ٓٓکیا آپ جانتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں غذا کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟

غذا

انسان کے زندہ رہنے کے لیے جو اشیا سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں غذا سرفہرست ہے 

اس کے باوجود دنیا کے بہت سے ممالک غذائی اشیا بے دریغ ضائع کرتے ہیں، اس غذائی کچرے کو تلف کرنے پر بھی کثیر رقم صرف ہوتی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جس کرہ ارض کے 78 کروڑ افراد مسلسل بھوک اور افلاس کا شکار ہیں ، وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو غذائی اشیا کو انتہائی معمولی وجوہات کی بنا پر ضائع کردیتے ہیں اور یہ ضائع شدہ غذائی اشیا لاکھوں ٹن ہوتی ہیں جن سے پوری دنیا کے بھوکے لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھاسکتے ہیں۔اور ان کی صحت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

loading...

یہ غذا نہ صرف گھروں میں بلکہ کھیتوں میں اور انڈسٹریل سطح پر بھی بے دریغ ضائع کی جارہی ہے اور اس کا سب سے بنیادی سبب اسٹوریج کے مناسب اقدامات نہ ہونا ہے، آپ جان کرحیران رہ جائیں گے کہ غذا ضائع کرنے میں ترقی یافتہ ممالک سب سے آگے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں صرف افریقا میں لاکھوں افراد ایک ایک روٹی کو ترستے ہیں ، یقیناً غذائی اشیا کے ساتھ ایسا رویہ کسی بھی طور انسانی نہیں ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ٖ

        غذا ضائع کرنے والے ممالک میں کینیڈا،ناروے،فن لینڈ،امریکہ اور برطانیہ وغیرہ شامل ہے، اور سب کے سب ہی ترقی یافتہ ہیں، ان پر سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ غذائی قلت کو روک کر اسے محفوظ کرنے کے اقدامات کریں کہ یہی معاشی ، معاشرتی اور انسانی طور پر ایک بہتر عمل ہے۔ غذائی کچرے کو ٹھکانے لگانے پر خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ غذا کو محفوظ کرنے پر یہ ممالک اپنا سرمایہ کم کریں تاکہ ان کی معیشت پر بوجھ بھی کم ہو اور دنیا کے کروڑوں انسان پیٹ بھر کر کھا بھی سکیں۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں