اُف یہ چائے ۔۔۔

اُف یہ چائے
loading...

زونیرہ شبیر

پنڈیگھیب ، اٹک

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں چائے ہر گھر میں بنتی ہے  اور پاکستان میں بہت زیادہ پی جاتی ہے ۔ لیکن کچھ لوگ تو اتنی چائے پیتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے میں ان کے ساتھ ایک چائے کا ڈرم باندھ دوں ۔

صبح چائے ، دوپہر چائے ، شام چائے ، سردی میں چائے ، گرمی میں چائے ، کوئی دور سے مہمان آ گیا تب چائے ، کوئی محلے کی عورت آ گئی تب بھی چائے ، دوست آ گئی تو چائے ، بھائی دن بھر باہر پھرتا رہا مگر جب گھر لوٹا تو چائے ، بابا کام سے لوٹے تو چائے ، سر درد ہے تو چائے ، تھکاوٹ ہے تو چائے ، کام کرنا ہے تو چائے ، سبق پڑھنا ہے تو چائے ۔۔ اُف یہ چائے
چلو یہ سب تو چھوڑو کبھی کسی دوست سے بات کرتے ہوئے غلطی سے جو پوچھ لیا بہن کیا کر رہی ہو تو ” چائے “
کسی دوست کو جو گھر آنے کو بول دیا وہ ہاں ناں بعد میں کرے گی پہلے بولے گی ” چائے پلائے گی “
اُف یہ چائے ۔۔۔
کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جنہیں داد دینے کو دل کرتا ہے شدید گرمی میں پسینہ بہ رہا ہے لیکن بھئ چائے تو پینی ہی ہے ۔ تب میرا دل پھر سے کہتا ہے ” اُف یہ چائے “
بلکہ ایک بار تو کچھ یوں ہوا کہ میں حیران تو کیا پریشان ہی ہو گئی ۔ ہمارے گھر ایک آنٹی تشریف لے آئیں ۔ اس وقت گھر میں میں اکیلی تھی اور شدید گرمی کیساتھ لوڈشیڈنگ کا سما تھا ۔ دروازے کی بِل بجی میں نے پوچھا کون ؟
گرمی سے نڈھال ایک آنٹی کی آواز سنائی دی ۔
بیٹا دروازہ کھولو میں ہوں خالہ رشیدہ ۔
میں نے دروازہ کھولا کمرے میں بٹھایا ۔ پانی پلایا ۔
پھر شربت کا گلاس تھمایا انہوں نے ایسا جواب دیا کہ میرے رونگٹھے کھڑے ہو گئے ۔۔ کہنے لگیں
بیٹا ایک کپ چائے بنا دو یہ تو میں نہیں پی سکتی بہت تھک گئی ہوں ۔ میں لمحہ بھر رکی اور گلاس ٹیبل پر رکھ دیا ۔ کچھ ہی دیر میں چائے تیار تھی میں نے کپ میں ڈالی آنٹی کو دی ۔ آنٹی بڑے سکون اور اطمینان سے چائے پیتی جا رہی تھیں انہیں دیکھ دیکھ کر مجھے مزید گرمی ہونے لگی اور سوچنے لگی اتنی گرمی میں پسینے سے بھیگی آنٹی کیسے چائے پیتی جا رہی ہیں ۔ آخر میری چپ ٹوٹی تو میں نے پوچھا ۔۔
آنٹی آپ کو اتنا شدید پسینہ آ رہا ہے پھر بھی آپ چائے پی رہی ہیں ایسا کیوں ؟
بڑے سکون سے چائے کی سڑکی لگائی اور بولیں
بیٹا چائے کا وقت ہو گیا تھا ۔
میں حیرت سے دیکھنے لگی اور سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ کیسے لوگ ہیں گرمی سے نڈھال ہیں ، پسینے سے شرابور ہیں لیکن چائے تو پینی ہے صرف اس لیئے کے چائے کا وقت ہو گیا ہے ۔ میں انہیں یہ کہنا تو چاہتی تھی مگر خاموشی میں غنیمت جانی ۔ اور آخر اتنا کہ پائی اف یہ چائے اور اف یہ لوگ ۔
 کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں چائے اچھی چیز نہیں ہے لیکن مزے کی بات تو یہ ہے کہ پیتے وہ خود بھی ہیں ۔
ایک مرتبہ ایک انکل کے گھر جانے کا اتفاق ہوا وہاں بھی مہمانوں کے لیئے مطلب ہمارے لئے چائے کا اہتمام کیا گیا ۔ کہنے لگے
بیٹا چائے لو نا !
میں نے بتایا : نہیں شکریہ میں چائے نہیں پیتی۔
کہنے لگے
اچھا ۔۔ چلو اچھی بات ہے یہ کونسا اچھی چیز ہے ۔
میں نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا ۔
میں نے سوچا شائد انکل جی بھی چائے نہیں پیتے ہوں گے ۔ لیکن کچھ دیر بعد ہی میری عقل ٹھکانے آ گئی ۔ اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ہال میں موجود سبھی مہمانوں میں سب سے زیادہ بڑا کپ انکل جی کا ہی تھا ۔۔
تب میں نے پھر سے کہا ۔۔۔ پتہ ہے کیا کہا ؟ ۔۔۔ اُف یہ چائے ،اف یہ لوگ ۔
اور سب سے حیران کن بات تو یہ ہے اکثر میں نے دیکھا ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی تب تک فیڈر نہیں پیتے جب تک فیڈر میں تھوڑی سی چائے مکس نا کر دی جائے ۔
ایک مرتبہ اپنے ایک انکل کے گھر جانے کا اتفاق ہوا ۔
وہاں سب چائے پی رہے تھے تو ان کی چھوٹی بچی بار بار کچھ بول رہی تھی پتہ کرنے پر معلوم ہوا اسے دودھو چائے چاہیئے ۔۔
میں سوچ میں پڑ گئی کہ یا تو دودرھ ہوتا ہے یا پھر چائے ۔ اب یہ دودھو چائے کیا ہے ؟
خیر آنٹی اٹھیں فیڈر پکڑا آدھا فیڈر دودھ ڈالا اور آدھا چائے سے بھر دیا ۔ تب پتہ لگا یہ ہے دودھو چائے ۔ خیر بچی نے دو منٹ میں فیڈر خالی کر دیا ۔
تب بے ساختہ میرے منہ سے نکلا ۔۔ اُف یہ چائے ۔۔۔
مطلب کہ چائے نا ہو گئی جنت سے آیا کوئی مشروب ہو گیا ۔ مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آئی کہ لوگ اتنی چائے کیوں اور کیسے پی لیتے ہیں ؟ ۔۔ کیا آپکو پتہ ہے ؟

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  پروٹھوکھول ... قمر بخاری

اپنا تبصرہ بھیجیں