عمل ہو گا اس کے لئے پاکستانی قوم انتظار میں ہے۔ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر خان میٹر کی سوئی اوپر جائے گی اور عمران خان نئے پاکستان کو ترقی کے اوج ثریا تک پہنچا دیں گے تو مخالفین کا بلڈ پریشر نیچے چلا جائے گا،کیونکہ اگر عمران خان اپنے وعدوں پر بیس فیصد بھی عمل کر گئے تو ن لیگ اور پیپلزپارٹی پارٹی کا بستر گول ہو جائے گا۔ ساری پاکستانی قوم دعا گو ہے کہ ہمیں یکساں انصاف پر مبنی ، دہشت گردی سے پاک ، مہنگائی کے خاتمے ، امن و امان کی بہتر صورت حال اور غربت میں فوری کمی سے مزین ملک ملے اور اس کے لئے عمران خان بطور وزیر اعظم اور ان کی کابینہ امید کی وہ کرن ہے جو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے صف میں کھڑا کرے گی۔ پاکستانی قوم چاہتی ہے کہ وزیر اعظم اپنے وعدوں کو مت بھولیں اور جہاں تک ممکن ہو ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اللہ کوشش کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں