حکومت کے 100روز اور اہداف کی تکمیل

حکومت کے 100روز

وزیراعظم عمران خان نے یقین دلایا ہے حکومت کی سمت درست اور عوام سے کیے گئے وعدے ضرور پورے کریں گے۔اپنی زیر صدارت حکومت کے 100روز مکمل ہونے سے متعلق اہم اجلاس سے خطاب میں عمران خان کا مزید کہنا تھااہداف حاصل ،اصلاحات کے ثمرات جلد عوام تک پہنچائیں اور ملکی معیشت کو جلد پاؤں پر کھڑا کر ینگے۔اجلاس میں حکومت کی 100روزہ کارکردگی اور اہداف کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم کو سادگی و کفایت شعاری مہم اور نیا پاکستان ہاؤسنگ منصو بے پر پیش رفت سے متعلق بریف کیا گیا۔اسلام آباد میں ہونیوالے اجلاس میں ادارہ جاتی اصلاحات اقراء ٹاسک فورسز کی کارکردگی کا بھی جا ئزہ ، 100روزہ پلان کی تقریب کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے پہلے 100دنوں میں جن کاموں کا وعدہ کیا تھا، سچ تو یہ ہے کہ اکثر مکمل تو درکنار شروع بھی نہیں ہوسکے۔ پاکستانی سیاست میں سوچ بچار کے بعد وعدہ یا دعویٰ کرنے کا رواج نہیں ہے۔ سبھی سیاسی جماعتیں بشمول پاکستان تحریک انصاف جہاں بھی سیاسی مفاد دیکھیں گی،بلا تامل دعویٰ یا وعدہ داغ دیں گی یہ سوچے بغیر کہ اسے پورا کرنے کی کیا ترکیب ہو گی۔سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے دعوے ادھورے رہ جانے سے انہیں ملال نہیں ہوتا۔الیکشن مہم میں عمران خان نے دلکش وعدوں کی انتہا کر دی۔

عوام سے جنت کا وعدہ کر لیا۔ کرپشن کے نام پر اٹھائے گئے آندھی اور طوفان میں نواز شریف کی حکومت اڑتی چلی گئی۔ادارے آج بھی اداروں سے تعاون کے عہدوپیماں کر رہے ہیں۔ اخبارات میں جو لکھا جا رہا ہے وہ خبر ہے اور تاریخ وقت گزرنے کے بعد مورخ لکھتے ہیں۔ وہ راز ہائے اندرون خانہ سے پردے اٹھاتے ہیں۔ عمران خان نے عوام سے جنت کے جو وعدے کئے پورے ہونا تھے نہ ہوئے۔100 دن میں عمران حکومت کو کیا کرنا تھا، نہ تجربہ ہے نہ کام کرنے کا ذہن۔ اس لئے حکمت عملی یہ ہے کہ جیسے پہلے ن لیگ اور دیگر جماعتوں پر تنقید کرتے تھے، تقریریں کرتے تھے، الزام لگاتے تھے تو وہی کام کئے جاؤ۔ عوام کو دکھانے کے لئے ہے کیا جو دکھائیں۔حکومت جن ستونوں پر کھڑی ہے، ان پر ہی کھڑی ہے۔

سفارش کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے ٹرن کورٹ رکن رمیش کمار کو متروکہ املاک بورڈ کا چیئرمین لگایا جائے۔ نیب نے ساری اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا ہے۔سعودی عرب اور چین سے جو تھوڑا سا تعاون حاصل ہو رہا ہے وہ بھی جنرل باجوہ کے دوروں اور رابطوں کا نتیجہ ہے۔ متحدہ عرب امارات خود جانا پڑا، بظاہر تجربہ ناکام ہوا ۔اب نہ دکھانے کو کچھ ہے نہ بتلانے کو۔ اب سال مانگا جا رہا ہے۔ (ن ) لیگ کا شہباز گروپ اندر سے نہ ملا ہوتا تو کیا ہوتا۔ جناب نواز شریف نے خود کو دریا کے پانی کے حوالے کر دیا، موجوں کی مرضی جہاں لے کر چلی جائیں۔ جو بچنا ہو گا تو بچ جائیں گے۔ مریم نواز کا معاملہ پراسرار ہوتا جا رہا ہے۔ عجیب لیڈر ہیں، اتا پتہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔

loading...

حقیقتاً دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اوراس کے سربراہ نے جوش وخروش میں 100 دن ضائع کر دیئے۔کابینہ کا سر ہے نہ پیر، غالب پختونستان ہیاور ادھر ادھر کے وزیرجو چوروں، ڈاکوؤں کی گردان کے سہارے جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب فیصلہ کیا ہے کہ ہر مسئلے پر یوٹرن لیں گے۔ عوام کو بے وقوف بنائیں گے۔سب سے بڑا ظلم ہے کہ ریاست کی اتھارٹی اس قدر کم ہو گئی ہے کہ خوف آتا ہے۔ ایک اعلیٰ پولیس اہلکاراغواء ہوا اور افغانستان میں مارا گیا۔ ہم شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتے رہے عام آدمی کی کیا سکیورٹی ہے، ریاست کہاں کھڑی ہے۔

یہ کیسا اداروں کا باہمی تعاون ہے کہ ریاست لرزنے لگی ہے۔ سب کے خلاف فتوے آ گئے، کوئی ہمت نہ کر سکا۔اہم 100روز کا سنگ میل عبور کرنے پر حکومت کی کارکردگی کی پڑتال کرنے کی بجائے صرف یہ یاد دہانی ضروری ہیکہ طرزحکومت میں تبدیلی ، وفاقِ پاکستان کا استحکام معیشت کی بحالی، زرعی ترقی ،پانی کا حفظان، سماجی سہولتوں میں انقلاب اور پاکستان کی قومی سلامتی کا تحفظ بہت اہم ہے ۔پہلے 100دن کیلئے حکومت کی ان ترجیحات سے اختلاف ممکن نہیں مگر اس میں ایک ترجیح کا اضافہ کرلیں کہ عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔ فیصلے کرنیوالے بڑے لوگ عام آدمی کی مشکلات اور پریشانیوں کو نہیں سمجھتے کیونکہ ان کی اور عام آدمی کی دنیا الگ الگ ہے اور باہم رابطے کا کوئی واسطہ بھی موثر نہیں۔

جمہوریت کے نظام میں بڑے لوگ ووٹوں کیلئے عام آدمی کے پاس جاتے ہیں اور چونکہ غرض مند دیوانہ ہوتا ہے اس لیے انتخابات کے دنوں میں یہ لوگ عوام کے ساتھ بہت پیار محبت جتاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انتخابی امیدوار کی حیثیت سے عام آدمی کے پاس جانے والوں کو نہ اتنی فرصت ہوتی ہے کہ وہ اس زندگی اور اس کے مسائل کو سمجھ سکیں اور نہ ہی شاید خواہش ہوتی ہے۔ ہر دو طبقات میں اتنا وسیع فرق ہے کہ انتخابی نعروں سے پر نہیں کیا جا سکتا۔

کوئی ایسا طریقہ نکالنا ہو گا کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو عام آدمی کی مشکلات کا پتہ چل سکے اور ان مشکلات کے بارے وہ کچھ کر سکیں۔سیاست کے دعویدار تو بہت ہیں مگر ان محروم زندگیوں کو سمجھے بغیر سیاست ایک جھوٹے دعوے کے سوا کچھ نہیں۔ مسائل گوناں گوں ہیں ان سے نمٹنے کے حربے بھی متنوع ہو سکتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ بالائی سطح سے شروع کیا جائے اور پھر اس کے اثرات نیچے تک آئیں مگر بالائی سطح کی مہین گانٹھیں کھولنا دقت طلب کام ہے اس کے تکمیل پانے تک نچلی سطح کی آبادی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت صرف یہ اعلان کر کے خوش ہے کہ اس نے سابق حکومتوں کے 20 ہزار دِنوں سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی ہے،لیکن ایسی کارکردگی کہیں نظر تو آنی چاہئے،ملک میں چاروں طرف مایوسی کی جو فضا ہے ابھی تو وہ بھی نہیں چھٹ سکی، مہنگائی نے ستر سالہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ آئی ایم ایف نے ایک ڈالر کے مقابلے میں150روپے تک کم کرنے کی تجویز دی تھی، فی الحال یہ تجویز نہیں مانی گئی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں