شہباز شریف کے جسانی ریمانڈ میں 7 نومبر تک توسیع

شہبازشریف
loading...

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے آشیانہ اسکینڈل کیس کے ملزم اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مزید 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کے ریمانڈ میں 7 نومبر تک توسیع کردی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف کے 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف آشیانہ اسکینڈل کیس میں احتساب عالت میں پیش ہوئے۔

اس سے قبل احتساب عدالت شہباز شریف کو 30 اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر چکی تھی تاہم 30 کو عام تعطیل کے باعث انہیں ایک روز پہلے یعنی 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔

عدالت میں شہباز شریف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے آشیانہ اسکینڈل میں تحویل میں لیا۔ آشیانہ، صاف پانی اور اثاثوں کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میں آج عدالت میں غلط اور جھوٹے الزامات کی بنا پر موجود ہوں۔ اللہ پاک مجھے ان جھوٹے الزامات میں سرخرو کرے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں کینسر کا مریض تھا اور بیرون ملک سرجری کروائی، بار بار نیب کو کہنے کے باوجود آج تک خون اور شوگر ٹیسٹ نہیں ہوئے۔ میں نے صبر و تحمل سے نیب کے سوالات کے جواب دیے، اہلخانہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ’بھارتی جاسوس کلبھوشن سے اہلخانہ کی ملاقات کروا دی گئی مگر میری نہیں‘۔

شہباز شریف نے کہا کہ مجھے ہراساں کیا جاتا ہے سوالات پر کہا جاتا ہے اوپر والوں کو بتا دیا ہے۔ صوبے کی خدمت کی میرے اس قصور کی وجہ سے تنگ کیا جا رہا ہے۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف سے متعلق نئے حقائق سامنے آئے ہیں، احد چیمہ نے آشیانہ کے حوالے سے تمام معاملات دیکھے۔ من پسند افراد کو 8 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا جا رہا تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ دس بار جن سوالات کا جواب دے چکا انہی کے لیے ریمانڈ مانگا جا رہا ہے، مجھ سے جو پوچھا گیا میں نے اپنے علم کے مطابق اس کا جواب دیا، کوئی دن ایسا نہ گزرا جب صاف پانی اور آشیانہ سے متعلق نہ پوچھا گیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ جو حقائق سامنے رکھوں گا عدالت ان سے جان جائے گی کہ سچ کیا ہے۔

نیب کے وکیل نے شہباز شریف کے بیان دینے پر اعتراض کیا جس پر جج نے کہا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے عدالت بیان کی اجازت دیتی ہے۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں