پاکستانی میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار کیوں؟ …… 2

صحافی صحافت
loading...

حصہ اول کیلئے کلک کریں: پاکستانی میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار کیوں؟….. 1

مالکان یہ کہتے ہیں کہ عمرانی حکومت ان کا گلہ گھونٹ رہی ہے۔ سرکاری اشتہارات بند کردیئے ہیں اور واجب الادا فنڈز ریلیز نہیں کررہی۔ اس لئے وہ نیوز چینلز میں کام کرنے والے صحافیوں کو نوکری سے نکالنے پر مجبور ہیں۔ نیوز چینلز مالکان اور حکومتی لڑائی میں بیچارے غریب صحافی برباد ہو رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ برہمن صحافی اب بھی محفوظ ہیں۔ اینکر پرسنز جو لاکھوں میں تنخواہیں لیتے ہیں انہیں نہیں نکالا جارہا ہے، بلکہ ٹیکنیشنز، این ایل ایز، پروڈیوسرز اور رپورٹرز وغیرہ کو ان کی نوکریوں سے فارغ کیا جارہا ہے۔ برہمن اینکرز کی صرف تھوڑی سی تنخواہ میں کمی کی جا رہی ہے۔ یہ کیا تماشا ہے؟ وہ جو بیس سے ساٹھ لاکھ تک تنخواہیں لے رہے ہیں، اگر معاشی بحران ہے تو سب سے پہلے وہ فارغ ہوں، نہ کہ این ایل ای جو بیچارہ بیس سے چالیس ہزار تک تنخواہ لیتا ہے؟ اس کا مطلب ہے دال میں کچھ کالا ہے اور کوئی ایسی بات ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔

کھرب پتی مالکان جب پرائیویٹ نیوز چینلز لا رہے تھے تو سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے فزیبیلیٹی رپورٹ بنائی تھی۔ کیا یہ سوچا تھا کہ حکومت نے اگر ہاتھ کھینچ لیا، سرکاری اسشتہارات بند کردیئے، فنڈز روک لئے تو بیک اپ پلان کیا ہوگا؟ پرائیویٹ نیوز چینل بنیادی طور پر ایک پرائیویٹ سیکٹر کا منصوبہ ہوتا ہے۔ پاکستانی میڈیا انڈسٹری ہے اورانڈسٹری بحران کا شکار ہو تو اس کے پاس منصوبہ بندی ہوتی ہے کہ آگے کیا کرنا ہے اور کیسے بحران سے نکلنا ہے؟ یہ تو کوئی اسٹرٹیجی نہیں کہ جب تک سرکاری اشتہارات ملیں گے، سرکار فنڈز دے گی ملازمین کو تنخواہیں ملتی رہیں گی اور جب یہ سب کچھ بند ہوجائے گا تو صحافیوں کو نوکریوں سے فارغ کردیا جائے گا؟

ایک رپورٹ کے مطابق عمرانی حکومت نے میڈیا نیوز چینلز کے چھ ارب فنڈز روکے ہوئے ہیں، دوسری رپورٹ کے مطابق پچاس سے ساٹھ ارب روپے کے فنڈز رکے ہوئے ہیں۔ فواد چوہدری صاحب کے مطابق موجودہ حکومت نے اب تک اکتالیس بلین کے فنڈز نجی نیوز چینلز، ڈیجیٹل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے لئے ریلیزکیے ہیں۔ فواد چوہدی کے مطابق جب پاناما کیس چل رہا تھا تو نواز حکومت نے نجی نیوز چینلز کو 15 ارب روپے کے اشتہارت دیے۔ اب عمرانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کے ڈیڈھ ارب کے فنڈز ریلیز کرنے جارہی ہے۔ جب کہ کہا یہ جارہا ہے کہ حقیقت میں حکومت کو بیس ارب روپے کے فنڈز ریلیز کرنے تھے۔

عمرانی حکومت کی طرف سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ سرکاری اشتہارات کا آڈٹ ہوگا۔ جس میں دیکھا جائے گا کہ کس نیوز چینل یا اخبار کو زیادہ نوازا گیا۔ عمرانی حکومت کے مطابق اب برابری کی سطح پر اشتہارات کی ڈسٹری بیوشن ہوگی اور یہ سب کچھ آڈٹ کے بعد ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا صرف اور صرف حکومتی انجیکشن پر چل رہا تھا؟ اور یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا میڈیا نیوز چینلز کی تمام ذمہ داری حکومت کی ہے؟ یہ تو کوئی بزنس ماڈل نہیں کہ حکومت فنڈز دے گی اور اس طرح صحافیوں کو تنخواہیں ملیں گی؟ جس ملک میں میڈیا کے بہت سارے مکروہ رنگ ہوں گے وہاں ایسا ہی ہوگا۔ یہاں پر ایک میڈیا ہے جو کمرشل مفادات پر چلتا ہے، دوسرا میڈیا ہے جسے رینٹل میڈیا کہا جاسکتا ہے۔ مطلب جس نے جتنے پیسے لگا دیے اسی کے لئے مہم چلائی جائے گی۔ ایک پرایویٹ میڈیا ہے جس کے مالکان بہت بڑے بزنس مین ہیں جو اپنے کاروباری مفادات کے مطابق اپنے نیوز چینلز کو چلاتے ہیں، یہی وہ نیوز چینلز ہیں جنہیں کنٹرول بھی کیا جاتا ہے، سنسر شپ بھی لگائی جاتی ہے۔

شاید حکومت کو سوشل میڈیا پسند آگیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنا موقف سوشل میڈیا اور ٹوئیٹر پر دیں گے اس لئے نیوز چینلز کو فنڈز اور اشتہارات دینے کی کیا ضرورت ہے؟ پاکستانی میڈیا مالکان اور صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اہم اقدامات کریں، پالیس ترتیب دیں۔ میڈیا کو اگر انڈسٹری بنایا ہے تو اس کو انڈسٹری کی طرح کم از کم ڈیل تو کیا جائے۔ یہ نہیں کہ گورنمنٹ فنڈنگ سے ہی پوری عمارت کھڑی کی جائے۔ ایسا ہوگا تو پھر حکومتی لائن اختیار کرنی پڑے گی۔ اب عمرانی حکومت اشتہارات اور فنڈز بند کر کے دباو ڈال رہی ہے، یہ ہتھیار بھی ان کے ہاتھ میں میڈیا مالکان اور صحافیوں نے دیا ہے۔
یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے اپنی طاقت اور اتھارٹی کو خود برباد کیا ہے؟ جب کچھ چینلز حکومت گرائیں گے اور کچھ چینلز حکومت بنائیں گے تو ایسا ہوگا جیسا اب ہورہا ہے؟ جب کسی خاص سیاسی جماعت یا کسی خاص نظریے کی پروموشن کے لئے چینلز استعمال ہوں گے تو ایسا ہوگا۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ جب ویور یہ کہہ ہے کہ فلاں چینل فلاں پارٹی کا سپورٹر ہے اور فلاں اینکر فلاں سیاسی جماعت کا نمائندہ ہے۔ اس کے علاوہ جو نئے بچے اور بچیاں الیکٹرانک میڈیا میں آئے ہیں اور انہیں اینکر بنا دیا گیا ہے، ٹریننگ نہیں کی گئی تو ایسا ہونا ہی تھا؟ میڈیا سلطنت ڈوبنی ہی تھی؟ کیا کبھی کسی نے کسی نیوز چینلز پر ڈاکومنٹریاں چلتی دیکھی ہیں؟ اس ملک میں پنتیس سے چالیس نیوز چینلز ہیں تمام پر ایک ہی طرح کی خبر چلتی ہے؟ کیا اس طرح سے نیوز چینلز کا ارتقا ممکن ہے؟
ان تمام وجوہات کی وجہ سے لوگ اب الیکٹرانک میڈیا کو چھوڑ رہے ہیں اور سوشل میڈیا کی طرف جا رہے ہیں۔ میڈیا بھی نقصان اور فائدے کے اصول پر چلتا ہے۔ پرافٹ کمانے کا بھی طریقہ کار ہے۔ جب تنخواہ پرافٹ سے ملے گی تو ہی ارتقا ہوگا، صرف فنڈز کی بنیاد پر میڈیا انڈسٹری پاکستان جیسے ملک میں بہت عرصہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ تمام نیوز چینلز کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹس اور مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹس کیا کررہے ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی سوچا؟ کیا بیس پچیس ہزار لینے والے این ایل ای یا رپورٹر کو نکالنے سے مسائل حل ہوجاتے ہیں؟ چالیس لاکھ لینے والا اینکر اے سی کمرے میں دولہے کی طرح بیٹھا جہالت پھیلائے جارہا ہے، اسے نہیں نکالا جاسکتا کیونکہ وہ تو میڈیا مالکان کے مفادات کا نمائندہ ہے جبکہ ڈی ایس این جی کا ٹیکنیشن جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے اسے نکال دیا جائے کیا یہ کوئی پالیسی ہے؟ یہ کس طرح کا بزنس ماڈل ہے؟
چالیس نیوز چینلز، ایک ہی موضوع، ایک ہر خبر، کیا ایسے میڈیا کا ارتقا ہوگا؟ ایسا ہوگا تو عوام سوشل میڈیا کی طرف رجوع کریں گے جہاں طرح طرح کے موضوعات اور خبروں پر تخلیقی گفتگو ہورہی ہوتی ہے۔ اب تو خبر بھی سب سے پہلے سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔ بہت سے میڈیائی مسائل کو میڈیا مالکان اور صحافیوں نے مل کر حل کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک چھوٹی سی معیشت ہے جہاں چالیس نیوز چینلز آن ائیر ہیں۔ اس کے لئے تخلیقی معاشی پالیسی ترتیب دینی ہوگی۔

Spread the love
  • 3
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں