چھپکلی کو مارنا ثواب ہے. جانیئے کیوں؟

چھپکلی عام طور پر ایک رینگنے والا جانور ہے جو عام طور پر ہم اپنے گھر کی چھتوں اور دیواروں پر دیکھ سکتے ہیں مگر اس کی بعض اقسام زہریلی ضرور ہوتی ہیں مگر عام طور پر گھروں میں پائی جانے والی چھپکلیاں زہریلی نہیں ہوتی ہیں البتہ ان کو دیکھ کر کراہیت کا احساس ضرور ہوتا ہے

عام طور پر تمام مسلمان گھرانوں کا یہ ماننا ہے کہ چھپکلی کو مارنا انتہائي ثواب کا کام ہے اور اگر ان کو نہ بھی مارا جاۓ تو اس کو گھر سے ضرور نکال دیا جانا چاہیۓ اس کی موجودگی منحوسیت کا سبب قرار دی جاتی ہے مگر اس بات سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ اس کو مارنے کا حکم مسلمانوں کو شرعی طور پر دیا گیا ہے

حضرت ابراہیم علیہ سلام اور چھپکلی

تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم کو اللہ کو ایک ماننے پر آگ میں ڈالنے کا حکم دیا تو اس وقت یہ واقعہ کرہ ارض کا ایک برا واقعہ تھا جس کا ذکر انسانوں کے علاوہ چرند پرند جن و انس سب کے درمیان ہوا اس موقعے پر ایک روایت کے مطابق جب چیونٹی اور چھپکلی کے درمیان اس واقعے کا ذکر ہوا تو چیونٹی نے حضرت ابراہیم کی حمایت کی جب کہ چھپکلی نے نمرود کو حق بجانب قرار دیا

ایک اور روایت کے مطابق جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈال دیا گیا اس موقع پر جب چھوٹے پرندے بھی اپنا استطاعت کے مطابق اپنی چونچ میں پانی بھر کر اس آگ میں ڈال رہے تھے تاکہ یہ آگ حضرت ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہو سکے اس موقعے پر یہی چھپکلی تھی جو کہ اس آگ کو اپنی سانسوں سے مذید بھڑکانے کی کوشش کر رہی تھی

احادیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطابق

عربی زبان میں چھپکلی کو وزغ کہا جاتا ہے جب اس کے حوالے سے ہمارے پیارے نبی سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام۔(صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا)

اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وزغ‘ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جلائی آگ میں پھونکیں مارتی تھی۔

ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا۔(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وزغ‘ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے ’فاسق“ قرار دیا ہے۔

ایک اور روایت کے مطابق ایک بار ایک صحابی فقیہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ ایک غلام عورت جب بی بی عائشہ کے گھر گئیں تو انہوں نے وہاں پر ایک نیزہ پڑا ہوا دیکھا انہوں نے بی بی عائشہ سے دریافت کیا کہ اس کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ چھپکلی کو مارنے کے لیۓ رکھا ہوا ہے کیوں کہ حضور اکرم نے بتایا ہے کہ جب سارے جانور خصرت ابراہیم کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے تب یہ چھپکلی واحد جانور تھی جس نے اس آگ کو بھڑکانے کی کوشش کی تھی

البتہ ایسی کوئی حدیث یا قرآنی آیت موجود نہیں ہے جس کے حوالے سے چھپکلی کو مارنے کے ثواب کا حکم دیا گیا ہو  یا پھر گھر میں اس کی موجودگی کو منحوس قرار دیا گیا ہو

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں