مسجد الحرام میں بانٹی جانی والی کھجوروں کے باغ کا مالک کون؟

سلیمان الراجحی ہیں جو سعودی عرب کا امیرترین باشندہ ہیں۔ الراجحی خاندان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس نے سعودی عرب میں واقع ایک ایسا کھجور کا باغ اللہ تعالیٰ کے نام پروقف کررکھا ہے جو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا کھجور کا باغ قرار پایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی بادشاہ کے حکم پر سکیورٹی فورسز نے سلیمان الراجحی کا بیٹا‘ ان کے وقف کردہ خیراتی اداروں کے نگران اور مکہ مکرمہ میں قائم الراجحی مسجد کے امام کو حراست میں لے کر بند کر دی تھا ۔

رپورٹ کے مطابق الراجحی خاندان کو دو سال قبل دنیا میں امیرترین شخصیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے امریکی فوربز میگزین نے دنیا کی امیرترین شخصیات میں شامل کیا تھا۔ ان کی دولت کا اندازہ 5.9ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔ سلیمان الراجحی نے اپریل 2017ءمیں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے وقف کردہ کھجور باغ کی آمدنی 60ارب ریال سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے اپنی بیویوں‘ بیٹیوں اور بیٹوں کو ان کی جائیداد میں سے ا ن کا حصہ دیا ہے تاہم ان سب نے تین سال سے بھی کم عرصے میں حصے میں ملنے والی جائیدادوں کو الراجحی وقف میں شامل کرتے ہوئے اللہ کے نام پر وقف کردیا۔

سعودی عرب کے علاقے قصیم میں دنیا کے سب سے بڑے کھجور باغ سے حاصل ہونے والی کھجوریں مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں افطاری کیلئے پہنچائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں قدرتی آفات‘ خانہ جنگی اور دیگر مصائب کے شکار ہونے والے متاثرین کیلئے بھی اس باغ کی وقف کھجوریں بھیجی جاتی ہیں جو سعودی عرب کے دنیا بھر میں واقع سفارتخانوں کے ذریعے تقسیم کئے جاتے ہیں۔ الراجحی خاندان کے افراد کی مالی بدعنوانی کے الزام میں حراست پر سعودی عرب میں عوامی سطح پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس تشویش کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔ عرب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الراجحی خاندان اور اس جیسے دیگر مخیر افراد اور خیراتی اداروں کے خلاف کرپشن کے الزامات لگانے اور انہیں حراست میں لئے جانے سے سعودی حکومت کے اس کریک ڈاﺅن کی اہمیت گر گئی ہے اور اسے اقتدار کی لڑائی اور مخالفین کو سائیڈلائن لگانا سمجھا جانے لگا ہے۔ الراجحی خاندان جو سالانہ اربوں ریال کی خیرات دیتا ہے‘ ملک میں متعدد بینکوں اور دنیا کے 110ممالک میں خیراتی ادارے چلاتا ہے ایسے خاندان کو کرپشن کی کیا ضرورت پڑے گی

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں