ڈولفن سمندرمیں ہر وقت شور مچانے اور کرتب دکھانے والی مچھلی ہے۔یسری انصاری

ڈولفن
ڈولفن سمندر میں رہنے والی ایک ایسی بڑی سی مچھلی ہے جو سمند ر میں ہر وقت شوروغل مچائی رہتی ہے۔طویل جسامت کے باوجود اپنی نرم و ملائم جلد کی بدولت پانی انتہائی سبک رفتاری سے تیرتی رہتی ہے۔مخالف ہو اور پانی کا تیز بہاؤ اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
ڈولفن کے جسم کا اوپری حصہ عام طور پر سیاہ ہوتاہے جس پر براؤن یا بنقشی نشانات ہوتے ہیں جبکہ اس کے جسم کا نچلا حصہ سفید ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی ڈولفن مختلف رنگوں کی ہوسکتی ہیں ۔ ڈولفن کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ چند منٹ بعد پانی سے اوپر آکر سانس لیتی ہے۔ سانس لینے کے لئے اس کے سر پر ایک سوراخ ہوتاہے۔ کبھی کبھی ڈولفن پانی پر چھلانگیں لگا کر دلچسپ جسمانی کرتب بھی دکھاتی ہے۔
ڈولفن کا سائز لمبائی 2.4میٹر اور وزن 75سے80کلو ہوتا ہے۔
ڈولفن کی عادتیں 
 ڈولفن کا شمار جانوروں کے سوشل گروپس میں کیا جاتاہے۔ کیونکہ یہ ہمیشہ گروپس کی شکل میں مل جل کر رہتی ہیں ۔ نر اور مادہ ڈولفن گروپ ساتھ ساتھ تیرتے رہتے ہیں ۔ ان کے گروپ میں کوئی لیڈر نہیں ہوتا یوں تو ڈولفن ایک دوسرے کسی اپنے ہم جنس سے لڑبھی پڑتا ہے لیکن کبھی کبھی کوئی نرڈولفن ایک دوسرے کی ہمدرد اور مل جل کر ہتی ہیں
لیکن اس کی لڑائی وقتی ہوتی ہے ڈولفن گرم ساحلی علاقوں کے پانیوں میں رہنے سے کھٹکے اور تیز سیٹیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ڈولفن کی اکثر اقسام کھیلنے اور کرتب دکھانے میں ماہر ہوتی ہیں ۔
خاص طور پر جب یہ سانس لینے کے لئے پانی سے اوپر آکر چھلانگ لگاتی ہیں تو وہ بے حد خوبصورت منظر ہوتاہے۔ نیم دائرے کی شکل میں چھلانگ لگا رک ان کا واپس پانی غڑاپ سے کودنا کسی ماہر تیراک سے کم نہیں ہوتا۔
بعض ڈولفن کرتب دکھاتے ہوئے افقی انداز بھی اختیار کرتی ہیں۔ڈولفن بے ضرر اور انسانوں سے مانوس مچھلی ہے اس لئے مغربی ممالک میں باقاعدہ ایسے سوئمنگ پولز وغیرہ بنائے گئے ہیں جہاں ڈولفن کی نہ صرف پرورش کی جاتی ہے بلکہ ان کوانسانوں کے ساتھ کھیلنے اور کرتب دکھانے کے لئے بھی سدھا یا جاتا ہے۔ اگر اسے پکڑنے کی کوشش کی جائے تو نقصان بھی پہنچا دیتی ہے اس لئے اس کوپکڑنا اور سدھارنا آسان نہیں ہے۔
افزائش نسل 
ڈولفن کی بلوغت کی مدد پانچ تا چھ سال ہوتی ہے اور افزائش نسل کا زمانہ اکتوبر دسمبر ہوتاہے ۔ نوز ائد ہ ڈولفن اپنی ماں کے قریب رہتا ہے۔ اس کی خالا ئیں ڈولفن بھی اس کے قریب ہی رہتی ہیں ۔ دو ہفتے بعد نوزائدہ ڈولفن پانی میں تیرنے قابل ہو جاتا ہے۔ شروع پہلے ہفتے میں نوزائدہ ڈولفن کے مسوڑوں سے دانت نکلنے کا عمل شروع ہوتاجاتا ہے یہ بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے انسانی بچوں کے دانت نکلتے ہیں ۔ چودہ سے پندرہ مہینے میں نوزائدہ ڈولفن مکمل طور پر اپنی زندگی گزارنے اور اپنی خوراک تلاش کرنے کے قابل ہوجاتی ہے ۔
ڈولفن کی خوراک اور شکار کرنے کا طریقہ 
ایک عام ڈولفن کی غذا مچھلیاں ، چھوٹے جھینگے ، سارڈین مچھلیاں اور آکٹوپس وغیرہ ہوتے ہیں ۔ گرمیوں کے زمانے میں شمالی افریقہ کے پانیوں میں ان مچھلیوں کی بہتات ہوتی ہے۔ اس لئے ڈولفن عام طور پر وہاں گرمیوں میں نظر آتی ہیں لیکن سردیوں میں جب ان مچھلیوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے تو ڈولفن بھی وہاں سے ہجرت کرکے ایسے مقامات پر چلی جاتی ہیں جہاں انہیں کھانے کے لئے وافر مقدار میں خوراک میسر آسکتی ہے۔ڈولفن جب خطرہ محسوس کرتی ہے تو دوسری ڈولفن مچھلیوں کو اپنی مخصوص زبان میں خطرے سے آگاہ کرتی ہے جو سیٹی اور ہلکے کھٹکے پر مشتمل ہوتی ہے۔ ڈولفن مچھلیوں کی سونگھنے کی حس بہت کمزور ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی زبان کے یہ مخصوص اشارے شکار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ٖڈولفن پانی کے اندر بہت تیز آواز سے سیٹی بجاتی ہے۔ اس کی آواز جب کسی ٹھوس شے مثلاً مچھلیوں کے گروہ سے ٹکراتی ہے تو بازگشت پیدا ہوتی ہے۔ اس بازگشت سے ڈولفن سمجھ جاتی ہے کہ شکار کس طرف ہے۔ اس طرح ان آوازوں کے ذریعے دوسری ڈولفن مچھلیوں کو بھی باخبر کیا جاتا ہے کہ دشمن کہاں ہے جیسے شارک اور وہیل مچھلیاں۔
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں