اسامہ بن لادن کی دوسری نسل کو عربی سے زیادہ اردواورپشتوپر عبورحاصل

ابیٹ آباد حملے کے بعد اسامہ کے بچوں اوران کے بچے وزیرستان اور ایران تتر بتر ہو گئے تھے،رپورٹ

عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ تنظیم کے بانی اور سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کی دوسری نسل میں اکثریت کو عربی زبان سے زیادہ اردو اور پشتو زبانیں بولنے پر زیادہ عبور حاصل ہے۔ یہ بچے روایتی افغان لباس کے عادی ہیں جب کہ اسامہ کی بیویوں نے روایتی سیاہ خلیجی برقعوں کو افغانی برقعوں سے تبدیل کر لیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسامہ نے اپنے بیٹے محمد کی شادی القاعدہ کے مصری شدت پسند رہ نما ابو حفص المصری کی بیٹی سے کی جب کہ اسامہ کے بیٹے سعد نے شادی کے لیے اپنے والد کے ایک سوڈانی ساتھی کی بیٹی کا انتخاب کیا۔ حمزہ بن لادن نے ابو محمد المصری کی بیٹی سے شادی کی جب کہ عثمان بن لادن نے تنظیم کے رہ نما سیف العدل کی بیٹی صفیہ کو اپنی دوسری بیوی بنانے کا فیصلہ کیا۔جہاں تک اسامہ کی بیٹیوں کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اسامہ نے خلیج کے عرف کا خیال رکھتے ہوئے کوشش کی کہ دامادوں کا انتخاب سعودی یا خلیجی مردوں میں سے ہی کیا جائے۔

یاد رہے کے اسامہ بن لادن کو 2011 میں ایبٹ آبادآپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ان کے بچے وزیرستان میں تتربتر ہوگئے تھے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں