ہم سب ایک ہیں

ہم سب ایک ہیں

زونیرہ شبیر

پنڈیگھیب ، اٹک

مجھے دو لفظ بہت برے لگتے ہیں ایک “میں” اور دوسرا “تم” مجھے ایک لفظ بہت اچھا لگتا ہے اور وہ ہے “ہم” کیونکہ “میں اور تم” زندگی کو بے رونق بنا دیتے ہیں اور “ہم” ہم زندگی میں رونق بھر دیتا ہے۔

جب تک ہم ‘ہم’ ہیں تب تک کوئی ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا لیکن جیسے ہی ہم “میں اور تم” ہو جائیں گے ہم سمجھو ختم ہو جائیں گے ۔

وہ کہتے ہیں نا زندگی چار دن کی ہے تو اگر زندگی چار دن کی ہی ہے تو اسے مل جل کر ہنستے ہوئے گزارنی چاہیئے نا کہ دوسروں کو ستانے اور کوسنے میں اور یقین جانیئے ایسا کرنے سے تکلیف بھی اپنی ہی ذات کو ہوتی ہے اور اگر ہم متحد ہوکر رہیں گے تو نا صرف ہماری طاقت بڑھے گی بلکہ ہم پرسکون بھی رہیں گے اور محفوظ بھی۔اور اگر ہم متحد ہیں تو ہم کسی بھی دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں،کسی بھی خطرے کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن اگر ہم اکیلے ہیں تو ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔اگر ہم اکھٹے متحد ہو کر مل جل رہیں تو پتہ چلے گا کہ اسی میں ہی سکون اور اطمینان ہے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ہی اصل اور حقیقی خوشی ملتی ہے۔

اگر ہم وطنِ عزیز کی بات کریں تو ہم سب جانتے ہیں 1947 میں جب ہمارا وطن عزیز آزاد ہوا تو کیسے سب مسلمانوں نے یک جان اور یک زبان ہو کر مقابلہ کیا۔  پوری قوم کے مسلمان جسد واحد کی طرح ساتھ کھڑے رہے دشمنوں سے لڑتے رہے،نہ ہی وہ ڈرے نہ گھبرائے بس ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے اور اس وقت تک لڑتے رہے جب تک کہ اپنا الگ وطن “پاکستان” حاصل نا کر لیا۔ وہ کامیابی صرف لیڈروں اور حکمرانوں کے اتحاد کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ پوری قوم کے مسلمانوں کے اتحاد اور جذبے کا نتیجہ تھی۔ کہ آج ہم الحمدالله اپنے الگ ملک “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں عزت کی اور آزاد زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اسی طرح زندگی کے ہر میدان میں ہم جب جب مل کر اور ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ہمیں کامیابی ضرور ملے گی جب تک ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اللہ تعالیٰ بھی ہمارا ساتھ دے گا اور اب ہمیں اس پاک سر زمین کی مل کر حفاظت کرنی ہے اور اسے دشمن کے ناپاک ارادوں سے بچانا ہے۔ انشاءالله

آج کل ہم یہی رونا روتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری سنتے نہیں بھئ ہم الله کی کتنی سنتے ہیں جب اللہ تعالیٰ دن میں پانچ مرتبہ ہمیں بلاتا ہے جب اللہ فرماتا ہے

“حیٰ الصلوٰت ” حیٰ اللفلاح ”

آو نماز کی طرف ‘  آو کامیابی کی طرف

تو ہم کتنی بار جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا ہماری بھلائی کیلئے کیا ہم روز قرآن پڑھتے ہیں ؟؟

چلو مان لیا پڑھتے ہیں لیکن عمل؛عمل کتنا کرتے ہیں ؟؟

قرآن فرماتا ہے ہمسائیوں کے حقوق ادا کرو انکا خیال رکھو ۔۔ کیا ہم ایسا کرتے رہیں ؟

ہمیں تو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہمارے ہمسائے پیٹ بھی بھر کر سوئے یا بھوکھے ہی سو گئے ۔۔ ہمارے اردگرد نجانے کتنے لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ ہم بس اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں ۔۔ ایسے تو ترقی نہیں ہوتی ایسے تو کامیابی نہیں ملتی۔ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہماری الہامی کتاب “قرآن پاک” سے مغرب کے لوگ تو فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر ہم مسلمان اس سے محروم ہیں ۔

جب جب ہم نے اللہ تعالیٰ کو پکارا اس نے ہماری پکار کا جواب دیا ۔ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے کیسے صرف 313 مسلمانوں کو 1000 کفار پر قابض کر دیا یہ صرف مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور انکے اتحاد اور لگن کا ہی نتیجہ تھا اسی وجہ سے  مسلمان کامیاب ہوئے ۔۔

جب تک ہم ایک ہیں تب تک محفوظ ہیں جیسے ہی ہم الگ ہوئے بس ہمارا وجود بھی باقی نہیں رہے گا

وہ کہتے ہیں نا اکیلا تو بس خدا ہی اچھا ہے وہ صحیح کہتے ہیں 100 فیصد صحیح ۔۔۔

مزید پڑھیں۔  نامزد نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک بہترین آدمی ہیں، بے بس نہ ہوئے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا،شیخ رشید

آپکو یاد ہو گا بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی ایک لکڑہارے کی کہانی۔ اسکے تین بیٹے تھے لیکن ان تینوں میں اتفاق نہیں تھا لکڑہارا بیچارہ بہت پریشان تھا آخر ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ان کو سبق سکھا کر ہی دم لے گا ۔ پھر اس نے لکڑیوں کا ایک گھٹا بنایا اور اپنے تینوں بیٹوں کو اسے توڑنے کو بولا تینوں نے کوشش کی لیکن وہ گھٹا نا ٹوٹا آخر وہ تھک کر بیٹھ گئے پھر لکڑہارے نے وہ گھٹا الگ کر دیا اب کی بار اس نے تینوں کو ایک ایک لکڑی توڑنے کو دی تینوں نے آرام سے توڑ لی پھر لکڑہارا مسکراتے ہوئے بولا اسی طرح اگر تم لوگ اکھٹے رہو گے تو کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا لیکن اگر تم لوگ الگ رہو گے تو باقی لوگ تمہیں انہی لکڑیوں کی طرح کاٹ دیں مطلب تمہں برباد کر دیں گے۔ اسکا نتیجہ کیا نکلا “اتفاق میں برکت ہے” جی ہاں بالکل اتفاق میں برکت ہے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم سب مل کر رہیں تاکہ دشمن ہم سے ہمیشہ دور رہے ۔ اگر ہم ایک ہو کر رہیں گے تو کسی کی کیا مجال کہ ہماری طرف کوئی آنکھ اٹھا کر  دیکھ بھی پائے۔

میرا نہیں خیال کہ ہمارے ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرنے کے لئے ہمارے لیڈرز اور حکمران کافی ہیں اگر ہمیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس کے لئے ہمیں متحد ہو کر کام کرنا ہوگا تبھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

اصل میں یہ ترقی اور کامیابی ہے کیا ؟؟

ترقی کا مطلب صرف چند سڑکیں اور موٹریں بنا دینا نہیں بلکہ میرا ماننا تو یہ ہے ایک ترقی یافتہ ملک وہ ملک ہوتا ہے جہاں سب کیساتھ برابر سلوک کیا جائے، جہاں سب کو انصاف فراہم ہو، جہاں بزگوں کو اولڈ ہاوسس کی زینت کا بنا دیا جائے اور جہاں بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال کی جائے اور ان کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ جہاں کوئی شخص بےروزگار نا ہو۔۔ اور ہمیں ایسا ہی ترقی یافتہ ملک بنانا ہو گا۔

loading...

ہم ہمیشہ اپنے لئے جینا چاہتے ہیں اور جیتے بھی ہیں کبھی دوسروں کے لئے جیئیں دوسروں کے لئے کچھ کریں تو پتہ چلے کہ اصل خوشی تو دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے سے ہے دوسروں کی پرواہ کرنے میں ہے ۔

خوش قسمتی کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں بھی ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کی مدد کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور ایسے بہت سے ادارے ہیں جہاں بے سہارا افراد کو عزت و احترام سے رکھا جاتا ہے اور ان کی ضروریات کا پورا خیال رکھا جاتا ہے ۔ جیسے کہ ایدھی فاؤنڈیشن ، گرین لائٹ اہن جی او اور دیگر بہت سے ادارے ہیں ۔

ابھی چند دنوں کی ہی بات ہے گرین لائٹ این جی او کے جیئرمیں زیشان جاوید اور انکی ٹیم نے تقریباً 100 یتیم بچوں کے لیئے کھانے اور عید کے تحائف کا بہترین اہتمام کیا۔

ایسے لوگوں کو دیکھ کر عجیب سی خوشی ملتی ہے ایسا لگتا ہے انہی کی وجہ سے دنیا قائم ہے ۔ اور یہی تو اصل کامیابی ہے ۔

دوسروں کیساتھ بھلائیاں کرنے سے دل بھی مطمئن رہتا ہے الله بھی خوش ہوتا ہے اور ضمیر بھی پرسکون رہتا ہے اور دنیا و آخرت کی بھلائی بھی مل جاتی ہے ۔

اب یہی دیکھ لیں اگر آپ کسی پیاسے کو ایک پانی پلا دیں گے تو آپکا کتنا وقت لگ جائے گا پانچ منٹ یا شائد تین منٹ لیکن سوچیں ان تین منت کے بدلے آپکو کتنا کچھ ملے گا دس نیکیاں،عزت و احترام اور خوشی الگ ۔ تو پھر مل گئی نا دنیا و آخرت کی بھلائی ۔۔۔

نیکی اور بھلائی کبھی کسی کی ضائع نہیں ہوتی ۔

چلیں اب بھلائی کی بات ہو رہی ہے تو بات کرتے ہیں سکاٹ لینڈ کے ایک غریب کسان کی جو ایک روز  کھیتوں کی طرف جا رہا تھا تب رستے میں اس نے ایک جانب سے کسی کے چیخنے کی آواز سنی وہ فوراً اس جانب گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے کسان نے اسے تسلی دی اور پرسکون کیا پھر درخت کی ایک شاخ توڑ کر بچے سے کہا

