برقعے

دیکھ کبیرا رویا

ظہیر جب تھرڈ ایئر میں داخل ہوا تو ایک اس نے محسوس کیا کہ اسے عشق ہو گیا ہے۔ اور عشق بھی بہت اشد قسم کا۔ جس میں اکثر انسان اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

وہ کالج سے خوش خوش واپس آیا کہ تھرڈایئر میں یہ اس کا پہلا دن تھا۔ جونہی وہ اپنے گھر میں داخل ہونے لگا، اس نے ایک برقع پوش لڑکی دیکھی جو ٹانگے میں سے اتر رہی تھی۔ اس نے ٹانگے میں سے اترتی ہوئی ہزار ہا لڑکیاں دیکھی تھیں۔ مگر وہ لڑکی جس کے ہاتھ میں چند کتابیں تھیں، سیدھی اس کے دل اتر گئی۔ لڑکی نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا اور ظہیر کے ساتھ والے مکان میں چلی گئی۔

ظہیر نے سوچنا شروع کردیا کہ اتنی دیر وہ اس کی موجودگی سے غافل کیسے رہا؟ اصل میں ظہیر آوارہ منش نوجوان نہیں تھا، اس کو صرف اپنی ذات سے دلچسپی تھی۔ صبح اٹھے، کالج گئے، لیکچر سُنے، گھر واپس آئے، کھانا کھایا، تھوڑی دیر آرام کیا، اور آموختہ دہرانے میں مصروف ہو گئے۔ یوں تو کالج میں کئی لڑکیاں تھیں، اس کی ہم جماعت، مگر ظہیر نے کبھی ان سے بات چیت نہیں کی تھی۔

یہ نہیں کہ وہ بڑا رُوکھا پھیکا انسان تھا۔ اصل میں وہ ہر وقت اپنی پڑھائی میں مشغول رہتا تھا۔ مگر اس روز جب اس نے اس لڑکی کو ٹانگے پر سے اترتے دیکھا تو وہ پولیٹیکل سائنس کا تازہ سبق بالکل بھول گیا۔ خواجہ حافظ کے تمام نئے اشعار کے معانی اس کے ذہن سے پھسل گئے اور وہ ان ہاتھوں کے متعلق سوچنے لگا جن میں کتابیں تھیں۔ پتلی پتلی سفید انگلیاں۔ ایک انگلی میں انگوٹھی۔

دوسرا ہاتھ جس نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا وہ بھی ویسا ہی خوبصورت تھا۔ ظہیر نے اس کی شکل دیکھنے کی کوشش کی، مگر نقاب اتنی موٹی تھی کہ اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ لڑکی تیز تیز قدم اٹھاتی، اس کے ساتھ والے مکان میں داخل ہو گئی اور ظہیر کھڑا دیر تک سوچتا رہا کہ اتنا کم فاصلہ ہونے کے باوجود وہ کیوں اس کی موجودگی سے غافل رہا۔ اپنے گھر میں جا کر اس نے پہلا سوال اپنی ماں سے یہ کیا۔

’’ہمارے پڑوس میں کون رہتے ہیں؟‘‘

اس کی ماں کے لیے یہ سوال بہت تعجب خیز تھا۔

’’کیوں؟‘‘

’’میں نے ایسے ہی پوچھا ہے۔ ‘‘

اس کی ماں نے کہا۔

’’مہاجر ہیں، ہماری طرح۔ ‘‘

ظہیر نے پوچھا۔

’’کون ہیں، کیا کرتے ہیں؟‘‘

ماں نے جواب دیا۔

’’باپ بیچاروں کا مر چکا ہے۔ ماں تھی، وہ عمر کے ہاتھوں معذور تھی۔ اب تین بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ بھائی سب سے بڑا ہے۔ وہی باپ سمجھو، وہی ماں۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔ اس نے اپنی شادی بھی اس لیے نہیں کہ اتنا بوجھ اس کے کاندھوں پر ہے!‘‘

ظہیر کو تین بہنوں کے اس بوجھ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جو اس کے اکلوتے بھائی کے کاندھوں پر تھا۔ وہ صرف اس لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا جوہاتھ میں کتابیں لیے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئی تھی۔ یہ تو ظاہر تھا کہ وہ ان تین بہنوں میں سے ایک تھی۔ کھانے سے فارغ ہو کر وہ پنکھے کے نیچے لیٹ گیا۔

اس کی عادت تھی کہ وہ گرمیوں میں کھانے کے بعد ایک گھنٹے تک ضرور سویا کرتا تھا۔ مگر اس روز اسے نیند نہ آئی۔ وہ اس لڑکی کے متعلق سوچتا رہا جو اس کے پڑوس میں رہتی تھی۔ کئی دن گزر گئے، مگر ان کی مڈبھیڑ نہ ہوئی۔ کالج سے آکر اس نے سینکڑوں مرتبہ کوٹھے پرگھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہ کر اس کی آمد کا انتظار کیا۔ مگر وہ نہ آئی۔ ظہیر مایوس ہو گیا۔ وہ بہت جلد مایوس ہوجانے والا آدمی تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ سب بیکار ہے۔ مگر عشق کہتا تھا کہ یہ بیکاری ہی سب سے بڑی چیز ہے۔

عشق میں سب سے پہلے عاشق کو اس چیز سے واسطہ پڑتا ہے، جو گھبرایا، وہ گیا۔ چنانچہ ظہیر نے اپنے دل میں عہد کرلیا کہ پہاڑ بھی ٹوٹ پڑیں تو وہ گھبرائے گا نہیں، اپنے عشق میں ثابت قدم رہے گا۔ بہت دنوں کے بعد جب وہ سائیکل پر کالج سے واپس آرہا تھا، اس نے اپنے آگے ایک ٹانگہ دیکھا، جس میں ایک بُرقع پوش لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کا قیاس بالکل درست نکلا، کیونکہ یہ وہی لڑکی تھی۔ ٹانگہ رُکا۔ ظہیر سائیکل پر سے اتر پڑا۔ لڑکی کے ایک ہاتھ میں کتابیں تھیں، دوسرے ہاتھ سے اس نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا اور چل پڑی۔ مگر ٹانگے والا پکارا۔

’’اے بی بی جی۔ یہ کیا دیا تم نے؟‘‘

اس کے لہجے میں بدتمیزی تھی۔ لڑکی رکی، پلٹ کر اس نے ٹانگے والے کو اپنے برقعے کی نقاب میں سے دیکھا۔

’’کیوں، کیا بات ہے؟‘‘

ٹانگے والا نیچے اتر آیا اور ہتھیلی پر اٹھنی دکھا کر کہنے لگا۔

’’یہ آٹھ آنے نہیں چلیں گے۔ ‘‘

لڑکی نے مہین لرزاں آواز میں کہا۔

’’میں ہمیشہ آٹھ آنے ہی دیا کرتی ہوں۔ ‘‘

ٹانگے والا بڑا واہیات قسم کا آدمی تھا، بولا۔

’’وہ آپ سے رعایت کرتے ہوں گے۔ مگر۔ ‘‘

یہ سن کر ظہیر کو طیش آگیا، سائیکل چھوڑ کر آگے بڑھا، آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ ایک مُکا ٹانگے والے کی تھوڑی کے نیچے جما دیا، وہ ابھی سنبھلا بھی نہیں تھا کہ ایک اور اس کی داہنی کنپٹی پر۔ اس زور کا کہ وہ بلبلا اٹھا۔ اس کے بعد ظہیر اس لڑکی سے جو ظاہر ہے کہ گھبرا گئی تھی، مخاطب ہوا۔

’’آپ تشریف لے جائیے، میں اس حرامزادے سے نبٹ لوں گا۔ ‘‘

لڑکی نے کچھ کہنا چاہا، شاید شکریے کے الفاظ تھے جو اُس کی زبان کی نوک پر آکر واپس چلے گئے۔ وہ چلی گئی۔ دس قدم ہی تو تھے، مگر ظہیر کو پورے بیس منٹ اس ٹانگے والے سے نبٹنے میں لگے۔ وہ بڑا ہی لیچڑ قسم کا ٹانگے والا تھا۔ ظہیر بہت خوش تھا کہ اس نے اپنی محبوبہ کے سامنے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ٹانگے والے کو خوب پیٹا تھا اور اس نے یہ بھی دیکھا تھا کہ وہ برقع پوش لڑکی اپنے گھر سے، چق لگی کھڑکی کے پیچھے سے اس کو دیکھ رہی ہے۔ یہ دیکھ کر ظہیر نے دو گھونسے اور اس کوچوان کی تھوڑی کے نیچے جما دیے تھے۔

اس کے بعد ظہیر سر سے پیر تک اس برقع پوش کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اس نے اپنی والدہ سے مزید استفسار کیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس لڑکی کا نام یاسمین ہے۔ تین بہنیں ہیں، باپ ان کا مر چکا ہے، ماں زندہ ہے، معمولی سی جائیداد ہے جس کے کرائے پر ان سب کا گزارہ ہورہا ہے۔ ظہیر کو اب اپنی معشوقہ کا نام معلوم ہو چکا تھا۔

چنانچہ اس نے یاسمین کے نام کئی خط کالج میں بیٹھ کر لکھے، مگر پھاڑ ڈالے۔ لیکن ایک روز اس نے ایک طویل خط لکھا اور تہیہ کرلیا کہ وہ اس تک ضرور پہنچا دے گا۔ بہت دنوں کے بعد جب کہ ظہیر سائیکل پر کالج سے واپس آرہا تھا اس نے یاسمین کو ٹانگے میں دیکھا۔ وہ اتر کر جارہی تھی، لپک کر وہ آگے بڑھا، جیب سے خط نکالا اور ہمت اور جرأت سے کام لے کر اس نے کاغذ اس کی طرف بڑھا دیے۔

’’یہ آپ کے کچھ کاغذ ٹانگے میں رہ گئے تھے۔ ‘‘

یاسمین نے وہ کاغذ لے لیے۔ نقاب کا کپڑا سرسرایا۔

’’شکریہ!‘‘

یہ کہہ کروہ چلی گئی۔ ظہیر نے اطمینان کا سانس لیا۔ لیکن اس کا دل دھک دھک کرہا تھا۔ اس لیے کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے خط کا کیا حشر ہونے والا ہے، وہ ابھی اس حشر کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور ٹانگہ اس کی سائیکل کے پاس رکا، اس میں سے ایک برقع پوش لڑکی اتری۔ اس نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا۔ یہ ہاتھ جس سے کرایہ ادا کیا گیا تھا، ویسا ہی تھا، جیسا اس لڑکی کا تھا،

جس کو پہلی مرتبہ ظہیر نے دیکھا تھا۔ کرایہ ادا کرنے کے بعد، یہ لڑکی اس مکان میں چلی گئی جہاں یاسمین گئی تھی۔ ظہیرسوچتا رہ گیا۔ لیکن اس کو معلوم تھا کہ تین بہنیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکی یاسمین کی چھوٹی بہن ہو۔ خط دے کر ظہیر نے یہ سمجھا تھا کہ آدھا میدان مار لیا ہے۔ پر جب دوسرے روز اسے کالج جاتے وقت ایک چھوٹے سے لڑکے نے کاغذ کا ایک پُرزدہ دیا تو اسے یقین ہو گیا کہ پورا میدان مار لیا گیا ہے۔ لکھا تھا:

’’آپ کا محبت نامہ ملا۔ جن جذبات کا اظہار آپ نے کیا ہے، اس کے متعلق میں آپ سے کیا کہوں۔ میں۔ میں۔ میں اس سے آگے کچھ نہیں کہہ سکتی۔ مجھے اپنی لونڈی سمجھیے۔ ‘‘

یہ رقعہ پڑھ کر ظہیر کی باچھیں کِھل گئیں۔ کالج میں کوئی پیریڈ اٹنڈ نہ کیا۔ بس سارا وقت باغ میں گھومتا اور اس رقعے کو پڑھتا رہا۔ دو دن گزر گئے، مگر یاسمین کی مڈبھیڑ نہ ہوئی۔ اس کو بہت کوفت ہورہی تھی۔ اس لیے کہ اس نے ایک لمبا چوڑا محبت بھرا خط لکھ دیا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس تک پہنچا دے۔ تیسرے روز آخر کار وہ ظہیر کو ٹانگے میں نظر آئی۔ جب وہ کرایہ ادا کررہی تھی، سائیکل ایک طرف گرا کر وہ آگے بڑھا، اور یاسمین کا ہاتھ پکڑ لیا۔

’’حضور! یہ آپ کے چند کاغذات ٹانگے میں رہ گئے تھے!‘‘

یاسمین نے ایک جھٹکے۔ غصے سے بھرے ہوئے جھٹکے کے ساتھ اپنا ہاتھ چھڑایا اور تیز لہجے میں کہا۔

’’بدتمیز کہیں کے۔ شرم نہیں آتی تمہیں؟‘‘

یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔ اور ظہیر کے محبت بھرے خط کے کاغذ سڑک پر پھڑپھڑانے لگے۔ وہ سخت حیرت زدہ تھا کہ وہ لڑکی جس نے یہ کہا تھا کہ مجھے اپنی لونڈی سمجھیے، اتنی رعونت سے کیوں پیش آتی ہے۔ لیکن پھر اس نے سوچا کہ شاید یہ بھی اندازِ دلربانہ ہے۔ دن گزرتے گئے، مگر ظہیر کے دل و دماغ میں یاسمین کے یہ الفاظ ہر وقت گونجتے رہتے تھے۔

’’بدتمیز کہیں کے۔ شرم نہیں آتی تمہیں‘‘

۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسے اس رقعے کے الفاظ یاد آتے جس میں یہ لکھا تھا۔

’’مجھے اپنی لونڈی سمجھیے۔ ‘‘

ظہیر نے اس دوران میں کئی خط لکھے اور پھاڑ ڈالے، وہ چاہتا تھا کہ مناسب و موزوں الفاظ میں یاسمین سے کہے کہ اس نے بدتمیز کہہ کر اس کی اور اس کی محبت کی توہین کی ہے۔ مگر اُسے ایسے الفاظ نہیں ملتے تھے۔ وہ خط لکھتا تھا، مگر جب اسے پڑھتا تو اسے محسوس ہوتا کہ وہ غیر معمولی طور پر درشت ہے۔ ایک دن جب کہ وہ باہر سڑک پر اپنی سائیکل کے اگلے پہیے میں ہوا بھر رہا تھا۔ ایک لڑکا آیا، اور اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ دے کر بھاگ گیا۔ ہوا بھرنے کا پمپ ایک طرف رکھ کر اس نے لفافہ کھولا، ایک چھوٹا سا رقعہ تھا۔ جس میں یہ چند سطریں مرقوم تھیں:

’’آپ اتنی جلدی مجھے بھول گئے۔ محبت کے اتنے بڑے دعوے کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ خیر۔ آپ بھول جائیں تو بھول جائیں۔ آپ کی کنیز آپ کو کبھی بھول نہیں سکتی۔ ‘‘

ظہیر چکرا گیا۔ اس نے یہ رقعہ بار بار پڑھا۔ سامنے دیکھا تو یاسمین ٹانگے میں سوار ہورہی تھی۔ سائیکل وہیں لٹا کر وہ اس کی طرف بھاگا۔ ٹانگہ چلنے ہی والا تھا کہ اس نے پاس پہنچ کر یاسمین سے کہا:

’’تمہارا رقعہ ملا ہے۔ خدا کے لیے تم اپنے کو کنیز اور لونڈی نہ کہا کرو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔ ‘‘

یاسمین کے برقعے کی نقاب اچھلی۔ بڑے غصے سے اس نے ظہیر سے کہا۔

’’بدتمیز کہیں کے۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ میں آج ہی تمہاری ماں سے کہوں گی کہ تم مجھے چھیڑتے ہو۔ ‘‘

ٹانگہ چل ہی رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ ظہیر رقعہ ہاتھ میں پکڑے سوچتا رہ گیا کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ مگرپھر اسے خیال آیا کہ معشوقوں کا رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے وہ سر بازار اس قسم کے مظاہروں کو پسند نہیں کرتے۔ خط و کتابت کے ذریعے ہی سے، کہ یہ ایک خاموش طریقہ ہے۔

ساری باتیں طے ہو جایا کرتی ہیں۔ چنانچہ اس نے دوسرے روز ایک طویل خط لکھا اور جب وہ کالج سے واپس آرہا تھا، ٹانگے میں یاسمین کو دیکھا۔ وہ اتر کر کرایہ ادا کر چکی تھی اور گھر کی جانب جارہی تھی خط اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ ایک نظر اس نے اپنے برقعے کی نقاب میں سے ظہیر کی طرف دیکھا اور چلی گئی۔ ظہیر نے محسوس کیا تھا کہ وہ اپنی نقاب کے اندر مسکرا رہی تھی۔ اور یہ بڑی حوصلہ افزا بات تھی۔

چنانچہ دوسرے روز صبح جب وہ سائیکل نکال کر کالج جانے کی تیاری کررہا تھا، اس نے یاسمین کو دیکھا۔ شاید وہ ٹانگے والے کا انتظار کررہی تھی۔ داہنے ہاتھ میں کتابیں پکڑے تھی۔ بایاں ہاتھ جھول رہا تھا۔ میدان خالی تھا، یعنی اس وقت بازار میں کوئی آمدورفت نہ تھی۔ ظہیر نے موقعہ غنیمت سمجھا، جرأت سے کام لے کر اس کے پاس پہنچا اور اس کا ہاتھ جو کہ جھول رہا تھا، پکڑ لیا اور بڑے رومانی انداز میں اس سے کہا۔

مزید پڑھیں:  برف کا پانی

’’تم بھی عجیب لڑکی ہو۔ خطوں میں محبت کا اظہار کرتی ہو اور بات کریں تو گالیاں دیتی ہو۔ ‘‘

ظہیر نے بمشکل یہ الفاظ ختم کیے ہوں گے کہ یاسمین نے اپنی سینڈل اتار کر اس کے سر پر دھڑادھڑ مارنا شروع کردی۔ ظہیر بوکھلا گیا۔ یاسمین نے اس کو بے شمار گالیاں دیں۔ مگر وہ بوکھلاہٹ کے باعث سن نہ سکا۔ اس خیال سے کہ کوئی دیکھ نہ لے، وہ فوراً اپنے گھر کی طرف پلٹا۔ سائیکل اٹھائی اور قریب تھا کہ اپنی کتابیں وغیرہ اسٹینڈ کے ساتھ جما کرکالج کا رخ کرے کہ ٹانگہ آیا۔ یاسمین اس میں بیٹھی اور چلی گئی۔ ظہیر نے اطمینان کا سانس لیا۔ اتنے میں ایک اور بر قع پوش لڑکی نمودار ہوئی، اسی گھر میں سے جس میں سے یاسمین نکلی تھی۔ اس نے ظہیر کی طرف دیکھا اور اس کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔ مگر ظہیر ڈرا ہوا تھا۔ جب لڑکی نے دیکھا کہ ظہیر نے اس کا اشارہ نہیں سمجھا تو وہ اس سے قریب ہو کے گزری اور ایک رقعہ گرا کر چلی گئی۔ ظہیر نے کاغذ کا وہ پُرزہ اٹھایا، اس پر لکھا تھا:

’’تم کب تک مجھے یونہی بے وقوف بناتے رہو گے؟۔ تمہاری ماں میری ماں سے کیوں نہیں ملتیں۔ آج پلازا سینما پر ملو۔ پہلا شو۔ تین بجے۔ پروین!‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں