اعظم سواتی کی آئی جی اسلام آباد سے دو بار فون پر بات ہوئی

اعظم سواتی
loading...

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈٹیکنالوجی اعظم سواتی نے آئی جی اسلام آباد جان محمد سے دو بار ٹیلی فون پر بات چیت کی،جس کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد سے وفاقی وزیر نے دو بار بات کی ، آئی جی جان محمد کی ہدایت پر ایس ایس پی اسلام آباد نے اعظم سواتی سے ملاقات کی ۔

وفاقی وزیراعظم سواتی نے اپنے گزشتہ بیان میں یہ الزام لگایا تھا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد نے ان کا ٹیلی فون سننے سے انکار کیا اور بعد میں دوبارہ فون کرنے کی زحمت نہیں کی ،اسی موقف کو وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی دوہرایا تھا۔

آئی جی اسلام آباد جان محمد کے قریبی ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت کا ٹیلی فون نہ سننے کا مؤقف بالکل غلط ہے کیونکہ اعظم سواتی اور جان محمد کے درمیان دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا۔

اس رابطے کے بعد ہی ایس ایس پی اسلام آباد نے وفاقی وزیر کے گھر جاکر ان کے تحفظات سنے تھے ،اس دوران اعظم سواتی نے پیشکش کی کہ اگر متاثرہ خاندان خاموش رہے تو وہ ان کے خلاف دائر مقدمہ واپس لے لیں گے۔

قریبی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ آئی جی اسلام آباد پر منشیات کے بارے کارروائی نہ کرنے کا الزام درست نہیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیر اعظم سواتی کے فام ہاؤس کے ملازمین اور ایک غریب خاندان کے افراد کے درمیان گائے کے فام ہاؤس میں گھسنے کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد کے خلاف پہلے سے کافی شکایات تھیں، جمعرات کو قبائلی افراد کے جانور میرے فارم ہاؤس پر آئے تو ان لوگوں نے میرے ملازمین کو دھمکیاں دیں اور کلہاڑیوں سے ان پر حملہ بھی کیا۔
وفاقی وزیر اعظم سواتی نے اس معاملے کی شکایت وزیراعظم عمران خان سے کی اور پھر ان کی زبانی ہدایت پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل اور چیف سیکرٹری کو طلب کیا اور آئی جی کی برطرفی کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں