ضیا نے جونیجو کو وزیر اعظم کیوں بنایا… (سعیدہ عابدہ حسین)

ضیا الحق
loading...

میں راہداری میں چلتی ہوئی اپنی نشست پر آ گئی۔ راستے میں رک کر میں نے ایئر مارشل نور خان کو مبار کباد کہا جو میانوالی سے منتخب ہوئے اور مری سے منتخب ہونے والے خاقان عباسی کے ساتھ کھڑے تھے۔ دونوں مشہور ایئرمین تھے اور دلچسپ طور پر اب عوامی ایوان میں پہنچ گئے تھے۔
عابدہ بی بی، خاقان اور میں آپ سے بات کرنے آ ہی رہے تھے۔ خاقان ضیا الحق کا دوست ہے، جبکہ میں اسے خاطر میں نہیں لاتا، جیسا کہ آپ جانتی ہوں گی۔

میں خاقان سے کہہ رہا تھا کہ اگر کل ہم نے ضیا کے نامزد کردہ خواجہ صفدر کو بطور سپیکر قبول کر لیا تو ہم بے شرم مسنحروں جیسے لگیں گے اور ہماری حیثیت مجلس شوری کے نامزد افراد جیسی ہو گی جس کی صدارت ضیا خود کیا کرتا تھا۔ چنانچہ ہم بات کر رہے ہیں کہ کل الیکشن میں سپیکر کے لیے کسے امیدوار بنایا جائے، اور ہمیں آپ کا خیال آیا۔ چونکہ آپ واحد منتخب خاتون ہیں، اس لیے آ پ کا ضیا کے آدمی سے مقابلہ کرنا دنیا بھر میں نمایاں خبر بن جائے گا۔

شکریہ جناب، لیکن میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھنے میں بھی اراکین کی ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے زیادہ لوگ میرے حق میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ فخر امام صاحب کو ووٹ دے دیں۔ اور اگر ہمیں جنرل ضیا سے مقابلہ کرنا ہے تو آئیے سپیکر کا انتخاب جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو تب بھی ہر طرف شہ سرخیاں نظر آئیں گی۔

جی، اچھا خیال ہے، آیئے فخر امام صاحب سے بات کرتے ہیں، خاقان عباسی نے کہا۔ جب ہم فخر کے ساتھ کھڑے بات کر رہے تھے تو پتا چلا کہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے انور عزیز اور امیر حسین اور خواجہ صفدر کے علاقائی حریف بھی فخر سے یہی بات کر رہے تھے، جنہوں نے کہا کہ ہم نے دیگر ساتھیوں سے بات کی ہے اور چائے کے وقفے پر کیفے ٹیریا میں جمع ہو ں گے۔ تقریبا بیس اراکین۔ بشمول سندھ سے عبدالحمید جتوئی، بلوچستان سے میر احمد نواز بگٹی اور سوات سے فتح محمد خان۔ جو سب میرے والد کو جانتے تھے۔ ہمارے پاس آگئے۔

فیصلہ کیا گیا کہ فخر اگلے روز سپیکر کے الیکشن میں خواجہ صفدر کے خلاف کھڑے ہوں۔ قومی اسمبلی کے تمام اراکین، بشمول بیس خواتین اور پانچ اقلیتی اراکین جنہیں ہم نے آج منتخب کرنا تھا، سپیکر کے لیے خفیہ ووٹ ڈالتے۔ فخر نے رائے دی کہ ہم شام کو ہمارے اسلام آباد والے گھر میں ملیں، اور ہم میں سے ہر ایک چند اضافی اراکین کو بھی ساتھ لانے کی کوشش کرے۔ اس کے بعد اگلے روز ووت ڈالنے کے لیے ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ہم دونوں نے پیش بینی کر لی کہ جنرل ضیا کے لوگ ووٹ ڈالنے سے قبل منتخب اراکین پر دباو ڈالیں گے، اور ہم اپنا ساتھ دینے والوں کے بارے میں یقین کر لینا چاہتے تھے۔
جب خواتین اراکین اور اقلیتی اراکین کی نشستوں کے لیے ووٹنگ اختتام پذیر ہوئی اور انہون نے حلف اٹھا لیے تو تمام اراکین کو اطلاع دی گئی کہ انہیں ایوان صدر میں آنے کا کہا گیا ہے جہاں صدر، چیف مارشل لا ایڈمنسٹر یٹر ان سے خطاب کریں گے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم ایوان صدر کی عظیم الشان عمارت میں جا رہے تھے۔ حال ہی میں تکمیل کے بعد سے اس میں رہائش اختیار نہیں کی گئی تھی۔
ہم نے اسے بالکل بے کیف اور عملی لحاظ سے غیر موزوں عمارت پایا۔ ہم چارلفٹوں کے ذریعے وسیع و عریض مرکز ی ہال دے میں پہنچے۔ ایک بڑے ہال میں داخل ہونے کے بعد ہمیں کرسیوں کی طرف لے جایا گیا جن کی پشت پر ہمارے ناموں کی پرچیاں لگی تھیں۔ قابل پیش گوئی طور پر مجھے پہلی قطار میں فخر کے ساتھ بٹھایا گیا، لیکن ہم سے آگے الہی بخش سومرد تھے جو اس امید میں بہت خوش نظر آئے کہ انہیں وزیراعظم نامزد کیا جائے گا۔
جنرل ضیا پوری فوجی شا ن و شوکت کے ساتھ اندر آئے : تمغے، پٹی وغیرہ۔ ان کے پیچھے دو نوجوان معاونین تھے۔ وہ ہمارے سامنے ڈائس پر بیٹھے۔ قرآن پاک کی تلاوت کے فورا بعد ایئرمارشل نور خان کھڑے ہوئے اور جنرل ضیا کو مخاطب کر کے بولے۔ وقت آگیا ہے کہ آپ مارشل لا اٹھا لیں۔ نور خاں کا لہجہ نرم نہیں تھا۔
جناب، یقین رکھیں، میں ختم کردوں گا۔ لیکن پارلیمنٹ کو ٹھیک طرح سے اپنی راہ پر چلنے کی مہلت دے دیں۔ اور اب، معزز اراکین، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وزیراعظم پاکستان کے لیے میرے نامزد کردہ شخص کی تائید کریں۔ محتاط غور و فکر کے بعد میں نے محمد خان جونیجو کا فیصلہ کیا ہے جو بہت عمدہ شخص ہیں اور سندھی ہونے کے باوجود اتنے اچھے آدمی ہیں کہ انہوں نے صرف ایک شادی کی۔
ہر کوئی ششدر رہ گیا، کیونکہ افواہ تھی کہ انہوں نے الہی بخش سو موو کے نام کا فیصلہ کیا تھا۔ بے چارے سومرو منہ لٹک گیا۔ ایئرمارشل نور خان کھڑے ہوئے اور وہاں سے جانے لگے۔ جنرل ضیا بھی کھڑے ہو گئے اور متعد د اراکین ان کی جانب بڑھے، جبکہ کچھ ایک جو نیجو کے پاس بھی گئے۔ ہم الہی بخش کے ہمراہ ہاں سے روانہ ہوئے۔

Spread the love
  • 9
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں