امریکہ کا بڑھاپا اچھا گزرے گا

امریکہ

افغانستان کی بولی لگانے والوں میں پاکستان، بھارت، چین، روس، ایران صفِ اول میں ہیں۔ طالبان کا نام میں نے بولی لگانے والوں میں اس لیے شامل نہیں کیا۔

کیونکہ علاقائی بولی بازوں کے درمیان امریکی افغان ترکے کے لیے چھینا جھپٹی کا جو اگلا دور شروع ہونے والا ہے اس میں طالبان ایک فیصلہ کن عنصر نہیں ہوں گے بلکہ بطور ہتھیار استعمال ہوں گے۔ یہ تاثر درست نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت سے زیادہ بچھا ہوا عالمی امریکی قالین تیزی سے لپیٹ رہے ہیں۔

ان سے پہلے اوباما انتظامیہ اس کام کا آغاز کرچکی تھی جب اس نے اپنی پیشرو بش انتظامیہ کے عراق اور افغانستان میں پھیلائے ہوئے برداشت سے باہر جھمیلوں کو سیمٹنا  شروع کر دیا تھا۔

اوباما دور میں عراق سے امریکی فوجوں کا انخلا ہوا پھر افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں کو کم کرتے کرتے تیس ہزار پر لایا گیا۔اب ان کی تعداد چودہ ہزار ہے اور اگلے چند ماہ میں سات ہزار رہ جائے گی۔ شام سے دو ہزار امریکی فوجیوں کی سو دن میں واپسی کے اچانک اعلان اور افغانستان سے جزوی واپسی کے منصوبے پر ٹرمپ کو اپنی انتظامیہ کے اندر اور بیرونی اتحادیوں کی سطح پر سخت مزاحمت اور لے دے کا سامنا ہے۔

حالانکہ ٹرمپ کی جگہ کوئی بھی امریکی صدر ہوتا یہی فیصلے ہونے تھے۔ یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ امریکن مائنڈ کا فیصلہ ہے۔ بس اتنا ہے کہ کوئی اور صدر ٹرمپ کی نسبت یہی فیصلے شاید ذرا سلیقے سے کر لیتا۔امریکن مائنڈ کیا ہے؟ امریکہ اور باقی دنیا کے درمیان دو بڑے سمندر (بحرالکاہل اوربحر اوقیانوس) حائل ہیں۔

 جب سے امریکی ریاست ڈھائی سو برس قبل وجود میں آئی اس کے دو ہی بنیادی مفادات رہے۔ اول ہمسایہ ملک کینیڈا اور میکسیکو اس کے لیے مسائل پیدا نہ کریں اور دور کے ہمسائے یعنی جنوبی امریکہ کے ممالک بڑا بھائی تسلیم کرتے رہیں۔ دوسرا مفاد یہ ہے کہ امریکی مصنوعات باقی دنیا میں فروخت ہوں اور باقی دنیا امریکا کی بنیادی صنعتی ضروریات اپنے خام مال سے بلا رکاوٹ پوری کرتی رہے۔اس ضرورت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کو اہم مقامات اور خطوں میں نگراں چوکیاں بنانے کی ضرورت پڑی۔ کہیں براہِ راست تو کہیں بیرونی دوستوں کی مدد سے امریکی اقتصادی اور اقتصادیات کے بطن سے پھوٹنے والے سیاسی مفادات کا تحفظ کیا جاتا رہا۔ آج بھی امریکا کے یہی دو بنیادی مفادات ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کی دنیا میں مشرقِ وسطی امریکا کے لیے اس لیے اہم نہیں تھا کہ اسے اسرائیل کا وجود عزیز ہے بلکہ تیل کی مسلسل رسد کو بحفاظت اور یقینی بنانے کے لیے طفیلی حکومتوں اور اسرائیل کی شکل میں ایک قابلِ اعتماد چوکیدار کی ضرورت تھی۔ لہذا پچھلے پچھتر برس میں مشرقِ وسطیٰ کی جو شکل بنی وہ امریکا کے تیل مفادات کی جغرافیائی تصویر ہے۔ گزرے اکتوبر میں امریکہ اپنی تاریخ میں پہلی بار تیل کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہو چکا ہے بلکہ دو لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد بھی کر رہا ہے۔ لہذا آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطی میں امریکی دلچسپی رفتہ رفتہ اتنی ہی رہ جائے گی جو امریکہکے تجارتی جغرافیائی مفادات کے لیے ضروری ہو۔ اسرائیل چونکہ علاقے کی غالب و بالغ قوت بن چکا ہے لہذا امریکا کو اس خطے میں براہِ راست مستقل فوجی موجودگی کی زیادہ ضرورت نہیں۔

مزید پڑھیں: مذہبی آزادی:امریکہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکے– آج کل

جہاں تک افغانستان کا معاملہ ہے تو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کی دلچسپی محض اتنی ہے کہ افغانستان دوبارہ ایسی دہشت گردی کا اڈہ نہ بنے جو امریکی اندرونی و بیرونی مفادات کے لیے براہِ راست خطرہ ہو۔ یہی دلچسپی چین اور روس کو بھی لاحق ہے۔ لہذا امریکہ اگر افغانستان میں نہ بھی ہو تو اس کی صحت پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ پاکستان کی افغان سٹریجک ڈیپتھ کی خواہش علاقائی طاقتوں کے لیے بھلے دردِ سر ہو مگر امریکا کو اس خواہش سے اب فرق نہیں پڑتا۔

آزاد تجارت کا فلسفہ بھی جب تک امریکا کے مفاد میں تھا تب تک عزیز تھا۔ مگر اب چین آزاد تجارت کی نظریاتی مملکت کا نیا خلیفہ بن چکا ہے۔

چنانچہ امریکہ کی دلچسپی محض یہ ہے کہ اس کی مصنوعات فروخت ہوتی رہیں، اندرونِ ملک بے روزگاری بحران کی شکل نہ اختیار کرے اور بیرونی دنیا بالخصوص چین سے اس کا تجارتی خسارہ قابلِ برداشت حد میں رہے۔ جہاں تک چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کو ایک حد میں رکھنے کا معاملہ ہے تو اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ بحرالکاہل اور جنوبی چین میں اپنی علامتی فوجی موجودگی رکھے گا مگر چین کو اسٹرٹیجک اعتبار سے چیک کرنے کا کام ویتنام، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا اپنے اپنے علاقائی و جغرافیائی مفادات کے تناظر میں خود ہی کر لیں گے۔

امریکہ  پیچھے رہ کر ان کی جو مدد کر سکتا ہے کرے گا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اور کثیر المرکز دنیا کے ابھرنے کے نتیجے میں یورپ کو امریکہ کی اور امریکہ کو یورپ کی وہ ضرورت نہیں رہی جو کچھ عرصے پہلے تک تھی۔ لہذا یورپ سے سیاسی و اقتصادی تعلقات تو قائم رہیں گے کہ جن کی بنیاد مشترکہ اقدار و مفادات پر ہے مگر لو افئیر والی کہانی تمام ہوئی۔ لہذا امریکہ بدلی ہوئی دنیا میں ٹرمپ کی بدسلیقگی کے باوجود خود کو جس سلیقے سے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے سبب امید ہے کہ ماضی کی سپر پاورز کے برعکس امریکہ کا بڑھاپا اچھا ہی گزرے گا۔ البتہ بڑھکیں مارنے کی عادت برقرار رہے گی۔ اب اتنا تو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں