کشمیر میں بہتاخون:زبانی مذمت کافی نہیں

کشمیری

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران جنوبی کشمیرمیں مزیدآٹھ کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیاجس کے بعد گزشتہ تین روز کے دوران شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر اٹھارہ ہو گئی۔ واقعہ کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ، وادی آزادی کے حق اور بھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھی ۔ بھارتی فورسز کی فائرنگ آنسو گیس کی شیلنگ اور تشدد سے پندرہ سے زائد افراد شدید ز خمی ہوگئے جن میں تین کی حالت نازک ہے۔ احتجاج میں شدت آنے کے خوف سے قابض انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں انٹر نیٹ سروس معطل کر دی شوپیاں میں ایک حملے میں بھارتی فوجی بھی ماراگیا ، دوسرا زخمی ہوگیا ۔چھ نوجوانوں کی لاشیں فوجیوں کی کارروائی کے دوران تباہ ہونیوالے ایک مکان کے ملبے سے ملی ہیں جبکہ ایک دسویں جماعت کے طالب علم نعمان اشرف بٹ کو فوجیوں نے شہادتوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کر کے شہید کیا۔ مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے ایک پانچ سالہ بچی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

کشمیری عوام پر بھارتی ظلم و تشدد اور بربریت کا سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے لیکن اب نریندر مودی سرکار نے تحریکِ آزادی کشمیر کی روح ختم کرنے کے لئے ایک اور وطیرہ اپنا لیا ہے کہ کشمیری تحریک آزادی کے قائدین کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔چند روز قبل بھارت کی درندہ صف فوج نے جدوجہد آزادی کی تحریک کے ایک سینئر رہنما حفیظ اللہ میر کو بھی وحشیانہ انداز میں شہید کردیا۔ بھارتی ظلم و تشدد و جارحیت کی مذمت اور اس کے خلاف بیان دینا ماضی میں درست تھا لیکن اب بھارت نے جس اندازمیں کشمیری عوام کو تہہِ تیغ کرنا شروع کر رکھا ہے، ان حالات میں صرف زبانی مذمت یا عالمی بوجھ ڈالنے کی کوشش کرناہی کافی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

بھارت نے نہ تو ماضی میں کبھی عالمی برادری کا بوجھ قبول کیا ہے اور نہ ہی عالمی برادری کے دباؤ یا مطالبے پر بھارت کی خونیں پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی آئی ہے۔ خاص طور پر نریندر مودی کے منہکوانسانی خون لگا ہوا ہے، جب وہ بھارت کے صوبہ گجرات کا وزیراعلیٰ تھا تواس نے وہاں بھی اپنے غنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کی آبادی کو تشدد اور بربریت کا اس انداز میں نشانہ بنوایا تھا کہ چار ہزار مسلمانوں کو شہید کیا گیا تھا ۔ بی جے پی کے مسلح غنڈوں نے مسلمانوں کے گھروں کو مکینوں سمیت آگ لگا کر کئی بے گناہ مسلمانوں کو زندہ جلادیا، نیز خواتین اور معصوم بچیوں کو اجتماعی طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا۔ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ کشمیری عوام کے خون سے اپنی پیاس بجھاتاچلا آ رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی و سفارتی امداد ماضی میں تو ٹھیک تھی لیکن عصر حاضر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ جس انداز میں بھارت عالمی برادری کے ردِ عمل کی جانب سے آنکھیں بند کرکے مظلوم و نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے اس کے خلاف صرف سیاسی،سفارتی و اخلاقی حمایت اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں۔ بلکہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی ہر قسم کی احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیری عوام کی عملی امداد کرے، نیز بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کے لئے جوجو ڈرامے کئے ہیں ،ہمیں چاہئے کہ انہیں بھی پوری دنیا میں طشت از بام کریں۔ جیسے بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد اجمل قصاب کے حوالے سے پاکستان کے خلاف بھرپور پراپیگنڈہ کیا ، اب پاکستان کو چاہئے کہ اس پر عالمی سطح پر اتنا پراپیگنڈا کرے کہ پوری دنیا کو علم ہوجائے کہ دہشت گردی پاکستان نہیں کرتا بلکہ بھارت خود اپنے شہریوں کے ذریعے پہلے دہشت گردی کراتا ہے پھر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں چاہئے کہ کشمیریوں کی عملی امداد شروع کریں ورنہ وہ بے چارے تو آہستہ آہستہ ختم ہوتے جارہے ہیں۔

بھارتی سازش کے مطابق وہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش میں مصروف ہیں اور جیسے ہی ہندو اکثریت میں آئیں گے، بھارت سرکار فوری طور پر اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کرانے کا مطالبہ کردے گا۔ اس وقت ہمارے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ ہم اس رائے شماری کے خلاف کوئی ایک بات بھی کرسکیں کیونکہ ہم ستر برس سے رائے شماری کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں اور جب بھارت رائے شماری پر آمادہ ہوگا تو ہمارے پاس اس سے انحراف کی کوئی وجہ نہیں ہوگی، لہذا ایسا کوئی وقت آنے سے قبل ہیں ہمیں بھارتی سازش کا سدِ باب کرنا ہوگا۔

ادھر بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکرٹری جنرل او آئی سی ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے بھارت سے مظلوم کشمیریوں پر طاقت کے استعمال کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قابض افواج مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلنا بند کرے، طاقت کے ذریعے آزادی کے جذبے کو دبایا نہیں جا سکتا۔ او آئی سی اپنے وجود میں آنے کے وقت سے آج تک نہ تو مسلمانوں کی کوئی مدد کرسکا ہے نہ ہی عالمی سطح پر اپنا وجود تسلیم کراسکا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ او آئی سی کے کرتا دھرتا اقتصادی لحاظ سے مضبوط ممالک میں شامل ہیں انہیں اس کی کوئی پروا نہیں کہ ان کی قرارداد کو عالمی برادری کوئی اہمیت دیتی ہے یا نہیں، لیکن اب معاملہ انسانی خون اور بچوں و خواتین کی سلامتی کا ہے۔اب او آئی سی کو خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا اور کشمیریوں کی عملی امداد کرنا ہوگی، اس کے لئے لازم نہیں کہ سب اسلحہ اٹھا کر کشمیر میں جہادِ آزادی شروع کردیں ، بلکہ او آئی سی کے کرتا دھرتا اسلامی ملک بھارت سے ہر قسم کے تجارتی تعلقات ختم کردیں، جس دن اسلامی ممالک نے یہ طریقہ اختیار کرلیا بھارت چار روز میں ہی کشمیریوں کو آزادی دینے پر مجبور ہوجائے گا۔ اب اسلامی ملکوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے قتل عام پر عملی قدم اٹھائیں تاکہ ستر برس سے ظلم و بربریت کی چکی میں پستے کشمیری عوام کو بھی سکون کا سانس نصیب ہو اور وہ آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں