سفارتی محاذ پر حکومتی غیر سنجیدگی

خارجہ پالیسی

صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا، خطے کے مسائل جنگ سے نہیں مذاکرات سے حل ہوں گے۔بھارت طاقت کے زور پر کشمیر کے حقوق نہیں دباسکتا، ہماری امن کی کوششوں کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک یا افواج نے کردار ادا نہیں کیا ۔ ہم نے اپنے ملک پر مسلط جنگ کی بھاری جانی و مالی قیمت ادا کی، ہم پرائی جنگ دوبارہ نہیں لڑیں گے۔ نیا پاکستان بن رہا ہے ہم افغانستان سمیت سرحدوں کے پار امن کے حامی ہیں، ہم دیگر فریقین کے ساتھ مل کر افغان امن کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔دوسری طرف کرتار پور کاریڈور کی تقریب کے افتتاح کے باعث وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جنیوا میں منعقد ہونے والی افغان کانفرنس میں شریک نہیں ہو رہے۔ ان کے بجائے اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔ یہ کانفرنس جنگ زدہ افغانستان کی معاشی اور سماجی مدد کے حوالہ سے منعقد ہو رہی ہیجس میں افغان طالبان کو بھی مدعو کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ ، امریکہ بھی کانفرنس کا شریک میزبان ہے۔
دنیا میں اپنا وجود منوانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اقدامات کا نام خارجہ پالیسی ہے اور جس بساط پر یہ کھیل کھیلا جاتا ہے اسے سفارتی محاذ کہا جاتا ہے، لیکن ہمارے ساتھ سانحہ یہ پیش آیا کہ تاریخ میں ہمارے ہاں خارجہ پالیسی کے ستون ایک سے زیادہ رہے ۔ آج جب ریاست کے تینوں ستون ایک پیج پر ہیں تب بھی دفتر خارجہ مسلسل خفت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ اداروں اور حکومت کا تصادم ہرگز نہیں ہے بلکہ ہمارے سفارتکاروں اور حکومت کی نااہلی ہے۔پاکستان کے سفارتی محاذ میں جو ممالک اہم ہیں ان میں امریکہ، افغانستان، بھارت، چین اور سعودیہ عرب شامل ہیں۔ بھارت پاکستان کا ایک پرانا حریف ہے۔

وجوہات کئی ہیں، غلطیاں کچھ اپنی بھی ہیں اور کچھ غیروں کا کیا ستم بھی ۔ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے فوراً بعد بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے سرکاری طور پر دعوت دی اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس پر سائیڈلائن پر ملاقات کی تجویز بھی دی۔ لیکن اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ بھارت اگلے چند ماہ میں انتخابی مراحل سے گزرنے والا ہے ، ایسے وقت میں ایسی کسی بھی قسم کی دعوت کا جواب انکار کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جس کے بعد ہمارے وزیرِ اعظم بذاتِ خود میدان میں آئے اور انہوں نے ایک ٹرمپیانہ ٹویٹ کر کے اپنی بھڑاس بھی نکال لی۔ سفارتی محاذ پر کسی بھی خط، پیغام یا دعوت کا جواب دینے کے پیمانے ہوتے ہیں۔ بھارت ہمارا مقابلے کا حریف تصور کیا جاتا ہے، اس لئے سفارتی اصولوں کے مطابق بھارتی دفترِ خارجہ کے انکار کا جواب اگر پاکستانی دفترِ خارجہ دیتا تو مناسب ہوتا کجا کہ عمران خان خود کود پڑے۔

آخر کو وزیرِ اعظم اور دفتر خارجہ کے افسر کے پروٹوکول میں کوئی فرق تو لازمی ہونا چاہئے۔ اس کے بعد ایک اور سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی دفترِ خارجہ نے ایسی کسی بھی قسم کی دعوت سے پہلے اپنا ہومورک مکمل نہیں کیا تھا۔ کیا دفترِ خارجہ اپنے سب سے بڑے حریف کا سیاسی مزاج سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ معاملہ تو دوسرے معاملات کی گرد تلے دب گیا لیکن اب ایک اور معاملہ منظرِ عام پر ہے۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لئے کرتارپور سرحد پر راہداری بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ لیکن کیا کیجئے ہمارا دفترِ خارجہ باز نہیں آتا۔ وزیرِ خارجہ نے اس انتہائی ڈویلیپمنٹ کے لئے بھارتی وزیرِ خارجہ کو سرکاری دعوت دینے کے لئے ٹویٹر کا سہارا لیا۔ جسے بھارتی وزیرِ خارجہ نے اپنی مصروفیات کے آنگن میں ڈال کر آنے سے معذرت کر لی۔ سوال پھر وہی ہے کیا یہ دعوت بغیر ہوم ورک کئے دی گئی، اگر دی گئی تو کیوں؟

سو دنوں میں ہمارے وزیر اعظم چین کا ایک دورہ بھی کر چکے ہیں۔ جسے حکومتی عہدیداران کامیاب ترین دورے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ہمارے سرکاری بیانیے میں اور چینی میڈیا کے بیانیے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ سی پیک میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی لیکن چینی وزیر اعظم صاف طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ سی پیک کے منصوبوں میں اضافہ تو ضرور ہو سکتا ہے کمی کی کوئی صورت نہیں نکلتی۔ عموماً جب بھی امدادی پیکج کے لئے کوئی دورہ طے کیا جاتا ہے، تو اس کے لئے پہلے امداد کی رقم، شرائط سب کچھ طے کر لیا جاتا ہے اور صرف کاغذی کاروائی کے لئے دورہ کیا جاتا ہے لیکن اب کی بار حالات مختلف تھے۔ وزیرِ اعظم کو ان کے ہم منصب نے بتایا کہ ہم ضرور آپ کی مدد کرنے کی سوچیں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ ہم پاکستانی حکومت کی جگہ ہرگز نہیں لے سکتے کیوں کہ ہم کوئی بھی اضافی بچہ یا ملک ایڈاپٹ کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہیں۔وزیر اعظم سعودیہ عرب کے اب تک دو دورے کر چکے ہیں۔ ایک دورے کا مقصد سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت اور امدادی پیکج تھا۔

اس دورے کے اوقات انتہائی نازک تھے، کیونکہ ایک طرف خاشقجی کے قتل پر پوری دنیا سعودیہ عرب سے کنارہ کر رہی تھی تو دوسری طرف پاکستانی وزیرِ اعظم سعودیہ پہنچ رہے تھے۔ اس کے باوجودسعودیہ نے تین ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کر کے عمران خان کو روانہ کر دیا۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات امریکی موڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ صاف صاف کہا جائے کہ جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہوتی ہے وہ پاکستان کو گلے لگا لیتا ہے جب دل کرتا ہے اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔

عمران خان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کی کال پر ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹرمپ سے مصافحہ کرتے ہوئے خدا جانے کون کون سی باتیں کر لیں کہ ساتھ ہی دعویٰ کر دیا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات ری-سیٹ ہوں۔ لیکن ابھی حال ہی میں ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ ایک دفعہ پھر دہرایا اور کہا کہ پاکستان نے ہماری خاطر آج تک کچھ نہیں کیا۔پاکستان کے صدر،وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سمیت تمام حکومتی وزراء سفارتی معاملات کی نزاکت کا احساس کئے بغیر بیان بازی کے خبط میں مبتلا نظر آتے ہیں اور درمیان میں سے دفتر خارجہ غائب۔سو یہ ہے ہماری خارجہ پالیسی۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں