جسٹس یحیی آفریدی نے مشرف کے وکیل کے اعتراض پر مقدمہ سننے سے انکار کر دیا

مشرف

اسلام آباد : چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیٰی آفریدی کی معذرت کے بعد سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف آئین شکنی کیس میں خصوصی عدالت بنچ ایک با رپھر ٹوٹ گیا، خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس یحیی آفریدی نے مشرف کے وکیل کے اعتراض پر مقدمہ سننے سے انکار کر دیا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے 3 نومبر کے اقدام کے خلاف بطور وکیل درخواست دائر کی تھی، انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جسٹس یحیٰ آفریدی نے پرویزمشرف کی درخواست پر علیحدگی اختیار کی۔حکم نامے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کی جانب سے جسٹس یحیٰ آفریدی پر جانبداری کا الزام لگایا گیا، اعتراض لگایا گیا کہ جسٹس آفریدی، افتخارچوہدری کے وکیل رہ چکےہیں، ملزم کا الزام حقائق کےبرعکس ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی کبھی افتخار چوہدری کے وکیل نہیں رہے۔تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی تین نومبر 2007 کے اقدامات کے خلاف صرف شریک پٹیشنر تھے، انصاف کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر جانبداری اور فیئر ٹرائل کو یقینی بنانے کیلئے جسٹس یحییٰ آفریدی خود کو اس کیس سے الگ کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس یحیٰ آفریدی تین نومبر کی ایمر جنسی کے خلاف مقدمے میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکیل تھے، انہیں اس کیس سے الگ ہو جانا چاہیئے، عدالت پرویز مشرف کی گرفتاری سے متعلق 8 مارچ کا حکم نامہ بھی واپس لے۔خیال رہے کہ جسٹس یحیی آفریدی پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے سربرآہ تھے جبکہ جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس یاور علی بنچ کے ممبر تھے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں