ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ اور ہمارے قومی ادارے

ایف اے ٹی ایف

نظر عام پر آنے والی رپورٹوں کے مطابق وزیرخزانہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ، سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ، قومی احتساب بیورو ، نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی اور انسداد نارکوٹکس فورس سمیت تمام متعلقہ حکام کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ممکنہ شمولیت سے متعلق سنجیدہ معاملات سے نمٹنے میں کوئی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے حوالے سے کی گئی کاوشوں پرعالمی ماہرین کے سوالات کے تسلی بخش جواب دینے میں متعلقہ اداروں کی بظاہرناکامی پر بجا طور پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

صورت حال کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس کے پس منظر پر ایک نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے نگران عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو جون کے اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے میں ناکام رہنے والے ملکوں کی گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔جس کے بعد مئی کے تیسرے ہفتے میں حکومتی حلقوں نے بتایا کہ عالمی ادارے کے مطالبات کی تکمیل کیلئے حتمی ایکشن پلان تیار کرلیاگیا ہے۔

جولائی کے پہلے ہفتے میں ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے پیش کردہ سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گاجبکہ ایشیا پیسفک گروپ کے نو رکنی وفد نے پاکستان کے بارہ روزہ دورے کے پہلے دن پاکستان کے تین اداروں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور اینٹی نارکوٹکس فورس سے ایکشن پلان کے حوالے سے سوالات کیے۔اپنے دورے کے تیسرے دن گروپ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام آباد کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔گروپ کے ارکان نے قانونی فریم ورک نامکمل اور ادارہ جاتی انتظامات کو کمزور پایا اور انہوں نے غیر منافع بخش تنظیموں کی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال، بروکریج ہاوسز، کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹر ایکسچینج کمپنیوں اور کارپوریٹ اداروں کے عطیات کیلئے موجود نظام زیادہ مضبوط نہ ہونے پر خدشہ ظاہر کیا۔جبکہ اپنے بارہ روزہ دورے کے اختتام پر پیش کی گئی رپورٹ میں ایشیا پیسفک گروپ کے وفد نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کیلئے پاکستانی اقدمات کو بین الاقوامی معیارات کے تناظر میں غیر تسلی بخش قرار دیا۔رپورٹ میں قوانین، قواعد و ضوابط اور میکانزم میں خرابیوں اور اداروں کی خامیوں کا ذکر کیا اور کہا گیا ہے کہ اس رفتار سے کام کر کے پاکستان فنانشل ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر نہیں آسکتا۔

واضح رہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے جون میں کیے گئے سمجھوتے کے تحت پاکستان کو آئندہ برس ستمبر تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کیلئے ‘ایف اے ٹی ایف کے دس نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔اس سلسلے میں حکومت کو دہشت گرد تنظیموں اور مشتبہ دہشت گردوں کے مالی اثاثوں، خاندانی پس منظر اور دیگر معلومات مرتب کر کے اسے جنوری تک تمام اداروں کو فراہم کرنا ہے۔ اگر پاکستان ان اقدامات پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام رہا تو اس کا اندراج بلیک لسٹ میں کردیا جائے گا۔اس کے نتیجے میں جس تباہ کن صورت حال سے سابقہ پیش آئے گا وہ محتاج وضاحت نہیں،تاہم یہ امر ضرور وضاحت طلب ہے کہ وزیر خزانہ نے ایشیا پیسفک گروپ کی آمد سے پہلے متعلقہ اداروں اور حکام کو اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے چوکس کرنے کی کیا کوشش کی اور یہ کوشش کامیاب کیوں نہیں ہوئی۔ کم از کم اب گرے لسٹ سے ملک کو نکالنے کیلئے تمام مطلوبہ اقدامات کا کسی لیت و لعل کے بغیر عمل میں لایا جانا یقینی بنایا جانا چاہیے کیونکہ اب بھی یہ کام نہ ہوا تو قوم کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا ہوگا۔

بھارتی ثقافتی یلغار :موثر حکمت عملی کی ضرورت

پاکستانی ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرتے ہوئے بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کردی۔واضح رہے جولائی2017 میں لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کی جانب سے جاری بھارتی مواد پر پابندی کے اعلامیے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارتی مواد دکھانے کی اجازت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق ہائی کورٹ کا حکم معطل کرتے ہوئے بھارتی مواد دکھانے پرمکمل پابندی عائد کردی۔اس کے علاوہ بھارتی چینلزدکھانے والے ڈی ٹی ایچ باکسزکی فروخت پربھی سپریم کورٹ پابندی لگاچکی ہے اور اس سلسلے میں کارروائی کا آغاز کردیاگیاہے۔ایک اندازے کے مطابق ڈی ٹی ایچ باکس کی مد میں پاکستان سے سالانہ اربوں روپے بھارت جارہے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان پر بھارتی سنیما کی یلغار کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب دور درشن پر انڈین فلموں اور فلمی گانوں کی بھرمار ہوتی جن کی بڑھوتری میں پاکستان میں موجود بھارتی گماشتے اپنا کردار ادا کرتے۔ اس دور میں ہندو ثقافت کے رنگ ڈھنگ ہماری تہذیب وتمدن، کلچر اور ثقافت پر نمایاں ہونے لگے۔ دور درشن کی ثقافتی تباہ کاریوں میں اضافہ وی سی آر ٹیکنالوجی اور خواب غفلت میں پڑے ہمارے حکمرانوں اور متعلقہ اداروں نے کیا۔ اسی پر بس نہیں ہمارے آمر اور جمہوری حکمران بھارتی فنکاروں کے پرستار بھی پائے گئے۔ بھارتی اداکاروں، اداکاراؤں اور گلو کاروں کو خصوصی دعوت پر پاکستان بلا کر عزت افزائی کی جاتی رہی۔ان سے ذاتی دوستیاں بنائی اور نبھائی گئیں۔ پاکستان میں چینلز پر چینلز کھلنے لگے تو امید پیدا ہوئی کہ بھارتی ثقافت کا بھرپور مقابلہ کیا جائیگا۔

Spread the love
  • 8
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں