چیف جسٹس ازخود نوٹس: اعظم سواتی سے جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب طلب

اعظم سواتی
loading...

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد تبادلہ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی سے جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔

اس پر چیف جسٹس نے رپورٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے اعظم سواتی کو قصوروار ٹھہرایا اور لکھا کہ اعظم سواتی نے غلط بیانی کرتے ہوئے اختیارات کا غلط استعمال کیا جبکہ ایک وفاقی وزیر کو خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ غریبوں اور کمزوروں کو کیسے دھمکیاں دی جاتی ہیں، میں نے جے آئی ٹی سے پوچھنا تھا کہ اگر کوئی مقدمہ بنتا ہے تو بتایا جائے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ 4 بجے تک اعظم سواتی کو عدالت بلالیتے ہیں، جس پر ان کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ وفاقی وزیر ویانا میں اٹامک انرجی کمیشن میں ہیں، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایسے وزیروں کو رکھا جاسکتا ہے، رپورٹ پر جواب دیں ہم 62 ون ایف کے تحت چارج فریم کریں گے۔

چیف جسٹس کے استفسار پر علی ظفر نے جواب دیا کہ وفاقی وزیر اعظم سواتی 3 دسمبر کو واپس آئیں گے، ان کی واپسی کے ایک ہفتے بعد تک جواب تیار ہوجائے گا، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ علی ظفر آپ کیا کر رہے ہیں یہ بہت اہم معاملہ ہے۔

اس پر علی ظفر نے کہا کہ رپورٹ پر جواب تیار کرنے میں وقت لگے گا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ وزیر کو اس دورے سے ہی واپس بلا لیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے عدالت میں موجود متاثرہ خاندان کے افراد کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ہم آپ کی عزت اور غیرت کے لیے لڑ رہے ہیں، آپ کی بیوی اور بیٹیاں حوالات میں رہیں، سنا ہے آپ نے صلح کرلی، آپ کیسے صلح کرسکتے ہیں؟ ہم ایسی صلح کو نہیں مانتے آپ کو یہ حق کس نے دیا۔

بعد ازاں عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعظم سواتی سے جواب طلب کرتے ہوئے فریقین کو رپورٹ کی نقل فراہم کرنے کا حکم دیا اور سماعت منگل (4 دسمبر) تک ملتوی کردی۔

جے آئی ٹی رپورٹ
عدالت میں پیش کی گئی جے آئی ٹی رپورٹ 5 جلد پر مشتمل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جھگڑے کے اگلے روز ایس پی آپریشن اور وزیر مملکت برائے داخلہ اعظم سواتی کے گھر گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس نے اس واقعے کی ایماندارنہ تفتیش نہیں کی، پولیس افسران نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، پولیس اعظم سواتی کے خاندان کے ساتھ مل گئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا کہ 30 اکتوبر کو مضروب نیاز علی کی ضمانت ہوگئی، اعظم سواتی کے بیٹے نے کہا کہ ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں، معاملہ راضی نامے سے حل کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نیاز علی نے بتایا کہ ان کے گھر جرگہ آیا تھا، بطور پختون وہ جرگے کو نہ نہیں کرسکے اور ملزمان کو معاف کردیا۔

عدالت میں جمع رپورٹ میں کہا گیا کہ اعظم سواتی کی اہلیہ نیاز علی کے گھر آئیں اور ان کے بچوں کے لیے کپڑے لے کر آئیں جبکہ نیاز علی کے خاندان کو رقم کی پیش کش کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ سب کچھ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بعد ہوا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سواتی خاندان کا موقف جھوٹ پر مبنی، بے بنیاد اور تضادات سے بھرپور ہے، بطور وفاقی وزیر اعظم سواتی سے خصوصی طور پر نرم رویہ اختیار کیا گیا۔

عدالت میں جمع رپورٹ میں بتایا گیا کہ اعظم سواتی نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور نیاز علی خاندان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مقدمے کی تفتیش پولیس کے جونیئر افسران نے کی، پولیس افسران نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ یہ عام نوعیت کا کیس تھا، اس لیے سنجیدہ نہیں لیا۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اعظم سواتی کے بیٹے کے زیر استعمال کلاشنکوف کا لائسنس نہیں تھا۔

آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا معاملہ
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے فارم ہاؤس میں داخل ہونے اور ان کے گارڈز کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں 2 خواتین سمیت 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔

اسی حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وزیر اعظم خان سواتی کا فون نہ اٹھانے پر آئی جی اسلام آباد کا مبینہ طور پر تبادلہ کیا گیا، جس پر سپریم کورٹ نے 29 اکتوبر کو نوٹس لیتے ہوئے آئی جی کے تبادلے کا نوٹی فکیشن معطل کردیا تھا۔

معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ‘سنا ہے کہ کسی وزیر کے کہنے پر آئی جی اسلام آباد کو ہٹایا گیا۔’

انہوں نے کہا تھا کہ قانون کی حکمرانی قائم رہے گی، ہم کسی سینیٹر، وزیر اور اس کے بیٹے کی وجہ سے اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں متاثرہ خاندان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے لے کر نیچے تک سب اس واقعے میں ملوث ہیں، ہم آئی جی کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکریہ کہ انہوں نے نوٹس لیا تھا۔

تاہم بعد ازاں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ متاثرہ خاندان اور وفاقی وزیر کے درمیان صلح ہوگئی۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں