جی 20 اجلاس محمد بن سلمان کے لیے بڑا سفارتی امتحان

محمد بن سلمان
loading...

بیونس آئرس: روس اور برطانیہ کے سربراہان مملکت معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی ولی عہد بن سلمان سے سوالات کرنے کےلیے تیار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گروپ 20 ممالک کے سربراہوں کا اجلاس آج سے ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں شروع ہوگا، جس میں دنیا کے امیر ترین ممالک کے سربراہوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ رواں برس منعقد ہونے والا جی 20 اجلاس ولی عہد محمد بن سلمان کےلیے سفارتی امتحان ہے، جس میں برطانیہ اور روس سمیت دیگر اراکین بھی ترک دارالحکومت میں صحافی جمال خاشقجی سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کا کہنا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد سے ملاقات کرکے خاشقجی قتل کیس سے متعلق واضح پیغام دیں گی۔

تھریسا مے کا کہنا ہے کہ آخر سفارت خانے میں کیا ہوا تھا اور بہیمانہ قتل کا ذمہ دار کون ہے، برطانیہ خاشقجی قتل کیس سے متعلق تحقیقات میں شفافیت چاہتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ رواں برس ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے باعث جی 20 اجلاس بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی طاقتیں امریکا اور چین کے درمیان جی 20 ممالک اجلاس کے درمیان تجارتی تنازع طے پانے کا امکان ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ دو بڑی تجارتی طاقتوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ حل ہونے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ چین پر عائد کیے گئے 200 ارب ڈالرز کے محصولات میں مزید اضافے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

امریکی صدر نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 267 ارب ڈالرز کے محصولات عائد کرنے کی دھمکی کی تھی۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاوس میں صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین معاہدے میں دلچسپی رکھتا تھا، وہ معاہدہ ہوگا یا نہیں مجھے نہیں پتہ لیکن مجھے معاہدہ پسند تھا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں