وہ بندریا جسے جسم فروشی پر مجبور کردیا گیا

بندریا

جکارتہ: خواتین کو جسم فروشی جیسے مکروہ دھندے پر لگانے والے شیطان صفت گروہوں کی دنیا میں کمی نہیں لیکن انڈونیشیاءمیں ایک عاقبت نااندیش گروہ نے مادہ بندریا کو ہی جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا۔

  یہ انسانیت سوز کام انڈونیشیاء کے صوبے سنٹرل کلیمنٹن کے دورافتادہ گاﺅں کیرینگ پینگی میں کیا گیا جہاں مقامی لوگوں کے ایک گروہ نے تین سال تک اس بندریا کو مقید رکھا اور اس سے جسم فروشی کرواتے رہے۔ اس بندریا کا تعلق بندروں کی معدومی کے خطرے سے دوچار نسل بورنیئن اورنگیوٹن سے تھا۔

گروہ نے قحبہ خانے میں ایک خاتون اس بندریا کی نگہداشت کے رکھی ہوئی تھی جو روزانہ اس کے بال صاف کرتی، اسے میک کرتی، پرفیوم لگاتی اور گاہکوں سے اس پر ظلم کرواتی تھی۔

کچھ عرصہ قبل اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیم بندریا کو آزاد کروا کر ایک شیلٹر میں لے گئی جہاں اس کی نگہداشت کرنے والی خاتون بندریا کو دیکھنے کے لیے گئی تو بندریا نے خوف کے مارے چیخنا شروع کر دیا اور بار بار پیشاب کرنے لگی۔

اس پر شیلٹر کی انتظامیہ نے اس خاتون کو شیلٹر سے باہر نکال دیا اور آئندہ اس کے آنے پر پابندی عائد کر دی۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان نے بندریا کے ساتھ جنسی تعلق کی فیس 2 پاﺅنڈ (تقریباً ساڑھے 300روپے) رکھی ہوئی تھی۔ بندریا تین سال تک ان درندوں کے چنگل میں پھنسی رہی اور بالآخر اسے ریسکیو کر لیا گیا اور اب شیلٹر میں اس کا علاج بھی کیا جا رہا ہے۔

بندریا کو ریسکیو کرنے والی ٹیم کے سربراہ لونی ڈروسکر نیلسن کا کہنا تھا کہ ”بندریا روبہ صحت ہے تاہم اسے اب تمام عمر اسی شیلٹر میں رکھا جائے گا کیونکہ اگر اسے جنگل میں چھوڑا گیا تو یہ زندہ نہیں رہ پائے گی۔

جب ہم اسے پہلی بار ریسکیو کرنے گئے تو ملزمان خنجر لے کر آ گئے اور ہمیں قتل کی دھمکیاں دینے لگے جس پر ہمیں واپس آنا پڑا۔ دوبارہ ہم  35 فوجیوں کو ساتھ لے کر گئے اور بندریا کو اپنے ساتھ لے آئے۔“

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں