پاکستانی میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار کیوں؟

صحافی صحافت
loading...

ایک زمانہ تھا جب پرانے صحافی یہ سوچا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب پاکستانی میڈیا تمام بندشوں سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بات کہنے کی بھی اجازت نہیں تھی اور یہاں تک کہ بات سننے تک کی بھی آزادی نہیں تھی۔ اس زمانے میں صحافی سڑکوں پر جلسے، جلوس اور مظاہرے کرتے تھے، ڈنڈے کھاتے تھے اور جیل کی قید بھی برداشت کرتے تھے۔ یہ سب کچھ اس ملک کے صحافیوں کے ساتھ دہائیوں تک ہوتا رہا۔ خدا خدا کرکے بزرگ صحافیوں کی وہ بات کسی حد تک سچ ثابت ہوئی کہ جب وہ کہتے تھے کہ ایک دن میڈیا آزاد ہوگا۔

ہمارے ملک میں ایک آمر نازل کیا گیا تھا اس کا نام تھا جنرل پرویز مشرف جو آجکل شدید علیل ہے اور دنیا بھر میں اپنے علاج معالجے میں مصروف ہے۔ سن دو ہزار میں فوجی جرنیل مشرف نے ایک دن ٹی وی چینلز کے لائسنس بانٹنا شروع کردیئے۔ جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ اس ملک میں جو چاہے ٹی وی چینل کا لائسنس لے سکتا ہے۔ سرمایہ داروں، امیرترین افراد نے لائسنس لے کر چینل کھولنا شروع کردیئے۔ اب ہر طرف چینلز کی بہار آگئی۔ پرکشش نوکریاں ملنا شروع ہوگئی۔ تجربہ کار صحافیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان لڑکے، لڑکیاں اور کھاتے پیتے خاندانوں کے افراد پاکستانی میڈیا انڈسٹری کا حصہ بن گئے۔
تجربہ کار صحافیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان صحافیوں نے اب سمجھنا شروع کردیا کہ یہ وہ صبح ہے جس کی کوئی شام نہیں ہوگی۔ لیکن ہر صبح کی ایک شام اور پھر رات بھی ہوتی ہے۔ نجی نیوز چینلز کی صبح سولہ برس تک قائم رہی۔ دو ہزار پندرہ یا سولہ میں الیکٹرانک میڈیا کے حالات خراب ہونا شروع ہوگئے۔ اب یہ حالات یہ ہیں کہ نیوز چینلز مالکان کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کریں؟ اس کا حل کھرب پتی مالکان نے یہ نکالا کہ صحافیوں کو نوکریوں سے نکالنا شروع کردیا۔ اب صحافیوں کو نکالا بھی جارہا ہے اور کچھ کی تنخواہیں بھی کم کی جارہی ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نوائے وقت گروپ کا نیوز چینل وقت مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں تمام دفاتر بند کردیئے گئے ہیں اور تمام صحافیوں کو ان کی نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے۔ بیچارے صحافی اس قدر بے بس ہیں کہ ان کی خبر نیوز چینلز پر نہیں چلتی اور وہ سوشل میڈیا کا سہارا لے کر اپنے حق میں آواز بلند کررہے ہیں۔

ان نیوز چینلز (نام نہاد پاکستانی میڈیا انڈسٹری) نے پندرہ سالوں کے دوران کھربوں روپے کمائے۔ برا وقت آیا تو نیوز چینلز مالکان نے صحافیوں کو ٹھڈے مار کر نوکریوں سے نکال دیا۔ نوکریوں سے نکالے جانے والے صحافی اب عمرانی حکومت اور مالکان کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور کوئی ان کی آواز نہیں سن رہا۔ صحافیوں کے ساتھ ساتھ اب تو عوام بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ کہاں گیا نیا پاکستان۔ وزیر اعظم ہاوس سے سنا ہے اس سوال کا جواب یہ مل رہا ہے کہ نیا پاکستان بھینس کے پیچھے کہیں گم ہوگیا ہے۔(جاری ہے)
اجمل شبیر

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں