’’ہیلمٹ کا استعمال ۔۔۔ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ‘‘

جب بھی پولیس ریونیو میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے ٹریفک پولیس ہیلمٹ کے استعمال کو ضروری قرار دیکر شہریوں کو تنگ کرکے ریونیو پورا کرلیتی ہے ،اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ،موت کا کوئی وقت مقرر نہیں انسان کو نہیں معلوم کہ اسے موت کب ،کس جگہ اور کیسے آئے گی ۔۔۔؟مگر ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ کے استعمال کو زندگی کی علامت اورموت سے بچاؤ قرار دیکر اس کے استعمال پر سختی سے عمل درآمد کروانا شروع کردیا ہے اور ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنے پر بھاری جرمانے کیے جارہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ٹریفک پولیس کو صرف اور صرف موٹر سائیکل سوار کے علاوہ کسی جگہ کوئی خلاف ورزی دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔بسوں ،ویگنوں میں اوور لوڈنگ پر پولیس اب تک خاموش ہے اورویگنوں میں ڈرائیور سیٹ کے پیچھے پھٹہ تو صرف ٹریفک پولیس کی منتھلی کیلئے لگایا گیا ہے ،اس پھٹہ پر چار اضافی سواریاں بھٹائی جاتی ہیں اور تین سیٹ پر چار چار ،ڈرائیور سیٹ کیساتھ دو سواریاں پولیس کو کبھی دکھائی نہیں دیتیں اور یہ کام ویگن سٹینڈ سے ہی شروع ہو جاتا ہے مگر ٹریفک پولیس منتھلی کی وجہ سے آنکھیں بند رکھتی ہے یا پھر ’’قانون اندھا ہوتا ہے ‘‘ کے مصداق پولیس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے
،حیران کن بات ہے کہ بسوں کی چھتوں پر موجود لوگ بسوں کے اندر جانوروں کی طرح ٹھونسی گئی سواریاں پولیس کو نظر نہیں آتیں ،موٹر سائیکل پر سواربغیر ہیلمٹ فوری نظر آتا ہے صرف اس لئے کہ ان کو قابو کرنا آسان ہے ،بسیں ،ویگنیں تو سیاست دانوں ،وڈھیروں اور رسہ گیروں کی ہوتی ہیں ان کا چالان اہلکاروں کے تبادلوں کا سبب بن سکتا ہے ،جب سے ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ کے استعمال پر سختی سے عملدرآمد کروانا شروع کیا اس وقت سے حادثات میں اضافہ بھی ہو گیا ،کیونکہ ہیلمٹ پہن کر سائیڈوں پر دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں باآسانی ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے موٹر سائیکل سوار کا سر تو پھٹنے سے بچ جاتا ہے مگر وہ ہیلمٹ کو بچابچا تے بازو و ٹانگیں تڑوا بیٹھتا ہے
،ہیلمٹ کے استعمال سے 1122کی سروس اور انکی ذمہ داریوں میں تقریباً سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور یہ بوجھ بلواسطہ سرکاری ہسپتالوں پر بھی بڑھ گیا ہے اس کیساتھ ساتھ ہیلمٹ کے استعمال کے بعد ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں بھی دن دوگنا رات چوگنا ترقی ہو رہی ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ اگرہیلمٹ نہ پہنا جائے تو پولیس چالان پر چالان کرکے عوام کولوٹ رہی ہے ۔۔۔دوسری طرف ہیلمٹ سوار ڈکیتی کی اور راہزنی کی وارداتیں کرکے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں ،تیسرا پولیس کی اسی سخت ترین کارروائی عوام کو ہیلمٹ فروخت کرنیوالے بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ،ٹریفک پولیس عوام پر ترس کھائیں اور ہیلمٹ کے استعمال کیلئے سختی کرنے کی بجائے رعایت دیں ،جو لوگ ہیلمٹ استعمال کرنا چاہیں وہ کریں اور جو نہ کرنا چاہیں ان کواجازت ہو،کم ازکم اس رعایت سے عوام ہیلمٹ فروخت کرنیوالوں کی زیادتیوں ،پولیس کی چیرہ دستیوں اورڈکیتی کی وارداتوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں اور حادثات میں واضع کمی بھی ہو جائیگی ۔
Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں