پی ٹی وی، وزیراعظم اورغریب عوام

پی ٹی وی
loading...

اسلامی جمہوریہ پاکستان جس میں جمہوریت بہت کم لاگو رہی ہے لیکن آمریت نے کا فی عر صہ تک اس ملک پر راج کیا ہے۔ جمہوریت جتنا عرصہ بھی رہی ہے اپائچوں کی طرح تھی جب چلنے لگتی تھی تو تھوڑے سے وقت کے بعد گر جاتی تھی اور پھر آمریت کو اسے آرام دلوانے کیلئے آنا پڑتا تھا۔خدا کا شکر ہے کہ 2008 کہ بعد جمہوریت کو کچھ طاقت دی گئی ہے اس کو آرام کی بجائے گرتے وقت سہارا دے کر سنبھال لیا جاتا ہے اور اب یہ اپنا تیسرا دور شروع کر چکی ہے جسں کا آغاز 25 جولائی سے شروع ہو چکا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے 25جولائی کو الیکشن جیتا اور جمہوریت کو چلانے کا ذمہ لیا۔عمران خاں نے 17 اگست کو حلف لیا اور باقاعدہ طور پر وزیر اعظم بن گئے اور وزیر اعظم بننے کا ان کا پہلا خواب تھا جو پوراہوگیا ۔ ہر وزیر اعظم کا دوسرا خواب سرکاری ٹی وی چینل پاکستان ٹی وی چینل (پی ٹیٰ وی) پر خطا ب کرنا ہوتاہے ۔سرکاری ٹی وی چینل پر خطاب کرنے کا شرف وزیراعظم اور صدر کو حاصل ہوتا ہے اور اس کے علاوہ کسی بھی نمائندے یا فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔

2013میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بنے تو انھوں نے بھی حلف کے فوری بعد سرکاری ٹی وی چینل کے ذریعے عوام سے خطاب کیا ، جب ان پر کرپشن کے کیس آئے تو انھوں نے اپنی صفائی پی ٹی وی کے ذریعے عوام تک پہنچائی ۔ جب عمران خاں اورطاہر القادری نے دھرنا دیا تب بھی انھوں نے سرکاری ٹی وی چینل (پی ٹی وی) پر خطاب کر کے دوبارہ اپنی سچائی بیان کرنے کی کوشش کی۔دھرنے کے دوران نواز شریف کے خطاب کو دیکھ کر عمران خاں نے پی ٹی وی پر خطاب کرکے عوام کو اپنا پیغام پہنچانے کی خواہش ظاہر کر دی اور اس پر عمل کیلئے درخواست بھی لکھ دی۔

پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے بھی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے مطالبات شروع کر دیے۔لیکن خاں صاحب کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کیونکہ سرکاری ٹی وی پر صدر اور وزیراعظم ہی خطاب کر سکتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے ارکا ن نے اس پر ان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایالیکن بھر پور کوشش کے باوجود عمران خاں خطاب نہ کر سکے۔انتخابات جیتنے کے بعد 17 اگست کو حلف لے کر 18 اگست کو ہی پاکستان ٹی وی چینل پر ایک گھنٹے اور چند منٹ کا خطاب کر کے اپنی دوسری خواہش بھی پوری کر لی۔اسی خطاب میں انھوں نے غریب عوام کے ٹیکس کی حفاظت کا ذمہ لیا اور اس کی نگرانی کا وعدہ بھی کیا۔لیکن اس بات کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی وعدہ کیا ہے کہ غریب کوبے جا اور فضول ٹیکس نہیں ادا کرنا پڑے گا۔تبدیلی تو یہی ہو گی کہ پاکستان کی غریب عوام جو فضول ٹیکس دے رہی ہے اسے ختم کیا جائے۔پاکستان کا ہر وہ شہری جس کے نام بھی بجلی کا میٹر لگا ہوا ہے وہ ہر ماہ پاکستان ٹی وی چینل کے نام پر 35روپے ٹیکس دے رہا ہے چاہے اس کے گھر میں ٹیلی ویژن ہے یا نہیں اسے یہ ٹیکس ادا کرنا ہی پرے گا۔لاکھوں گھر ایسے ہیں جن کے گھر میں ٹی وی نہیں ہے لیکن وہ بھی ٹیکس دے رہے ہیں۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے سرکاری ٹی وی کا کو ئی ٹیٰکس نہیں ہے مثلا الجزائر ، رشیا ٹی وی ، سی این این، بی بی سی وغیرہ اور نہ ہی ان پر کوئی Advertisement ہوتی ہے لیکن ہمارے پی ٹی وی پر ایک گھنٹے میں کم سے کم 30 منٹ Advertisement ہوتی ہے ۔جس کی کروڑوں میں آمدنی آتی ہے لیکن پھر بھی ہر شہری 35 روپے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں موجود مسجدیں بھی ہر ماہ باقاعدگی سے ٹی وی ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔

مسجدوں کے ساتھ ساتھ مندر، چرچ (گرجاگھر) اور دوسری عبادت گاہیں بھی یہ ٹیکس ادا کررہی ہیں۔ یہ بات پریشان کن ہے کہ پاکستان ٹی وی چینل (پی ٹی وی) جو کہ ملک کا سرکاری ٹی وی چینل ہے اس پر خطاب صرف اور صرف وزیراعظم اور صدر کرتے ہیں لیکن اس کا ٹیکس اس کو چلانے کیلئے آمدنی ایک غریب آدمی دے رہا ہے حالانکہ اس کہ گھر میں ٹی وی بھی نہیں ہے پھر بھی وہ یہ ٹیکس دے رہا ہے۔ خطاب وزیراعظم اور صدر کرتا ہے تو غریب عوام کیوں یہ فضول کا ٹیکس ادا کرے ۔وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ وہ غریب عوام کے ٹیکس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ بے جا اور فضول ٹیکس جو عوام پر مسلط ہیں ان کو ختم کرے تاکہ نئے پاکستان میں تبدیلی کا آغاز ہو اور غریب عوام کو ایسے ناجائز ٹیکسوں سے جو کہ سابقہ حکومتوں نے مسلط کیے ہیں نجات مل سکے۔

محمد صالح ندیم

Spread the love
  • 9
    Shares

Comments

comments

پی ٹی وی، وزیراعظم اورغریب عوام” ایک تبصرہ

  1. What’s up, I log on to your blogs like every week. Your writing style is witty, keep up the good work!

اپنا تبصرہ بھیجیں