آئس لینڈ کی تمام برانچز کو ٹی وائٹنراور پاوڈراستعمال کرنے پر سیل کردیا گیا

آئس لینڈ

آئس لینڈ کی کسی بھی برانچ پر دودھ کا نام و نشان نہیں پایا گیا، ویجیٹیبل فیٹ سے بنی فروزن ڈیزرٹ کے لیبل پردودھ سے بنی آئس کریم لکھا جا رہا ہے

لاہور:پنجاب فوڈ اتھارٹی نے آئس کریم،مِلک شیک،مکھن کھویا اور کریم کے نام پر جعل سازی کر نے والوں کے خلاف شہر بھر میں کاروائیاں کیں آئس لینڈ  کی تمام برانچز کو آئس کریم اور مِلک شیک میں دودھ کی جگہ ٹی وائٹنر اور پاوڈر کے استعمال پر سیل کر دیا۔

 ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور شہر میں کئی دہائیوں سے آئس کریم، ملک شیک، مکھن کھویا اور کریم کے نام پرجعل سازی کی جا رہی ہے۔

 اس سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹمز نے شہر بھر میں کاروائیاں کرتے ہوئے مختلف علاقوں فیصل ٹاون، جوہر ٹاون، ڈی ایچ اے، اقبال ٹاون میں دورانِ معائنہ ویجیٹیبل فیٹ سے بنی فروزن ڈیزرٹ پر غلط لیبلنگ کرنے پر آئس لینڈ کی تمام برانچیں سربمہرکر دیا ۔

loading...

آئس لینڈ کی کسی بھی برانچ پر دودھ کا نام و نشان نہیں پایا گیا۔ویجیٹیبل فیٹ سے بنی فروزن ڈیزرٹ کے لیبل پردودھ سے بنی آئس کریم لکھا جا رہا تھا۔ زیادہ منافع کمانے کے لیے دودھ کا انتہائی سستا اور مضر صحت متبادل استعمال کیا جا تا ہے۔

 غلط لیبل اور دھوکہ دہی سے آئس کریم کے نام پر فروزن ڈیزرٹ بیچنا قانوناجرم ہے۔اس کے علاوہ ٹی وائٹنر سے تیار کردہ پراڈکٹ کو ملک شیک کہہ کر فروخت کرنا بھی قانونا جرم ہے۔

علاوہ ازیں لاہور کے علاقے نظر خدا بخش کالونی میں واقع پروڈکشن یونٹ اور مناواں میں آئس کریم کے نام پر فروزن ڈیزرٹ تیار کرنے والی فیکٹری بھی سیل کر دی گئی ۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین غلط اور گمراہ کن لیبلنگ کے حوالے سے بہت واضح ہیں ۔ کسی بھی سطح پر غلط اور گمراہ کن لیبل والی اشیاء مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اگر کوئی ادارہ گمراہ کن لیبلنگ کر کے مارکیٹ میں اشیاء فروخت کرتے پایا گیا تو پنجاب فوڈ اتھارٹی سخت کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں