ایٹم بم حملے میں جان بچانے کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

ایٹم بم

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وقت 14900 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

ایٹم بم ایک ایسا مہلک ہتھیار ہے جو انسان خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہے اور جو چند لمحوں میں بے رحمی سے لاکھوں لوگوں کی جان لے سکتا ہے۔ یہ بم ایسا ہے کہ اس کے پھٹنے کے سالوں بعد بھی اثرات باقی رہتے ہیں جو آنے والی انسانی نسلوں کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔

1945 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان کے شہروں “ہیروشیما” اور “ناگا ساکی” پر ایٹم بم گرائے تھے۔ جس کے نتیجے میں تقریباَ ڈیڑھ لاکھ عام لوگ مارے گئے تھے۔ جو بچ گے انکی صحت اور آنے والی نسلوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔  یہ انسانی تاریخ میں پہلا ایٹم بم گرایا گیا تھا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وقت 14900 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔  ایسے میں مخلتف ملکوں کے درمیان تنازعات کی وجہ سے ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایٹم بم حملے سے بچا کیسے جاسکے؟ تو اس کے پہلا حل یہ ہے ہمیں بطور انسان اس انسان دشمن ہتھیار کی تیاری اور استعمال کی پرزور حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

دوسرا اگر خدانخواستہ ایسا حملہ ہوتا ہے اور اگر آپ خوش قسمتی سے براہ راست حملے کی زد میں  آںے سے بچ جاتے ہیں تو تب بھی آپ خود کو اس وقت پیدا ہونے والی تابکاری شعاعوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

سائنس دان اور ماہر طبیعات ‘بروک بسمیئر’ اس حوالے سے بزنس انسائیڈر نامی جریدے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسے کسی دھماکے میں لوگوں کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ گاڑی میں بیٹھ کر دھماکے کی جگہ سے دور چلے جائیں۔ بروک کے مطابق ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جب ایٹم بم پھٹتا ہے تو اس کی تابکاری شعائیں آسمان کی طرف اٹھتی ہیں اور ہوا کے ساتھ ساتھ دور دراز کے علاقوں میں بھی پھیل جاتی ہیں اور ایٹمی مواد زمین پر گرنے لگتا ہے۔ جو آپ کی جان کے لیے خطرناک ہے۔

loading...
ایٹم بم
ایٹم بم دھماکے کے دوران کار میں بیٹھ کر جان بچانے کی کوشش خطرناک ہے۔ فوٹو بشکریہ بزنس انسائیڈر

دھماکے بعد بہت سارے لوگ جان بچانے کے لیے گاڑیاں لے کر سڑکوں پر آجا تے ہیں جس سے حادثات کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔  اور گاڑیاں جس میٹریل سے بنائی جاتی ہیں وہ اس قدر نازک ہوتا ہے کہ وہ ایٹم بم کے اثرات سے آپ کو بچا نہیں سکتا بلکہ “بروک ” کے مطابق کار میں بیٹھ کر بچنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے آپ سڑک پر بیٹھے ہوں۔ لہذا ایٹم بم دھماکے میں کار میں بیٹھ کر کسی دودسری جگہ جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

جرمنی: بجلی استعمال کریں اور پیسے کمائیں

تو ایسی صورت میں جان بچانے کا بہترین حل کیا ہے؟ ماہر طبیعات تابکاری شعاعوں کے ماہر “بروک” بتاتے ہیں کہ ایٹم بم دھماکے میں ہمیں صرف مضبوط عمارت ہی بچا سکتی ہے۔ بروک کے مطابق ایسے حملے میں کسی عمارت کے وسط میں پناہ لینے کی کوشش کریں۔ اور اگر تہ خانہ ہے تو بہتر ہوگا کہ اس میں پناہ لیں۔ یا اس طرح کسی بھی مضبوط چھت والی جگہ میں پناہ لیں۔ اور اپنے پاس ریڈیو یا موبائل وغیرہ رکھیں جس پر آپ خبریں سن سکیں، اور جان سکیں کہ کون کون سے علاقے محفوظ ہیں اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے۔

تقریبا 24 گھنٹے تک اس عمارت سے باہر نہ آئیں کیوںکہ دھماکے کے اثرات 24 گھنٹوں بعد کچھ کم ہو جاتے ہیں۔  24 گھنٹوں کے بعد باہر نکل کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔  ان ہدایات پر عمل کرنے سے جان بچائی جا سکتی ہے۔

یہ مضمون بزنس انسائیڈر پر شائع ہوا تھا۔  

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  پاکستانی شہری کو کچلنے کا مطالبہ اور غیرمعیاری پیٹرول کی فروخت کی خلاف ورزی

اپنا تبصرہ بھیجیں