مزید پڑھیں۔  ان ڈور پلانٹس سے کس طرح گھر کے ماحول پرسکون بنایا جاسکتا ہے

یہ پکڑ لو میں تمہیں کھینچ لیتا ہوں

کچھ دیر کی کوشش کے بعد بچہ باہر نکل آیا کسان نے بچے سے کہا

میرے گھر چلو میں تمہارے کپڑے صاف کرا دیتا ہوں

لیکن بچے نے کہا میرے والد صاحب انتظار کر رہے ہوں گے اور یہ کہ کر وہ بھاگ گیا ۔

اگلی ہی صبح کسان اٹھا تو اس نے دیکھا گھر کے باہر ایک خوبصورت بگھی کھڑی ہے پھر اس بگھی میں سے ایک رعب دار شخص نمودار ہوا۔ اس نے کسان کا شکریہ ادا کیا اور کہا !

میں آپکو اسکا کیا صلہ دوں ؟ کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کی جان بچائی۔

غریب کسان نے کہا !

آپ کا شکریہ جناب میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ یہی کرتا مجھے کسی صلے کی ضرورت نہیں۔

اُس رئیس نے بہت اصرار کیا لیکن کسان نے قبول نا کیا تو جاتے جاتے اسکی نظر کسان کے بیٹے پر پڑی کہنے لگا!

کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟

کسان نے محبت سے بیٹے کا سر سہلاتے ہوئے کہا جی جناب یہ میرا ہی بیٹا ہے۔

رئیس بولا ! چلو ایک کام کرتے ہیں میں اسکو اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں اسے پڑھاتا ہوں ۔

بیٹے کی محبت میں کسان نے وہ پیشکش قبول کر لی ۔

اسکا بیٹا لندن چلا گیا پڑھنے لگا اور اتنا پڑھا کہ دنیا بھر میں مشہور ہو گیا ۔ کیا آپ جانتے ہیں دنیا اسے “الیگزینڈر فلیمنگ” کے نام سے جانتی ہے ۔ جی ہاں وہ فلیمنگ جس نے پینسلین ایجاد کی۔ وہ پینسلین جس نے کروڑوں لوگوں کی جان بچائی ۔

اور وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے دلدل سے نکالا تھا وہی بیٹا جنگِ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا پھر دوبارہ فلیمنگ کی پینسلین سے اسکی زندگی بچائی گئی ۔ اور آپ جانتے ہیں وہ رئیس کون تھے ؟ وہ رئیس روڈولف چرچل تھے اور انکا بیٹا ونسٹن چرچل تھا وہ چرچل جو جنگ عظیم میں برطانیہ کا وزیراعظم تھا اور اس نے کہا تھا

” بھلائی کا کام کریں کیونکہ بھلائی پلٹ کر آپکے پاس آتی ہے”

بظاہر کسان کی طرف سے کی گئ وہ چھوٹی سی بھلائی تھی لیکن سوچیں اس سے کتنا فائدہ ہوا ۔

ہمارے اردگرد ہزاروں لاکھوں بچے ایسے ہیں جن میں شائد دنیا فتح کرنے کا ٹیلنٹ ہو گا لیکن وہ غربت کی وجہ سے اخبار بیچتے دکھائی دیتے ہیں ان میں بہت سے بچے طرح طرح کے ٹیلنٹ کے مالک ہوں گے جو ہمارے ملک کا نام روشن کر سکتے ہوں گے ۔

مگر اُس کے لئے ہمیں اُنہیں موقع دینا ہو گا ۔ اُنہیں یہ احساس دلانا ہو گا کہ وہ ہمارے ملک کا قیمتی سرمایا ہیں ۔ وہ اس پاک سر زمین کے لیئے کتنے اہم ہیں ۔ تب کہیں جا کر یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا ۔ لیکن اس کے لئے ہمارے دلوں میں احساس کا ہونا ضروری ہے ۔ جب دلوں میں ایک دوسرے کے لئے عزت اور پیار ہو گا تبھی یہ معاشرہ ترقی کرے گا ۔

یہ صرف ایک انسان کی نہیں پوری قوم کی بات ہے۔

اب ہمیں اس کے لیئے محنت اور لگن سے اور متحد ہو کر کام کرنا ہو گا ۔ ہمیں اداس نہیں ہونا کیونکہ جب ہم اداس ہوتے ہیں نا تو ہم مایوس ہو جاتے ہیں اور پھر شیطان ہمیں مزید منفی خیالات سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے تو جب ہم منفی سوچیں گے تو مثبت کیسے ہو گا؟ چلیں آج خود کو سنوارتے ہیں خود کو بدلتے ہیں خود کو اچھا سوچنے اور اچھا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں پھر سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ تب ضرور ہمارا ملک ترقی یافتہ ملک کہلائے گا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک سے بہت آگے جائے گا انشاءاللہ ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں