مجھے سزا دینی ہے تومیرا نام این ایل سی، ای او بی آئی، رینٹل پاور پلانٹ کیس میں ڈال دیں، نواز شریف

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف
loading...

چیف جسٹس نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی  سے  ملاقات کے متعلق فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اس پر قائم رہنا چاہیے تھا۔ نواز شریف

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے، پیشی کے بعد نوازشریف نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی  سے  ملاقات کے متعلق فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اس پر قائم رہنا چاہیے تھا۔ نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ  اب وقت اور حالات وہ نہیں رہے ٗ پرویز مشرف کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑیگا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا اگر مجھے سزا دینی ہے تو میرا نام این ایل سی، ای او بی آئی، رینٹل پاور پلانٹ کیس میں ڈال کر اپنی خواہش پوری کرلیں ٗتمام کیس صرف ہمارے فیملی کاروبار کے ارد گرد گھوم رہا ہے ٗاثاثے اثاثے کر رہے ہیں، اگر کرپشن کا الزام لگایا ہے تو ثابت کریں۔

جمعہ کو احتساب عدالت کے کمرے میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ صرف حقیقت کی بات کر رہا ہوں کہ احتساب سب کا ہوگا اور ہر صورت ہوگا ٗاب وقت اور حالات وہ نہیں رہے، پرویز مشرف بیشک پیش نہ ہو مفرور رہے لیکن ایک دن آئے گا کہ انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی، جس پر تنقید کے بعد چیف جسٹس سے بات منسوب کی جا رہی ہے کہ انہوں نے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ فریادی کی فریاد سننا میرا کام ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں