سیہون شریف کے قریب واقع “الٹی بستی” کا تاریخی پس منظر..

مجھے تو میری آنکھوں پہ یقین نہیں آتا کہ میرے سامنے اک ایسی بستی تھی جسے “الٹی بستی” کہہ کر پکارا جاتا ہے۔دریائے سندھ کے کنارے آباد قدیم شہر سیہون شریف جہاں لال شہباز قلندر اور بودلہ شریف کا مزار ہے میں وہیں موجود تھا۔روایت ہے کہ اس بستی پہ خدا کا عذاب نازل ہوا اور زمین کو الٹا دیا گیا۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ شہباز قلندر کے مزار کے پاس ہی اس وقت کے شہنشاہ کا قلعہ ہوا کرتا تھا،
بادشاہ ہندو تھا اور ظالم بھی، رعایا اس کے شر سے محفوظ نہ تھی، اس کے سلوک سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو بھی شدید تنگ تھے۔

Source: Tripmondo

بودلہ کو لال شہباز قلند کی قربت حاصل تھی اور لال شہباز کو بھی او بہت عزیز تھے۔
اک دن بادشاہ کو کسی دربان نے بتایا کہ یہاں سکندر نامی اک شخص رہتا ہے جو کہ قلنرر سے محبت کا دعوے دار ہے اور اس کے نام پہ جان تک دے سکتا ہے،بادشاہ کو طیش آگیا اور اس نے بودلہ کو بلا بھیجا اور کہا کہ اس جنون سے آزاد ہو جاؤ مگر بودلہ نہ مانا اور قلندر کے عشق میں نعرے لگاتا رہا۔بادشاہ نےحکم دیا کہ اس کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پکایا اور کھایا جائے۔

loading...
Source: Facebook

دوسری جانب معمول کے مطابق قلندر دھمال میں مصروف تھا اور بودلہ ان تک نہ پہنچا تو انہوں نے بودلہ کو آواز لگاءی، جن لوگوں نے بودلہ کے گوشت کو ہڑپ کیا تھا ان پہ اک عجب سی کیفیت طاری ہو گئی اور سارا گوشت ان کے معدوں سے نکل کر قلندر کے سامنے اک زندہ انسان بن کر دکھنے لگا۔
قلند کو خبر لگی کہ ہندو بادشاہ نے بودلہ کہ ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تو وہ جلال مین آگئے اور خدا سے دعا کی جس کے نتیجے میں بادشاہ کے قلعے سمیت ساری بستی الٹ گئی اور ایک بھی شخص زندہ نہ بچا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں