اگر کسی کے پاس ثبوت نہ ہوں تو کیا اس کو شکایت کرنے کی بھی اجازت نہیں، راکھی ساونت ہوں

loading...

بولی وڈ کی بولڈ اداکارہ اور ڈانسر راکھی ساونت کا کہنا ہے کہ یہ ضرور ہے کہ ان کی تعلیم انگریزی زبان میں نہیں لیکن انہوں نے اداکاری اور رقص میں پی ایچ ڈی کررکھا ہے، ‘میں ڈاکٹر راکھی ساونت ہوں’۔

بولی وڈ ہنگامہ ڈاٹ کام کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے راکھی ساونت نے تنوشری دتہ سے متعلق الزامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید انکشافات کیے۔

پروگرام کے میزبان نے راکھی ساونت سے سوال کیا کہ ‘لوگ آپ کے تنوشری دتہ سے متعلق حالیہ انٹرویو کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آپ عورت ہو کر عورتوں کے خلاف ہیں’۔

‘می ٹو’ مہم کے حوالے سے ہونے والے انٹرویو کے دوران میزبان کے سوال پر راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کے خلاف نہیں ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہے وہ عورت ہونے کے ناطے ایسی عورتوں کا ساتھ دیں جو مردوں پر جھوٹے الزامات لگا رہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ‘انسانیت بھول جانی چاہیے’ میں انسان ہونے کے ناطے غلط بات کی تائید نہیں کرسکتی۔

راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ کیونکہ وہ بچپن سے بولی وڈ فلم انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہیں، جیسا کہ وہ بچپن میں گھر سے بھاگ کر انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہوگئیں تھیں، انہوں نے اس انڈسٹری کو پروان چھڑتے دیکھا ہے اور اپنے لوگوں کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتی ہیں، ‘میرا بچپن اور جوانی یہیں گزر گئی اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں کسی کا جھوٹ میں ساتھ کیوں دوں، اگر کسی نے برا کیا ہے تو کیا ہوگا لیکن میں سچائی کا ساتھ دوں گی’۔

پریس کانفرنس کے دوران تنوشری دتہ پر لگائے جانے والے ریپ کے الزامات پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ ‘اگر کسی کے پاس ثبوت نہ ہوں تو کیا اس کو شکایت کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے؟ کیا وہ تھانے نہیں جاسکتا کیا وہ عدالت نہیں جاسکتا؟’

بولی وڈ کی بولڈ اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ تنوشری دتہ کے پاس ان کے دعوؤں سے متعلق کیا ثبوت موجود ہیں؟

انہوں نے الزام لگایا کہ تنوشری دتہ ہندوستان کے لوگوں کو بیواکوف بنارہی ہے اور ملک کا کچھ حصہ ان کی باتوں میں آکر بیواکوف بھی بنا رہا ہے۔

راکھی ساونت نے دعویٰ کیا کہ 12 سال قبل تنوشری دتہ نے انہیں ‘طلاق دے دی تھی’، جس پر میزبان نے کہا کہ انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا تھا، راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ ‘لیکن اب میں سب کام چھوڑ چکی ہوں’۔

ایک سوال کے جواب میں راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ ‘کون کہتا ہے کہ میں لو کلاس سے ہوں یہ ضرور ہے کہ میری تعلیم انگریزی زبان میں نہیں ہوسکی تاہم میں نے اداکاری اور رقص میں پی ایچ ڈی کررکھا ہے، میں ڈاکٹر راکھی ساونت ہوں’۔

راکھی ساونت نے کہا کہ عورتوں کو تو حق دیا گیا کہ وہ کسی کے خلاف کچھ بھی کہہ دیں لیکن جن مردوں پر الزامات لگائے گئے انہیں اپنے دفاع میں کچھ کہنے کا حق نہیں دیا گیا، انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں لیکن عورتوں کو ان کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

راکھی ساونت نے تنوشری دتہ کی جانب سے سینئر اداکار پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے بتایا کہ وہ بھی مذکورہ سیٹ پر موجود تھیں اور ایسا کچھ نہیں ہوا جس طرح مس انڈیا نے الزام لیائے ہیں۔

بولی وڈ کی بولڈ اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ اگر تنوشری دتہ کو اس آئٹم سانگ سے اتنا ہی مسئلہ تھا انہوں نے اس لیے سائن کیوں کیا، ‘ایسے گانوں کے لیے آئٹم گرل کو سب کچھ کرنا پڑتا ہے، جو فلم میں مصالحے کے لیے ہوتا ہے’۔

ایک موقع پر میزبان کے سوال پر راکھی ساونت نے کہا کہ ‘میرے کان یہ سن سن کر پک چکے ہیں کہ بولی وڈ میں عورتوں پر ظلم ہورہا ہے، ایسا کچھ نہیں ہے’، ان کا مزید کہنا تھا کہ اصل ظلم ان 5 سال اور 10 سال کی لڑکیوں پر ہورہا ہے جن کا تعلق گاؤں سے ہے اور وہ سیدھی سادھی ہیں جبکہ لوگ فلموں میں ریپ کے سین دیکھ کر ان لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔

راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں ریپ نہیں ہوتا لڑکیاں شاٹ کٹ لینے کے لیے جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ 25 اکتوبر کو بولی وڈ کی متنازع اداکارہ راکھی ساونت نے اداکارہ تنوشری دتہ پر تنقید کرتے ہوئے ان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے، اپنی ایک پریس کانفرنس میں راکھی ساونت نے تنوشری دتہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’نتوشری دتہ نے 12 سال قبل میرا ریپ کیا تھا، میں یہ باتیں سب کو بتانا نہیں چاہتی تھی لیکن اب مجھے سب کے سامنے تنوشری کی حقیقت لانی ہی پڑی‘۔

راکھی نے تنوشری کے حوالے سے مزید کہا کہ کوئی نہیں جانتا کہ تنوشری دتہ ہم جنس پرست (lesbian) ہیں اور وہ یہ راز سب سے چھپاتی ہیں۔

خیال رہے کہ بولی وڈ اداکارہ تنوشری دتہ نے گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو اداکار نانا پاٹیکر پر 10 سال قبل جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا کر تہلکہ مچا دیا تھا۔

تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر اور فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کے علاوہ 2005 میں ریلیز ہونے والی فلم ’چاکلیٹ‘ کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف بھی مقدمہ درج کروا رکھا ہے، اس کے علاوہ اداکارہ نے وویک اگنی ہوتری پر بھی 28 ستمبر کو الزام لگایا تھا کہ انہوں نے انہیں شوٹنگ کے دوران نیم برہنہ سین شوٹ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

بعد ازاں راکھی ساونت نے تنوسری دتہ کے الزامات کی تردید کی تھی جس پر تنوشری دتہ نے گزشتہ ہفتے راکھی ساونت کے خلاف الزامات لگانے پر ممبئی کی ایک عدالت میں 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

راکھی ساونت کا دعویٰ تھا کہ 2008 میں فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ کے دوران تنوشری کو ہراساں نہیں کیا گیا، بلکہ وہ خود زیادہ نشہ کرنے کی وجہ سے سارا دن وین کے اندر سوئی رہیں اور ان سے کوئی کام نہیں ہو رہا تھا، جس وجہ سے ان کی جگہ انہیں کاسٹ کیا گیا۔

اداکارہ نے تنوشری دتہ کو یاد دلایہ کہ 10 کروڑ کا دعویٰ دائر کرنے کے لیے 10 لاکھ عدالت میں جمع کروانے پڑتے ہیں اور وہ 50 لاکھ جمع کرواکر ان کے خلاف 50 کروڑ کا دعویٰ دائر کریں گی۔

اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں راکھی ساونت نے تنوشری دتہ پر ریپ کا الزام بھی لگایا تھا۔

Spread the love
  • 10
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں