وزیر اعظم ‘ چیف جسٹس ملاقات آئین کی بالا دستی کیلئے تھی ‘ سعد رفیق

خواجہ سعد رفیق

افواج پاکستان کو سکیورٹی ،عدلیہ کو انصاف اور انتظامیہ کو ملک چلانے کیلئے ملنا چاہیے ، سیف الرحمان کے احتساب کا حامی نہیں ہوں
نیب نے جو تفصیلات مانگی تھیں ان کا تحریری جواب دیدیا ہے ، آئندہ بھی جو سوالات پوچھے جائیں گے ان کا وقت پر جواب دیا جائے گا
لاہور:وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کوئی رعایت نہیں مانگ رہا ،وزیر اعظم اور چیف جسٹس کے درمیان ملاقات کسی کیلئے نہیں بلکہ آئین و قانون اور انصاف کو یقینی بنانے کیلئے تھی اور ا س پر شکر ادا کرنا چاہیے ،افواج پاکستان کو سکیورٹی ،عدلیہ کو انصاف اور انتظامیہ کو ملک چلانے کیلئے ملنا چاہیے ، سیف الرحمان کے احتساب کا حامی نہیں ہوں ،نیب کے کالے قانون کے معاملے پر دوسیاسی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں،نیب نے جو تفصیلات مانگی تھیں ان کا تحریری جواب دیدیا ہے اور آئندہ بھی جو سوالات پوچھے جائیں گے ان کا وقت پر جواب دیا جائے گا،طعنے کوسنے ،کھیل کھیلنے سے ملک ٹھیک نہیں ہوگابلکہ خرابی بڑھے گی ،پاکستان مڈ بھیڑ اور تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا اور پاکستان کو عام انتخابات کی طرف لیجانا چاہیے ،چیئرمین سینیٹ پہلے بن گئے ہیں او ران کیلئے پارٹی بعد میں بنائی جارہی ہے ، اگر تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی سے اتحاد کر لیا ہے تو اس میں شرمانے والی کون سی بات ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی احتساب بیورو لاہور میں پیشی کے بعدپاکستان ریلویزہیڈ کواٹرمیں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زعیم حسین قادری بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نیب نے مجھے یاد کیا تھا اور میں لاہور آفس میں پیش ہوا تھا ۔ مجھے تحریری سوالنامہ بھی بھجوایا گیا تھا جس کا تحریری جواب جمع کر ادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ میں نیب کی پیدائش سے لے کر آج تک نیب قانون کے خلاف ہوں اور اسے کالا قانون کہتا آیا ہوں ،دونوں سیاسی حکومتوں نے اس حوالے سے ذمہ دار پوری نہیں کی ۔ پاکستان میں جب بھی احتساب کا نعرہ لگا اس کے مقاصد وہ نہیں تھے جو بتائے گئے ۔ میرا میڈیا کے ایک بڑے حصے سے بھی بھی شکوہ ہے کہ جنہوں نے بریکنگ نیوز اور ریٹنگ کے چکر میں میرا اورمیرے خاندان کا میڈیا ٹرائل کیا ۔ جوں جوں انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے اس میڈیا ٹرائل میں تیزی آرہی ہے اور مجھے بے رحمانہ نشانہ بنایا گیا ہے ۔ میرا خاندان وہ ہے جس نے قیام پاکستان اور اس کے بعد بے پناہ خدما ت سر انجام دی ہیں اور عجیب دور آ گیا ہے کہ ہمیں وہاں کھڑا کر دیا گیا ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی درخواست کی اور ان کی مہربانی کہ دو بڑوں کی ملاقات ہوئی اور یہ انتظامیہ ، عدلیہ کے وسیع تر مفاد میں ہے کیونکہ جب بات نہیں ہو گی تو فاصلہ بڑھ جائے گا اور اس سے جمہوریت کمز رہو گی ۔ جمہوری دور میں ہی عدلیہ کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اس ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی مجھے اس بارے علم نہیں لیکن یہ وزیر اعظم کا اقدام تھا اور چیف جسٹس نے بھی اعلیٰ ظفر کا مظاہرہ کیا ہے۔کچھ لوگ اس ملاقات کے بھی مخالفت کر رہے ہیں حالانکہ انہیں شکر ادا کرنا چاہیے ، یہ ملاقات کسی کے لئے نہیں تھی بلکہ آئین و قانون انصاف کو یقینی بنانے کے لئے تھی اور اس کے بغیر ریاست کیسے آگے چل سکتی ہے ۔ افو اج پاکستان، عدلیہ ، ایگزیکٹو ایک پیج پر ہوں تو بہت بہتر ہے ،افواج پاکستان کو سکیورٹی عدلیہ کو انصاف اور انتظامیہ کو ملک چلانے کیلئے ملنا چاہیے ۔ کوئی رعایت مانگ رہا ہے اور نہ رعایت ملے گی ، ریاست چلانی ہے یا نہیں ؟

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں