‘افغانستان سمیت سرحد کے پار امن کے حامی ہیں’:وزیراعظم اورآرمی چیف کا دورہ شمالی وزیرستان

وزیراعظم عمران خان

میرانشاہ (ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے سابق فاٹا کے نو قائم شدہ اضلاع کیلئے صحت، تعلیم، روزگار اور انتظامیہ کے شعبوں میں مختلف فلاحی پیکیجز اور قانون نافذکرنے والے اداروں میں ملازمتیں فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق فاٹا و خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کے کٹھن اور مشکل وقت کا سامنا نہایت جرات سے کیا‘یہاں جلد صوبائی اور بلدیاتی الیکشن کرائیں گے ‘ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک یا افواج نے کردار ادا نہیں کیا ‘ ہم نے اپنے ملک پر مسلط جنگ کی بھاری جانی و مالی قیمت ادا کی‘ ہم پرائی جنگ دوبارہ نہیں لڑیں گے‘ نیا پاکستان بن رہا ہے‘ہم افغانستان سمیت سرحدوں کے پار امن کے حامی ہیں، ہم دیگر فریقین کے ساتھ مل کر افغان امن کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو شمالی وزیرستان کے دورے کے موقع پر کہی۔

وزیراعظم نے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے لئے اسپتال کے ہمراہ میڈیکل کالج، شمالی وزیرستان کے لئے یونیورسٹی اور آرمی کیڈٹ کالج کے قیام، شمالی و جنوبی وزیرستان میں موبائل فون سروس کی بحالی، گھروں کی تعمیر کے لئے قرضہ، لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کے حل کے لئے کوشش کرنے، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے عمل کو تیز کرنے کے لئے نادرا سہولت مرکز اور مساجد کے لئے سولر پینلز کا بھی اعلان کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے آمد پر یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ وزیراعظم نے غلام خان بارڈر ٹرمینل کا بھی دورہ کیا اور سرحد پر باڑ کا مشاہدہ کیا۔ بعد ازاں وزیراعظم نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مشترکہ جرگہ سے خطاب کیا۔ عمران خان کا کہناتھاکہ ہم نے اپنے ملک کے اندر مسلط کردہ جنگ کی بھاری جانی و مالی قیمت چکائی ہے اور اس سے ہمارے سماجی و اقتصادی ڈھانچہ کو نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے ضم ہونے والے اضلاع کے لئے تمام صوبوں کی طرف سے این ایف سی کے تین فیصد حصے، بنیادی سطح پر اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنانے کے لئے بلدیاتی اور صوبائی انتخابات کے جلد انعقاد کا اعلان کیا۔ انہوں نے پولیس اصلاحات اور ملازمت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے لیویز و خاصہ داروں سے متعلق تمام خدشات دور کرنے کا بھی اعلان کیا۔ تنازعات کے حل کی کونسل (ڈی آر سی) کا نظام مشاورت کے ذریعے تمام مسائل کے حل اور فوری انصاف کو یقینی بنائے گا۔ وزیراعظم نےضم ہونے والے اضلاع کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈز،ا سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ٹیلی میڈیسن کے نظام کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے قطر کی پیشکش کے تناظر میں ضم ہونے والے اضلاع کے لئے ملازمتوں میں بڑے حصے، پولیس اور فرنٹیئر کور میں انرولمنٹ، کم ترقی یافتہ علاقوں کے لئے خصوصی کوٹہ (موجودہ کوٹہ کا تقریباً دگنا) کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعظم نے سود سے پاک قرضوں، کمپیوٹرز کی فراہمی اور کھیل کے میدانوں کی ترقی کا بھی اعلان کیا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں