ہولوکاسٹ کے دوران زندہ بچ جانے والی یہودی خاتون کا قتل،دو افراد مجرم قرار

ہولوکاسٹ

میریئے نو کو گزشتہ ہفتے ان کے اپارٹمنٹ میں خنجروں کا وار کر کے قتل، لاش کو آگ لگا دی گئی، تفتیش کار
پیرس: فرانسیسی پولیس نے ہولوکاسٹ کے دوران زندہ بچ جانے والی پچاسی سالہ میریئے نو کو قتل کرنے کے جرم میں دو افراد پر فرد جرم عائد کر دی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تفتیش کاروں نے ایک بیان میں کہاکہ میریئے نو کے قتل کا محرک سامیت دشمنی تھا۔دوسری عالمی جنگ کے دوران پیرس میں یہودیوں کی نسل کشی( ہولوکاسٹ) کے دوران زندہ بچ نکلنے والی میریئے نو کو گزشتہ ہفتے ان کے اپارٹمنٹ میں خنجروں کا وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں ان کی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔فرانسیسی تفتیش کاروں کے مطابق انہیں قتل کیے جانے کا محرک یہودیوں سے نفرت تھا اور انہیں قتل کرنے کے جرم میں دو افراد کو گرفتار کر کے فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔یہودی مذہب کے ماننے والے فرانسیسی شہریوں کی آبادی یورپ میں سب سے زیادہ ہے اور وہ حالیہ برسوں کے دوران فرانس میں سامیت دشمنی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر پہلے ہی سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا۔ عدالتی ذرائع نے بتایا کہ قتل کیے جانے کی بظاہر وجہ مقتولہ کا مذہب تھا۔ دونوں مجرموں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں مقدمہ شروع ہونے سے قبل حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں مشتبہ ملزم مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں اور وہ پہلے بھی ریپ اور پرتشدد ڈکیتیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق ان مشتبہ قاتلوں کی عمریں بیس اور تیس برس کے درمیان ہیں۔

loading...
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں