حکومت میں بیٹھ کر نواز اور شہباز شریف کے خلاف نازیبا زبان کیسے برداشت کرتا، چوہدری نثار

loading...

سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے تحریک انصاف میں شامل نہ ہونے کی وجہ بتادی۔

ایک انٹرویو میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے ان کی عمران خان سے ایک ملاقات ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ میں تحریک انصاف میں شامل ہوجاؤں۔

چوہدری نثار علی خان نے پی ٹی آئی میں شامل نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ‘میں نے سوچا کہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہوکر حکومتی بینچز پر بیٹھا کیسا لگوں گا جہاں میاں نواز شریف، شہباز شریف اور پارٹی کے دیگر لوگوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جائے گی’۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جو ماحول بن رہا تھا مجھے پتا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بن رہے ہیں، عمران خان اسکول کے زمانے سے میرے دوست ہیں، عمران خان چاہتے تھے کہ میں تحریک انصاف میں شامل ہوجاؤں۔

انہوں نے کہا کہ ‘پارٹی کے کچھ رہنما میاں نواز شریف کے کان بھرتے تھے اور کہتے تھے کہ چوہدری نثار کبھی کیوں عمران خان کیخلاف بات نہیں کرتے حالانکہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں، اس حوالے سے ایک بار میاں نواز شریف نے بھی مجھ سے بات کی اور پریس کانفرنس کا کہا، مجھے اندازہ تھا کہ یہ پریس کانفرنس ذاتی نوعیت کی ہونی ہے لہٰذا میں ویک اینڈ پر مری چلا گیا’۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ‘مری میں میرے پاس فواد حسن فواد کا فون آیا جوکہ یقینی طور پر عام نوعیت کا نہیں تھا کیوں کہ انہیں میاں صاحب نے ہی کہا ہوگا فون کرنے کا، انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ آپ نے ایک پریس کانفرنس کرنی تھی جس پر میں نے کہا کہ میں نے ایک بیان جاری کردیا ہے کہ پریس کانفرنس نہیں کروں گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں نے میاں صاحب سے کہا کہ کسی بزرگ نے مجھ سے کہا ہے کہ جس سے 30 سال کا تعلق ہو اس سے تعلق خراب کرنے میں بھی اتنا ہی عرصہ لگانا چاہیے’۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، پہلے غلطی کی گنجائش تھی اب نہیں ہے، اب کھائی ہمارے بالکل سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر راز اگر میں باہر لے آؤں تو شاید مجھے تو شہرت مل جائے لیکن ملک کو نقصان ہوگا، مجھ سے سب کو یہ فائدہ ہے کہ میں راز باہر نہیں نکالتا۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘پارٹی کی قیادت کو کہا کہ آئیں میاں صاحب کو قائل کریں کہ اچھے انداز میں معاملات آگے لے کر جائیں، میاں صاحب سے جب میں ملا تو انہوں نے مجھ سے اتفاق کیا، میاں صاحب نے ایک انقلابی کو بٹھایا ہوا تھا جس نے یہ سب کیا’۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو دو تین افراد سے بہت نقصان پہنچا، خوشامدیوں نے نوازشریف کو بند گلی میں پہنچا دیا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا کیس اس لیے بھی مختلف ہے کہ انہوں نے خود کو عدالت میں پیش کیا، میں واحد بندہ تھا جس نے کہا کہ عدالت پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں۔

عمران خان کی اہلیہ علیمہ خان کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ وہ کبھی عوامی عہدے پر نہیں رہیں اور اس سے پہلے عمران خان بھی نہیں رہے،جو قوانین دیگر پاکستانیوں پر لاگو ہوتے ہیں وہی علیمہ خان پر لاگو ہونے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں علیمہ خان کو نہیں جانتا نہ ان سے کبھی ملا۔ میں نے عمران خان نے کہا کہ اور جب آپ کے ساتھ والے کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس کو کچھ نہیں کہا، میں نے عمران خان سے کہا کہ فلاں کیخلاف تو آپ نے شادیانے بجائے کہ یہ صادق اور امین نہیں، یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر میرے وزرا کیخلاف کیسز ہیں تو عہدے چھوڑ کر الزام کا سامنا کریں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جس طرح اپوزیشن کا رکن گرفتار ہوتا ہے حکومت کا رکن بھی ہونا چاہیے، وزیراعظم کہتے ہیں میں ایک کو بھی نہیں چھوڑوں گا، یہ کام حکومت کا ہے ہی نہیں، نیب کا قانون جس حد تک اپوزیشن پر لاگو ہوتا ہے حکومت کے ارکان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر حقیقی احتساب چاہتے ہیں تو ان کو احتساب خود سے شروع کرنا چاہیے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ اپوزیشن کا احتساب کریں اور اپنے لوگوں کا نہیں، احتساب با مقصد تب ہوگا جب حکومت اس عمل سے الگ رہے گی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ محاذ آرائی سے گریز اور احتساب بلاتفریق ہونا چاہیے۔

عمران خان کو بیٹنگ وکٹ ملی، چوہدری نثار
چوہدری نثار نے کہا کہ عمران خان کو بیٹنگ وکٹ ملی ہے جس میں نہ پیس ہے اور نہ وہ اسپن لے رہی۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو ایسی بیٹنگ وکٹ ملی جہاں انہیں صرف سیدھا کھیلنا ہے، لیکن وہ پہلے سیدھا کھیلیں تو سہی، اچھی ٹیم میدان میں اتاریں۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ عمران خان کو ق لیگ کی حکومت سے بھی بہتر ماحول ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بلا تفریق ہونا چاہیے، یہ کوئی احتساب نہیں کہ اپوزيشن کو رگڑا دے دیا جائے لیکن حکومت کے ساتھ شامل لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں