ہرلب پر داستان حسینؓ، ہردل میں غم حسینؓ

گلشن نبوت ﷺ کے ہرپھول اورہر کلی کی دینی اوردنیاوی خدمات کی وجہ سے ان کے دنیا اورآخرت میں اعلیٰ مدارج گوہر آبدار کی طرح چمکتے اورتاابد انسانیت کو اپنے اخلاق حسنہ عمل وکردار کی ایسی روشنی فراہم کرتے رہیں گے کہ اسی روحانی ضوفشانیوں میں مخلوق کو امن ، سلامتی بقاء اور اتحادویگانگت اوراچھی آخرت کا درس ملے گا شافع محشر حضورپرنور ﷺ کامبارک ارشاد ہے کہ دنیااورآخرت میں فلاح عزوشرف، وقار کے لیے قرآن وسنت اورمیری اہلبیتؓ کادامن پکڑو، امام المتقین، سیدالنساء، خاتون جنت، سیدالعابدین امرالمومنین ، سیدالشہداء کے پیارے پیارے اعزاز خالق کائنات ان کو عطا فرمائے جس پر کائنات کے ذرہ ذرہ کو فخر وانسباط ہے خاص کرہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے کہ ہمیں امت محمدی میں سے پید افرمایا جس کی خواہش پیغمبروں نے کی تھی محرم الحرام کامقدس مہینہ اپنے دامن میں عظیم ، اولوالعزم ہستی سرکار دوعالم ﷺ کے نواسہ سید الشہداء امام عالیٰ مقام حضرت حسینؓ کی عظیم شہادت آپؓ کے گھرانے کے نوجوان ، عزت مآب خواتین ، بچے اور آپؓ کے وفادار جانثار ساتھیوں کے صبر وتحمل ، جذبہ حریت حق گوئی وبیباکی جرات مند
شہادتوں کا فلسفہ نور کی روشنی کے ساتھ چمکتاموجود ہے
معرکہ کربلا حق وباطل کا معرکہ تھا۔ازل سے کفریہ طاقتیں مسلمانوں کے اتحاد، دین کی اقداراورشخصیات کے وقار کو نقصان پہنچانے کی مجرمانہ کوششیں کرتی آئی ہیں ۔یزید لعین کی قرآن وسنت کے خلاف عمل وکردار اورطاؤس ورباب اورظلم وستم ، ہوس اقتدار کی خبریں مسلسل مدینہ منورہ میں پہنچ رہی تھیں یزید لعین چاہتا تھا کہ میری بیت کی جائے جوکہ سراسر ناجائز تھی اوریہ اس کاحق بھی نہیں تھا مخلوق نواسۂ رسول ﷺ کے قدموں سے لپٹنا پسند کرتی تھی یزید لعین مخلوق کے بے پناہ محبت وانسیت جونواسۂ رسول سے تھی کب برداشت کرسکتا تھا اس نے ایک گھناؤنی ڈپلومیسی کے ذریعے امام عالیٰ مقام کو پیغام بھجوایا کہ آپ ﷺ کوفہ آجائیں لوگ آپؓ کے ہاتھ پر بیت کے لیے منتظر ہیں نواسۂ رسول جوجنت کے سردار کے اعزاز سے بارگاہ رسالت میں پہلے ہی سرفراز ہوچکے تھے کسی جاہ وحشمت اقتدار کی خواہش نہیں تھی سیدالنساء خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرااورامام المتقین امیر المومنین حضرت سیدنا علیؓ کے شہزادے جن سے خالق کائنات رسول اللہ ﷺ ملائکہ حوریں بے پناہ پیار کریں اورکائنات کاذرہ ذرہ آپ ؑ پر درود وسلام بھیجے ایسی بے مثال ہستی کے ساتھ یزید لعین نے جھوٹ بولا
، شہادت حسینؓ کے بعد مسلسل ہروقت ہرلمحہ کائنائتوں کی ہرجاندار ، بے جاندار شے شہادت حسینؓ پر فخر کرتی آرہی ہے درودوسلام بھیجتی آرہی ہے اوریزید ان کے لعنتی ساتھیوں پر تاابد نفرت اورلعنت بھیجتی رہے گی ۔ امام عالیٰ مقام نے حضرت جناب مسلم بن عقیلؓ کو اپنا سفیر بناکر بھیجا ۔ جنہوں نے بظاہر حالات کوموافق پایا ۔ لیکن یزید تاریخ کی گھناؤنی اورنامراد چال چل رہا تھا۔امام عالیٰ مقامؓ نے اپنے گھرانے کے جوان بچے اورعفت مآب خواتین کامختصر قافلہ لیا اورعازم سفرہوئے۔ یزیدنے حضرت مسلم بن عقیلؓ اوران کے ننھے منے شہزادوں کو شہید کردیا یزید کے ظلم کی شروعات ہوچکی تھیں۔ دریائے فرات پرسامنا ہوا حضرت حرؓ نے یزید کی امارت پر ٹھوکر ماری اورغلامی حسینؓ اختیار کرلی یہ یزید کے لیے بڑا جھٹکا تھا ۔ یزیدی افواج نے دریائے فرات کا پانی بند کردیاننھے قاسمؓ کے لیے پانی لینے گئے تو حضرت عباس علمدار کے بازو کاٹ دیئے گئے لیکن زمین وآسمان نے دیکھا کہ جناب غازی عباس علمدراؓ نے حق کا پرچم نیچے نہیں گرنے دیا جرات وجانثاری کی تاریخ رقم کردی بالآخر عابدبیمار حضرت جناب زین العابدینؓ جو بیمار تھے اوربی بی سیدہ زینب اور کچھ دوسری عفت مآب خواتین حکمت خداوندی کے تحت زندہ رہیں
امام عالیٰ مقامؓ نے سجدے میں سررکھ کر مولاکریم سے عرض کی مولا آپ خوش ہیں باطل کے نظریات کو قبول نہ کیااپنے نانا کے دین کی آبیاری اپنے خون، گھرانے کے معزز افراد اورجانثار غلاموں کی شہادتوں سے کی امام عالیٰ مقام کاسجدے کی حالت وہ سرمبارک کاٹ دیاگیا جسے حضور پاک ﷺ بوسہ دیتے تھے اس کرب وبلا کے معرکہ پر ہرچیز نے آنسو بہائے یزید اوراس کی طاقت کیاچیز تھی نواسۂ رسول اپنی مبارک انگلی سے اشارہ کردیتے تو یزید اوراس کے لشکر کاوہ حشر ہوتا کہ قیامت تک نشان نہ ملتا نواسۂ رسولؓ کے پاس جن وانس، چرند پرند کے گروہ حاضر ہوئے اورعرض کی آپ حکم کریں یزید اوراس کاوہ حشر کریں گے کہ یہ ایک عبرت اورتباہی کی داستان بن جائے گا لیکن امام عالیٰ مقام شرم وحیاہ، حلم وصبر اورامت میں اتحاد کے دائمی تھے۔ وہ اپنے ناناﷺ کے دین کونقصان نہیں پہنچنے دینا چاہتے تھے
شہادت حسینؓ کے بعد لٹے پٹے بھوکے پیاسے قافلہ حریت کو یزیدی دربارمیں پیش کیاگیا۔ نواسی رسول ﷺ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا، حضرت امام علیؓ کی شہزادی ،امام عالیٰ مقام حضرت حسینؓ اورسیدالعابدین امام حسنؓ کی پیاری پیاری اولوالعزم بہن نے یزید کے دربار میں حق گوئی اورجرات کاوہ خطاب کیاجس سے یزیدی دربار میں سناٹا چھاگیا یزید اور اس کے حواریوں کو کوئی جواب نہ آیا اور حضرت بی بی سیدہ زینبؓ کایہ جرات مند خطاب قیامت تک یزیدی قوتوں پر لرزہ طاری کرتارہے گا اورپیغام دیتا رہے گا کہ حق ہمیشہ غالب آتا رہے گا باطل فنا ہوتارہے گا
واقعہ کربلا کی سنگینی کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام زین العابدین کو ان کی حیات میں کسی نے کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا ایسے صبروقناعت پرکھربوں سلام واقعہ کربلا کوصدیاں بیت گئی ہیں لیکن شہادت حسینؓ ہرلمحہ تاابد گوہرآبدار کی طرح مخلوق کواپنی روشنی جس میں حق کی روشنی ہے دیتی رہے گی کہ باطل کو کبھی قبول نہ کرو شہادت حسین ؑ انسانیت پر بڑا عظیم احسان ہے آج دیکھا جائے توداخلی اورخارجی حالات بڑے گھمبیر ہیں مسلمانوں میں اتحاد کے لیے حکمران اسوہ شبیریؓ کی روشنی میں چلیں ، کشمیروفلسطین ، روہنگیاہ اور دوسری جگہوں پر ظلم وستم روکنے کے لیے نواسہ رسول کی شہادت کے فلسفہ کو سامنے رکھیں ہمیں زیادہ سے زیادہ درود وسلام آل نبی ﷺ پر بھیجنا چاہیے اپنے اسلاف کی روایات کودہراکر عظیم قوم بن سکتے ہیں باطل پر ٹھوکر پرٹھوکر مارو۔ حق کے لیے شہادت قبول کرو۔
Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں