موت اور معزوری کی وجہ، ناقص مصنوعی اعضا

ناقص مصنوعی اعضا

ایک بین الاقوامی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں مریضوں کے جسم میں نصب کیے جانے والے ناقص مصنوعی اعضا کے نتیجے میں کس طرح مریض مشکلات کا شکار ہوئے ہیں، جن میں سے اکثر کا انتقال ہو جاتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں اس صورتحال کے حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں جس کی وجہ کمزور ریگولیٹری میکنزم اور ڈاکٹروں اور یہ آلات بنانے والوں کا گٹھ جوڑ بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ یہ تحقیق تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی گروپ (آئی سی آئی جی) نے کی ہے، ٹیم میں 36؍ ملکوں سے 250؍ رپورٹر شامل ہیں۔ اس پروجیکٹ کا نام امپلانٹ فائلز تھا اور اس تحقیق میں پاکستان سے دی نیوز نے حصہ لیا۔ مریضوں کیلئے یہ ڈیوائس صحت کی بہتری کیلئے ہوتے ہیں لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے ناقص مصنوعی اعضا جیسے کہ پیس میکر، دل کے اسٹنٹ، مصنوعی کولہے، گھٹنے، چھاتیاں اور اس طرح کے دیگر آلات کی وجہ سے اکثر مریض مزید بیمار، معذور حتیٰ کہ مر بھی جاتے ہیں۔

صرف پڑوسی ملک بھارت کی بات کریں تو چار سال میں بھارتی فارماکوپیا کمیشن کی جانب سے 903؍ ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیق میں حصہ لینے والے بھارتی ادارے انڈین ایکسپریس کے مطابق، ان واقعات میں سے 325؍ دل کے اسٹنٹ، 145؍ ہڈیوں کے امپلانٹس، 83؍ مانع حمل آلات، 58؍ نبض میں لگائے جانے والے کینولے، 21؍ کیتھیٹر اور 271؍ دیگر مختلف میڈیکل ڈیوائسز کے متعلق ہیں۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری ا تھارٹی آف پاکستان (ڈی آر اے پی)ٌ نے اگرچہ نگرانی کا نظام مقرر کر رکھا ہے جس کے تحت مریض، میڈیکل ڈیوائسز درآمد کرنے والی کمپنیاں اور ڈاکٹر اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں لیکن یہ نظام موثر نہیں۔ ڈی آر اے پی کے حکام سے بات چیت کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں عدم توجہی اور نقائص والے آلات کے متعلق لاعلمی کی وجہ سے مریضوں کو بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن امپلانٹ استعمال کرنے والے کسی اسپتال اور نہ ہی ڈاکٹر نے آج تک ہونے والے نقصان کی رپورٹ درج کرائی ہے۔

ایسے واقعات کی اطلاع صرف بھارت میں درج نہیں کرائی گئی۔ 2015ء سے 2018ء کے درمیان برطانیہ میں مختلف اسپتالوں نے نگران ادارے کو 62؍ ہزار ایسے کیسز کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے 1004؍ واقعات میں مریض کی موت واقع ہوئی۔ امریکا کے نگران ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران 54؍ لاکھ ایسے کیسز کی رپورٹ درج کرائی گئی، ان میں سے کچھ شکایات ڈیوائس بنانے والوں کو موصول ہوئی جن کے آلات دیگر ممالک میں استعمال کیے گئے۔ ڈاکٹروں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں آغا خان اسپتال کراچی اور لاہور میں شوکت خانم اسپتال کے سوا کسی نے بھی کلینکل گورننس سسٹم نافذ نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اسپتالوں کے فارماکو ویجیلنس سیکشن میں نقائص والے آلات کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی اطلاع درج نہیں کرائی جاتی۔

دوسری جانب ڈی آر اے پی اتنا مضبوط ادارہ نہیں کہ وہ قواعد و ضوابط نافذ کرا سکے۔ برطانیہ میں 1995ء میں کلینکل گورننس سسٹم نافذ کیا گیا تھا جس کی وجہ دل کے علاج کا ایک ایسا اسکینڈل تھا جس میں مریض کو بے ہوش کرنے والے ایک ڈاکٹر (اینستیٹھسٹ) ڈاکٹر اسٹیفن بولسن نے بچوں کے دل کی سرجری میں شرح موت میں اضافے کا بھانڈا پھوڑا تھا۔ آئی سی آئی جے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نقائص والے امپلانٹس سے مریضوں کے متاثر ہونے کا معاملہ صرف ترقی پذیر ممالک نہیں بلکہ امریکا، برطانیہ آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

اس کی وجہ قواعد کے نفاذ میں کوتاہی ہے کیونکہ ترغیب کار (Lobbyists) قانون سازوں سے قوانین میں نرمی حاصل کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تجربات کے بغیر ہی ڈیوائسز مارکیٹ میں آ جاتی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی مصنوعات ساز (مینوفیکچررز) نے ایسی مصنوعات تیار کر رکھی ہیں جن پر ’’برائے برآمد‘‘ لکھا جاتا ہے جو امریکا کے سوا ہر اس ملک میں استعمال ہوتی ہیں جہاں یہ درآمد کی جاتی ہیں نتیجتاً مسائل بڑھتے ہیں۔ پاکستان میں اُن ڈیوائسز کو پرکھنے اور جائزہ لینے والا کوئی ادارہ نہیں جو مغربی ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں۔

ڈی آر اے پی نے 17؍ ممالک سے طبی امپلانٹس اور ڈیوائسز درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جن میں امریکا، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا، کینیڈا، آسٹریا، بیلجیم، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، نیدر لینڈ ز ، ناروے، اسپین، سوئیڈن اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ ان ممالک سے درآمد کیلئے متعلقہ ملک کی ریگولیٹری باڈی سے اجازت ضروری ہوتی ہے۔ آئی سی آئی جے کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے قوانین میں نرمی کی وجہ سے ڈیوائس انڈسٹری کا کاروبار فروغ پا رہا ہے اور ڈیوائس بنانے والے بڑے ادارے نگرانی کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر یورپ میں مصنوعات متعارف کراتے ہیں۔ مثلاً، ایک امریکی کمپنی زمر بایومیٹ نے امریکی نگران ادارے کی منظوری ملنے سے قبل ہی یورپ میں مصنوعی کولہے متعارف کرا دیے۔ یورپی ریگولیٹر نے 2003ء میں اسے محفوظ قرار دیا حالانکہ زمر بایومیٹ کی جانب سے اس کے محفوظ ہونے کے حوالے سے کوئی طبی شواہد پیش نہیں کیے گئے تھے۔

لیکن ان امپلانٹس نے مریضوں کو درد میں مبتلا کر دیا، کئی مریض اسے تبدیل کرانے گئے لیکن اس کے بنانے والوں کا کوئی احتساب نہیں ہوا کیونکہ قواعد میں نرمی کی گئی تھی۔ آئی سی آئی جے کے سائمن بائوئرز کے مطابق، اس کے علاوہ ایسی کئی دیگر طبی امپلانٹس ہیں جنہیں امریکا میں منظوری ملنے سے پہلے ہی یورپ میں اجازت دیدی گئی۔ ان میں پھیپھڑوں کے سوراخ بند کرنے والے آلہ جو اکثر لیک ہوجاتا تھا، روبوڈوک کے نام سے ایک روبوٹک سرجیکل ڈیوائس جس کی وجہ سے پٹھوں کو پھاڑ دیتا تھا، برایو نامی آلہ جو پارکنسنز کی بیماری میں کارآمد سمجھا جاتا تھا لیکن مریض کے جسم سے مائع اس ڈیوائس میں جانے کے بعد یہ اکثر کام بند کر دیتی تھی جس کی وجہ سے اسے مریضوں کے جسم سے نکالنا پڑا۔ ایک اور امریکی کمپنی میڈٹرونک کو امریکا میں ڈاکٹروں کو اپنی پراڈکٹس استعمال کرنے کیلئے رشوت دینے کے الزامات کا سامنا تھا، 75؍ ملین ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرنے پر کمپنی کی جان چھوٹی۔ کمپنی کے ’’صحتمند دل سب کیلئے‘‘ نامی پروجیکٹ کو بھارت میں زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ بات سامنے آئی کہ کمپنی کی پراڈکٹس استعمال کرنے پر بھارت میں ڈاکٹروں کو مختلف آفرز اور مفت اشیا فراہم کی جاتی تھیں۔

جانسن اینڈ جانسنز کے کولہوں کے امپلانٹ کی وجہ سے بھارت میں چار ہزار مریض متاثر ہوئے اور اب یہ کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ اس افسوس ناک صورتحال کے دوران، پاکستان کے ڈی آر اے پی نے اپنی حکمت عملی مرتب کرنے کی بجائے غور و خوص کا کام آلات بنانے والے ممالک کی کمپنی کے سپرد کر رکھا ہے اور اس کا اپنا تحقیق و جائزے کا سسٹم نہیں۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دل کا علاج کرنے والے اداروں میں غیر رجسٹرڈ اسٹنٹس کے استعمال پر از خود نوٹس لیے جانے تک، رواں سال جنوری تک ملک میں درآمد شدہ آلات کو رجسٹر کرنے کا بھی کوئی ادارہ موجود نہیں تھا۔ ڈی آر اے پی ایکٹ 2012ء کے نفاذ کے تحت ایسی ڈیوائسز کو ریگولیٹ کیا جانا چاہئے۔ اس سلسلے میں 2015ء میں قوانین بنائے گئے۔ پاکستان میں بننے والی اور درآمد کی جانے والی ڈیوائسز کا معیار جانچنے کیلئے ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے ٹیمیں تشکیل دی جانا تھیں لیکن اس پر کام شروع ہی نہ ہو سکا۔

حکومت نیند سے اس وقت جاگی جب سپریم کورٹ نے نوٹس لیا۔ رواں سال 15؍ جنوری کو نئے قوانین متعارف کرائے گئے جس میں ڈیوائس درآمد کرنے والے اداروں کیلئے لائسنس کا حصول لازمی بنایا گیا اور ساتھ ہی ان اداروں کا ڈی آر اے پی میں رجسٹریشن بھی لازمی بنایا گیا۔ تاہم، موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے اسپتالوں کی نگرانی نہیں ہوتی اور نقائص والے آلات (امپلانٹس) سے ہونے والے نقصان کی رپورٹ درج نہیں ہوتی۔ یہ کام ڈیوائس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہے جو کبھی کبھار، اور وہ بھی صرف اس وقت، معاملے کی رپورٹ دیتے ہیں جب مینوفیکچرنگ کمپنی اپنے آلات واپس منگواتی ہے۔

رپورٹ: بشکریہ جیو

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں