میموگیٹ سکینڈل: 30 روز میں حسین حقانی کو پاکستان لایا جائے، سپریم کورٹ

چیف جسٹس

اگر حسین حقانی نہ آئے تو امریکہ میں وکیل کے ذریعے مقدمہ کریں گے۔ ڈی جی ایف آئی اے

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی سے منسوب مشہور میمو گیٹ سکینڈل کی سماعت سپریم کورٹ میں دبوبارہ سے شروع ہوگی ہے۔ ۔بدھ کو دوران سماعت حسین حقانی کو ملک واپس لانے کا مسئلہ زیر بحث آیا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حسین حقانی کو کب تک واپس لیا جائیگا؟۔جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ہمیں وارنٹ دے دیے ہیں جنہیں حسین حقانی کے گھر کراچی اور واشنگٹن ارسال کردیں گے۔

loading...

اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ریڈوارنٹ جاری کرنے کا ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے اور اس کے بعد ہی ریڈوارنٹ جاری ہوں گے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمے کے دوران کہا کہا یہ مقدمہ اسی وقت کے درج ہوجانا چاہیے تھا جو ابھی درج ہوا تاہم یہ بتایا جائے کہ کتنے دنوں میں نتائج دے سکتے ہیں؟۔جس پر ڈی جی ایف آئی نے کہا کہ قانونی تقاضے پورے کرنا پڑیں گے۔

لیکن میں نے خود بھی امریکہ جانا ہے، اگر حسین حقانی نہ آئے تو امریکہ میں وکیل کے ذریعے مقدمہ کریں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکومت کی نااہلی پر سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تین عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان نے میمو کمیشن پر فیصلہ دیا لیکن عمل درآمد نہیں ہوا، لیکن 30 روز کے بعد کوئی عزر برداشت نہیں کیا جائیگا۔

مزید پڑھیں۔  عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں