بھارت دوستی کے لیے ایک قدم ایک بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے آئیں گے، وزیراعظم

تبدیلی کے 100 دن
loading...

نارروال: وزیراعظم عمران خان نے کہا ایک مرتبہ پھر کہتا ہوں بھارت دوستی کے لئے ایک قدم ایک بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے آئے گا، پختہ ارادہ کریں تو مسئلہ کشمیربھی حل ہوسکتاہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور کوریڈور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا دنیابھرسےآنےوالےسکھ مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، کرتارپور گردوارے کے لئے بہترین انتظامات کیے جائیں گے اور آئندہ سال آنے والے سکھ یاتریوں کو بہترین سہولتیں میسر آئیں گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوجوت سنگھ سدھو کےصوفی کلام سن کر بہت متاثر ہوا ہوں، کرکٹ کے دور میں 2 قسم کے کھلاڑیوں سے ملاقات ہوئی، ایک وہ کھلاڑی تھا، جو میدان میں قدم رکھتے ہوئے سوچتا تھا کہ شکست نہ ہو، ایک وہ کھلاڑی تھا جو قدم رکھتے ہوئے سوچتا تھا، میں کس طرح جیت جاؤں، ہمیشہ وہ کھلاڑی کامیاب ہوتا تھا جو سوچتا تھا میں کس طرح جیتوں۔

عمران خان نے کہا سیاست میں آیا تو دو قسم کے سیاست دانوں کو دیکھا، ایک وہ سیاست دان ہوتا تھا جوصرف اپنی ذات کے لئے سیاست کرتے تھے، 22 سال دیکھتارہا، سیاست دان اپنی ذات کے لئےعوام کوقربان کردیتےتھے، دوسرا سیاستدان اپنی ذات کا فائدہ نہیں سوچتا تھا، لوگوں کو جمع کرتا تھا، وہ سیاست دان جرات مندانہ فیصلے کرتاتھا،عوام کیلئے کام کرتا تھا اور اپنےکیلئے لوگوں کے خواب پورے کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتےہیں بھارت کی غلطی ہے اور بھارت کہتا ہے، پاکستان کی غلطی ہے، دونوں جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں، ماضی میں پھنسے رہیں گے تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھیں گے، ماضی صرف سیکھنے کے لئے رہنے کے لئے نہیں،ماضی آگے بڑھنے کا سبق سکھاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا ایک دوسرے پربلیم گیم سےکچھ نہیں ہوگا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہےجو بھی ہو ہمیں اپنے تعلقات ٹھیک کرنے ہیں، ہمیں اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا ہے، جرمنی اور جاپان نے کتنی جنگیں لڑیں لیکن آج بہترین تعلقات ہیں، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو سمجھا اور بہترین تجارتی تعلقات ہیں، فرانس اور جرمنی ایک یونین بناکر آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں بڑھ سکتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی ایک دوسرے کے لوگ مارے ہیں بلیم گیم کا فائدہ نہیں، ماضی میں رہیں گےتوہم کبھی آگےنہیں بڑھ سکتے، پاکستان کے تمام ادارے، تمام  پارٹیاں ایک پیج پر کھڑے ہیں، ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ماضی سے نکلنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا انسان چاند پر پہنچ گیا، کون سا مسئلہ ہےجو انسان حل نہیں کرسکتا، ہم تمام مسائل حل کرسکتے ہیں صرف ارادہ مضبوط ہونا چاہیے، ہماری تجارت شروع اور تعلقات اچھے ہوجائیں تو کتنا فائدہ ہوگا، بھارت سےمضبوط تعلقات چاہتا ہوں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برصغیرمیں دنیا کی سب سےبڑی غربت ہے، بارڈر کھل جائے اور تجارت شروع ہوجائےتوغربت ختم ہوسکتی ہے، چین نے 30 سال میں70 کروڑلوگوں کوغربت سے نکالا، غربت کےخاتمےکیلئےبھارت کےساتھ اچھےتعلقات چاہتےہیں، چین نےغربت کے خاتمے کے لئے وہ کام کیا جو تاریخ میں کسی نےنہیں کیا۔

عمران خان نے کہا ہمیں سوچنا چاہیے کتنے لوگ ہیں جوغربت کی لکیر سے نیچےزندگی گزارتےہیں، ہماری تجارت کھلےگی اورایک دوسرے سے سیکھیں گے، ہم دونوں ملک آگے بڑھ سکتے ہیں،ترقی کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھرکہتا ہوں دوستی کے لئے ایک قدم کےجواب میں دو قدم بڑھائیں گے، ارادہ کریں تومسئلہ کشمیربھی حل ہوسکتاہےلیکن ارادہ پختہ ہوناچاہیے۔

سدھو کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا سدھو3ماہ پہلےپاکستان آئےاورواپس گئےتوان پربہت تنقیدکی گئی، سمجھ نہیں آتی سدھوپر تنقید کیوں کی گئی، سدھو ایٹمی ہتھیار رکھنے والے دو ممالک میں امن اور دوستی کی بات کرنے آئےتھے، ایٹمی ہتھیاردونوں رکھتےہیں جنگ توکسی صورت ہو ہی نہیں سکتی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سدھودونوں ممالک میں امن کی بات کرنےآئےتھےان پرتنقیدکیوں کی گئی، نوجوت سنگھ سدھوکوکہتا ہوں آپ یہاں سےالیکشن لڑیں جیت جائیں گے، سدھو پنجاب سے الیکشن لڑیں توبڑے مار جن سےجیت جائیں گے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں