غیر مہذب پارلیمانی طرزِ عمل

پارلیمنٹ ہاؤس

سینٹ میں اپوزیشن نے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کے اپوزیشن کے بارے میں ریمارکس پر شدید احتجاج کیا اور قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں شدید تلخ کلامی ہوگئی۔

اپوزیشن ارکان نے وزیر اطلاعات کے سینٹ میں ایک ماہ تک داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے وزیر اطلاعات کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کردی ہے اور کہا کہ وزیر اطلاعات کے معافی نہ مانگنے کی صورت میں سینٹ کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر سخت ہنگامہ آرائی ہو چکی ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر وزیر نے معافی نہ مانگی تو پورے سیشن کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا جس پر فواد چودھری نے معذرت کر لی تھی اور بائیکاٹ کرنے والے ایوان میں واپس آ گئے تھے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ایک ذمہ دار وزیر نے گھٹیا زبان استعمال کی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کہنے والا گھٹیا ہے بلکہ ان کے کہے گئے الفاظ گھٹیا ہیں۔ مجرہ جہاں ہوتا ہے سب کو پتہ ہے سوشل میڈیا پر بھی آتا ہے کہیں تو ہم سکرین لگا کر دکھا دیں۔

وزیراطلاعات پورے ایوان سے معافی مانگیں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ وزیر اطلاعات معافی مانگیں ورنہ ہم واک آٹ کریں گے جس پر فواد چودھری نے اپنے الفاظ واپس لیے۔

سپیکر اسد قیصر نے غیر پارلیمانی الفاظ ایوان کی کارروائی سے حذف کرا دیے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اور جلسے کی تقریر میں فرق ہوتا ہے مقدس ایوان میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔

ویسے تو تقریر جہاں بھی کی جا رہی ہو الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے لیکن پارلیمنٹ کا ایوان ایسی جگہ ہے جہاں اس قسم کا اہتمام بدرجہ اتم ہونا چاہیئے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس ایوان کی تقدیس کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا اور کبھی ارکان اپنی تقریروں میں ایسے الفاظ استعمال کر دیتے ہیں جو شائستگی کے منافی ہوتے ہیں۔ اس پر بسا اوقات ہنگامہ آرائی بھی ہو جاتی ہے اور ایوان سے واک آؤٹ کے واقعات تو معمول بن چکے ہیں۔

چور ڈاکو جیسے غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال سے جہاں اشتعال پیدا ہوتا ہے وہاں جوابی طور پر بھی ایسے ہی برے القابات استعمال ہوتے ہیں جن سے نہ صرف تلخی بڑھتی ہے بلکہ ایوان کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر چور کو چور اور ڈاکو کو ڈاکو نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ اگر اس سلسلے کو منطقی طور پر آگے بڑھا کر مخالفین کو وہ سب کچھ کہا جانے لگے جو صریحاً غیر مہذب ہے تو پھر تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہ سلسلہ کہاں رکے گا۔ اگر محض مفروضوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر لوگوں میں القابات بانٹے گئے تو ان لوگوں کا ماضی و حال کا کردار بھی بے نقاب ہو گا جنہوں نے آج پارسائی کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں پر الزام تراشی کو معمول بنا لیا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ یہ سلسلہ یہیں روک دیا جائے اور سپیکر اسد قیصر کی یہ بات پلے باندھ لی جائے کہ جلسے اور ایوان کی تقریر میں فرق ہونا چاہیئے۔ ویسے شائستہ لوگ تو عوامی جلسوں میں بھی غیر شائستہ الفاظ سے پرہیز کرتے ہیں۔

loading...

پاکستان میں اداروں کی تباہی کی داستان طویل اور عشروں پر محیط ہے۔ ویسے بھی جمے جمائے ادارے نہ تو راتوں رات تباہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی تباہی کسی ایک شخص کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ پی آئی اے سمیت بہت سے قومی ادارے آج جس حال میں ہیں انہیں اس مقام تک پہنچانے میں کن کن لوگوں کا کیا کردار رہا، حکومت چاہے تو تباہی کی وجوہ بھی تلاش کرسکتی ہے اور اگر خلوصِ نیت سے کوششیں کی جائیں توان تباہ شدہ اداروں کو دوبارہ زندہ بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے طریقِ کار وہی اپنانا ہوگا جو ایسے حالات میں اپنایا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے دنیا بھر میں مثالیں موجود ہیں کہ تباہ شدہ ادارے کس طرح بحال کیے گئے۔ یہ کام عملًا کرنا پڑتا ہے۔ محض نعرہ بازی اور دوسروں پر الزام تراشی یا جوشیلی تقریروں سے اداروں کی بحالی نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔

جب پی آئی اے کی ڈھلوان کا سفر شروع ہوا تو کیا کسی نے اسے روکنے کی کوشش کی اور جس نے ایسی کوششوں کا آغاز کیا اس کے راستے میں بھی کیسے کیسے روڑے نہیں اٹکائے گئے۔ سٹیل مل میں تباہی و بربادی کا عمل کوئی ایک دن میں مکمل نہیں ہوگیا اور نہ ہی ریڈیو پاکستان موجودہ حالات تک چشم زدن میں پہنچ گیا۔ لیکن اس کا حل اگر اداروں کی بلڈنگیں اونے پونے کرائے پر دے کر نکالا گیا تو تباہی کا عمل مکمل ہوگا بحالی نہیں ہوگی۔

حکومت اگر ادارے بحال کرنا چاہتی ہے تو وہ مروج طریق کے تحت ہی بحال ہوں گے، بحالی کے لیے انہی اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ کاروں اور گائے بھینسوں کی نیلامیوں کی طرح کا کام نہیں۔ یہ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے لیے پہلا قدم بھی دانشمندی سے اٹھانا پڑتا ہے لیکن کوئی اقدام کیے بغیر دوسروں کو چور ڈاکو کہہ کر وقتی واہ واہ تو کروائی جاسکتی ہے لیکن اس طرح ادارے بحال نہیں کیے جاسکتے۔

ادارے اگر بحال کرنے ہیں تو پہلے ان کی تباہی کے اسباب تلاش کرنے ہوں گے اور پھر بحالی کا کام شروع کرنا ہوگا۔ الزام تراشی سے بحالی نہیں ہوسکتی البتہ اس کا نتیجہ اسمبلی میں غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کی صورت میں نکلتا ہے جس کا مظاہرہ قومی اسمبلی کے ایوان میں دیکھنے میں آیا۔ جوشِ جذبات کا اظہار جہاں بھی ہوگا وہاں ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوگی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہوش کو جوش پر غالب رکھا جائے۔ دوسروں کے بارے میں برے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں اور نہ کسی دوسرے کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ جواب میں ایسے ہی الفاظ کا استعمال کرے۔ اگر دوسروں کا احترام نہیں ہوگا تو دوسرے بھی آپ کا احترام نہیں کریں گے۔

نئی پارلیمان کا آغاز اچھی روایات سے ہونا چاہئیے۔ ہر رکن پارلیمنٹ کے اندر پارلیمانی زبان استعمال کرے۔ دوسروں کا احترام کرے اور اپنے وقار اور عزت کا خیال رکھے۔ کوشش کرنی چاہیئے کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس پر معذرت کرنی پڑے ورنہ اس پراگندہ ماحول کے منفی اثرات بہرحال حکومت کو ہی بھگتنے پڑیں گے۔

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں