صنعتکاری ، کاروباری مواقع اور بہتر روزگارہر نوجوان کا حق ہے ٗعمرا ن خان

عمران خان

ملک میں توانائی سے متعلق مسائل سے صنعتیں جس طرح متاثر ہیں ، ہم اس کا تدارک چاہتے ہیں ٗ  عمران خان کی تاجروں سے گفتگو
سندھ اور پنجاب کے لوگوں کو پولیس پر اعتماد نہیں ہے ٗ زینب اور عاصمہ کا کیس دو مختلف باتیں ہیں ٗانتظار کے و الد کے ہمراہ گفتگو
کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی زیادہ تر آبادی اِس وقت جواں سال ہے اور جوان لوگ ملک کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ٗ صنعتکاری ، کاروباری مواقع اور بہتر روزگارہر نوجوان کا حق ہے۔ آپ لوگ اس ملک کا مستقبل ہیں اور ملک کی تعمیر میں ہمہ وقت حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان میں نوجوان ٹیلنٹ کی ہر سطح پر قدر ہونی چاہئے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ملک میں توانائی سے متعلق مسائل سے صنعتیں جس طرح متاثر ہیں ، ہم اس کا تدارک چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ملک کا نوجوان بااختیار ہو اور مسائل کی دلدل سے باہر نکلے۔ ملک کے نوجوانوں کو اپنی ذاتی زندگیوں کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے تاکہ وہ قومی مسائل پر توجہ دے سکیں۔ پاکستان کے نوجوان ملک کا گراں قدر سرمایہ ہیں جن کا جوش و جذبہ ہی ان کی پہچان ہے۔ پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ملک کا نوجوان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرے گا۔ نوجوان صنعتکار ملک ک ہر نوجوان کے لیے ایک قابل تقلید مثال بن سکتے ہیں۔ یہ باتیں چیئرمین عمران خان نے اتوار کو نوجوان صنعتکاروں سے ناشتے کے وقت ملاقات کے دوران کہیں۔ چیئرمین عمران خان کراچی میں قتل ہونے والے انتظار کے گھر بھی گئے اور اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے انتظار کے والد سے تعزیت کی۔ انہوں نے ایک سی سی ٹی وی ویڈیو ثبوت دِکھایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل ہوا ہے۔ انتظار کے والد کا مطالبہ ہے کہ اس مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کرے۔ انتظار احمد کے والد جے آئی ٹی سے مطمئن نہیں ہیں۔ پچھلے دس سال میں 1200پولیس اہلکار دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہوئے۔ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے پولیس ایکٹ پاس کیا۔ اس ایکٹ سے تمام بھرتیاں سیاسی نہیں بلکہ این ٹی ایس کے ذریعے کروائی گئیں۔ سندھ اور پنجاب کے لوگوں کو پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔ زینب اور عاصمہ کا کیس دو مختلف باتیں ہیں۔ مردان میں عاصمہ کیس پر والدین پولیس سے مطمئن تھے۔ پولیس کے ہاتھوں نوجوان انتظار کے ماورائے عدالت قتل پر گہرا دکھ اور افسوس ہے۔ اس وقت کراچی میں لوگ سب سے زیادہ پولیس گردی کا شکار ہیں۔ پولیس عوام کی محافظ ہوتی ہے، نہ کہ وہ مافیا بن کر معصوم شہریوں کا قتل عام کرتے پھریں۔ انتظار قوم کا بیٹا تھا۔ اس کے قتل کے دکھ میں اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ واقعے کی تحقیقات جلد ا زجلد مکمل کرکے قصور واروں کو جلد از جلد سزا دی جائے۔ پولیس کے نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ سندھ میں اس وقت جنگل کا راج ہے ، شہریوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح قتل کردیاجاتا ہے۔ تحریک انصاف ، انصاف کے حصول تک انتظار کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔ انتظار بے قصور تھا اور بے گناہوں کو قتل کرنا سنگین ترین جرم ہے۔ پولیس کو اس کے اختیارات کے ناجائز استعمال سے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں