منو بھائی کی تحریروں، ڈراموں، کالموں اور شاعری نے معاشرے کا حقیقی چہرہ ظاہرکیا ،کشور ناہید

loading...

اسلام آباد: مشہور شاعرہ اور مصنف کشور ناہید نے کہا کہ منو بھائی کی تحریروں، ڈراموں، کالموں اور شاعری نے معاشرے کا حقیقی چہرہ ظاہرکیا اور خاص طور پر آمریت کیدورمیں انسانی حقوق کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔پیر کے روز ایس ڈی پی کے زیر اہتمام (مرحوم) لیجنڈ منو بھای (منیر احمد قریشی) کو یاد کرنے کے حوالے سے، کشور ناہید نے کہا کہ ایک ماہر نفسیات کی طرح منو بھائی معاشرے کے مظلوم کا درد سمجھتے تھے، جو ان کی تحریروں میں بھی عکاسی کرتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں منو بھاء کے کام، شاعری اور سوچ کو زندہ رکھنا چاہئے اور معاشرے کے فروغ کے لئے جدوجہد جاری رکھنی چاہے۔حامد حامد، سینئراینکررپرسن کا پہلے خطاب کرتے ہوئیکہنا تھا کہ منو بھای سے محبت کا تقا ضا یہ ہے کہ ہم منو بھای کی جدوجہد اور مشن کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیں. حامد میر نے کہا کہ اُنہوں نے منو بھائی کے مرہون منت لکھنا سیکھا، نہیں تو وہ آج ایک اچھے کالم نگار نہ ہو تے. انہوں نے کہا کہ منو بھاء بہت بہادر اور دلیرانسان تھے۔ اُنہون نے آمریت کا مقابلہ ڈ ٹ کر اپنی تحر یروں سے کیا۔ اس سے قبل، ڈاکٹر عابد قیوم سلیری ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آی نے کہا کہ ادب کی شراکت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ ڈاکٹر عابداس بات پر زور دیا کہ سماجی انصاف، امن اور ہم آہنگی ممنو بھائی کی تحریروں کے بغیر ناممکن ہے. اُن کا کہنا تھا کہ منو بھاء نے معاشرے کی بہت سی کمیوں کو آپنی تحریروں اور شاعری میں اُجاگر کیا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے احمد سلیم، معروف مصنف اور سینئر مشیر ایس ڈی پی آی نے کہا کہ منو بھاء سیدھی اور ساف بات کرتے تھے۔ اُنہون نے اپنے کام کے ذریعے سماجی انصاف پر اہم کردار ادا کیا. اُن کی تحریریں حقائق پر مبنی تھیں اور زمینی حقائق کو ظاہر کرتی تھیں. انہوں نے مزید کہا، ہمیں سماجی انصاف کے لئے منو بھائی کی لڑائی جاری رکھنا چاہئے۔شاعر اور کا لم نگار پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ منو بھائی ہماری مکمل تہزیب ہیں۔ منو بھائی دوستانہ اور ترقی پسند سوچ کے حامل تھے. جیل عالی نے کہا کہ ہمیں منو بھا تحریروں سے حقیقی تنقید اور رائے کے بارے میں سیکھنا چاہئے۔ فریدہ حفیظ، مشہور مصنف نے کہا کہ منو بھائی کا کوء ثا نی نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان کے کام کا کوئی میچ نہیں ہے. منو بھائی نے تحریروں اور شاعری میں تعمیراتی تنقید کی۔ڈاکٹر حمیرا سینئر ریسرچ ساتھی ایس ڈی ڈی پی نے کہا کہ ریفرنس کا مقصد نوجوان نسل کے ساتھ منو بھائی کے کام کا اشتراک کرنا تھا، جو اپنی پوری زندگی سماج کے مظلوم کے لئے کوشش کرتے ر ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں