بس اسٹینڈ

فوبھا بائی

وہ بس اسٹینڈ کے پاس کھڑی اے روٹ والی بس کا انتظار کر رہی تھی‘ اس کے پاس کئی مرد کھڑے تھے، ان میں ایک اسے بہت بُری طرح گھور رہا تھا۔

اس کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ شخص برمے سے اس کے دل و دماغ میں چھید بنا رہا ہے۔ اس کی عمر یہی بیس بائیس برس کی ہو گی لیکن اس پختہ سالی کے باوجود وہ بہت گھبرا رہی تھی‘ جاڑوں کے دن تھے، پر اس کے باوجود اس نے کئی مرتبہ اپنی پیشانی سے پسینہ پوچھا اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کرے‘ بس سٹینڈ سے چلی جائے‘ کوئی تانگہ لے لے یا واپس اپنی سہیلی کے پاس چلی جائے۔

اس کی یہ سہیلی نئی نئی بنی تھی۔ ایک پارٹی میں ان کی ملاقات ہوئی اور وہ دونوں ایک دوسرے کی گرویدہ ہو گئیں۔ یہ پہلی بار تھی کہ وہ اپنی اس نئی سہیلی کے بُلاوے پر اس کے گھر آئی تھی۔ نوکر بیمار تھا مگر جب اس سہیلی نے اتنا اصرار کیا تھا تو وہ اکیلی ہی اس کے ہاں چلی گئی‘ دو گھنٹے میں گپ لڑاتی رہیں۔ یہ وقت بڑے مزے میں کٹا‘ اُس کی سہیلی جس کا نام شاہدہ تھا اس سے جاتے وقت کہا :

’’سلمیٰ! اب تمہاری شادی ہو جانی چاہیے‘‘

سلمیٰ شرما سی گئی‘ کیسی باتیں کرتی ہو شاہدہ۔ مجھے شادی نہیں کرانا ہے‘‘

’’تو کیا ساری عمر کنواری رہو گی‘‘

’’کنواری رہنے میں کیا حرج ہے‘‘

شاہدہ مسکرائی

’’میں بھی یہی کہا کرتی تھی۔ لیکن جب شادی ہو گئی تو دنیا کی تمام لذتیں مجھ پر آشکارا ہو گئیں۔ یہی تو عمر ہے جب آدمی پوری طرح شادی کی لطافتوں سے حظ اندوز ہو سکتا ہے۔ تم میرا کہا مانو۔ بس ایک دو مہینے کے اندر دلہن بن جاؤ۔ تمہارے ہاتھوں میں مہندی میں خود لگاؤں گی‘‘

’’’ہٹاؤ ‘ اس چھیڑ خانی کو‘‘

شاہدہ نے سلمیٰ کے گال پر ہلکی سی چپت لگائی

’’یہ چھیڑ خانی ہے؟۔ اگر یہ چھیڑ خوانی ہے تو ساری دنیا چھیڑ خانی ہے۔ مرداور عورت کا رشتہ بھی فضول ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم ایک ازلی اور ابدی رشتے سے منکر کیوں ہو؟۔ دیکھوں گی کہ تم مرد کے بغیر کیسے زندہ رہو گی۔ خدا کی قسم پاگل ہو جاؤ گی۔ پاگل !‘‘

’’اچھا ہے‘ جو پاگل ہو جاؤں۔ کیا پاگلوں کے لیے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ اتنے سارے پاگل ہیں‘ آخر وہ جوں توں جی ہی رہے ہیں‘‘

’’جوں توں جینے میں کیا مزا ہے‘ پیاری سلمیٰ۔ میں تم سے کہتی ہوں کہ جب سے میری شادی ہوئی ہے ‘ میری کایا ہی پلٹ گئی ہے۔ میرا خاوند بہت پیار کرنے والا ہے‘‘

’’کیا کام کرتے ہیں؟‘‘

’’مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ یہی ان کا کام ہے۔ ویسے اﷲ کا دیا بہت کچھ ہے۔ میرا ہاتھ انھوں نے کبھی تنگ ہونے نہیں دیا‘‘

سلمیٰ نے یوں محسوس کیا کہ اس کا دل تنگ ہو گیا ہے۔

’’شاہدہ مجھے تنگ نہ کرو‘ مجھے شادی نہیں کرنا ہے۔ مجھے مردوں سے نفرت ہے‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس ہے!‘‘

’’اب میں تم سے کیا کہوں۔ مردوں سے مجھے بھی نفرت تھی لیکن جب میری شادی ہوئی اور مجھ سے میرے خاوند نے پیار محبت کیا تو میں نے پہلی مرتبہ جانا کہ مرد‘ عورت کے لیے کتنا لازمی ہے‘‘

’’ہوا کرے۔ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں‘‘

شاہدہ ہنسی‘ سلمیٰ ! ایک دن تم ضرور اس بات کی قائل ہو جاؤ گی کہ مردعورت کے لیے لازمی ہے۔ اس کے بغیر وہ ایسی گاڑی ہے جس کے پہیے نہ ہوں۔ میری شادی کو ایک برس ہوا ہے‘ اس ایک برس میں مجھے جتنی مسرتیں اور راحتیں میرے خاوند نے پہنچائی ہیں‘ میں بیان نہیں کر سکتی۔ خدا کی قسم وہ فرشتہ ہے۔ فرشتہ‘ مجھ پر جان چھڑکتا ہے‘‘

سلمیٰ نے یہ سُن کر یوں محسوس کیا کہ جیسے اس کے سر پر فرشتوں کے پر پھڑپھڑا رہے ہیں۔ اس نے سوچنا شروع کیا کہ شاید مرد عورت کے لیے لازمی ہی ہو۔ لیکن فوراً بعد اس کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ اس کی عقل نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ مرد کی ضرورت ہی کیا ہے؟۔ کیا عورت اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ جیسا کہ شاہدہ نے اس کو بتایا تھا کہ اس کا شوہر بہت پیار کرنے والا ہے‘ بہت نیک خصلت ہے۔ لیکن اس سے یہ ثابت تو نہیں ہوتا کہ وہ شاہدہ کے لیے لازمی تھا۔ سلمیٰ حسین تھی‘ اُبھرا اُبھرا جوبن ‘ بھرے بھرے ہاتھ پاؤں‘ کشادہ پیشانی‘ گھٹنوں تک لمبے کالے بال‘ ستواں ناک اور اس کی پھننگ پر ایک تل۔ جب وہ اپنی سہیلی سے اجازت مانگ کر غسل خانے میں گئی تو اُس نے آئینے میں خود کو بڑے غور سے دیکھا اور اُسے بڑی اُلجھن محسوس ہوئی ‘ جب اس نے سوچا کہ آخر یہ جسم‘ یہ حسن‘ یہ ابھار کس لیے ہوتے ہیں۔ قدرت کی ساری کاریگری اکارت جا رہی ہے۔

’’گندم پیدا ہوتا ہے تو آدمی اس سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ اس کی جوانی بھی تو کسی کھیت میں اُگی تھی۔ اگر اسے کوئی کھائے گا نہیں تو گل سڑ نہیں جائے گی؟‘‘

مزید پڑھیں: برمی لڑکی

وہ بہت دیر تک غسل خانے میں آئینے کے سامنے سوچتی رہی‘ ا س کے ذہن میں اس کی سہیلی کی تمام باتیں گونج رہی تھیں۔ مرد‘ عورت کے لیے بہت ضروری ہے۔ ! اس کا خاوند اس سے بہت پیار کرتا ہے۔ وہ فرشتہ ہے۔ سلمیٰ نے ایک لمحے کے لیے محسوس کیا کہ اس کی شلوار اور اس کا دوپٹہ فرشتوں کے پَر بن گئے ہیں۔ وہ گھبرا گئی اور جلدی فارغ ہو کر باہر نکل آئی‘ باہر برآمدے میں مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں‘ سلمیٰ کو ایسا لگا کہ یہ بھی فرشتے ہیں جو بھیس بدل کر آئے ہیں۔ پھر جب اس کی سہیلی اپنی کوٹھی سے ملحقہ باغ میں اسے لے گئی اور وہاں اس نے چند تتلیاں دیکھیں تو وہ بھی اسے فرشتے دکھائی دیے۔ لیکن اُس نے کئی مرتبہ سوچا کہ ایسے رنگین اور ایسے ننھے منے فرشتے کیسے ہو سکتے ہیں۔ اسے بہت دیر تک فرشتے ہی فرشتے دکھائی دیتے رہے جو اس کے قریب آتے اس سے پیار کرتے‘ اس کا منہ چومتے‘ اس کے سینے پر ہاتھ پھیرتے‘ جس سے اس کو بڑی راحت ملتی لیکن ان فرشتوں کے ہاتھ بڑی تندہی سے ایک طرف جھٹک دیتی اور ان سے کہتی :

’’جاؤ۔ چلے جاؤ یہاں سے۔ تمہارا گھر تو آسمان پر ہے۔ یہاں کیا کرنے آئے ہو؟‘‘

وہ فرشتے اس سے کہتے

’’ہم فرشتے نہیں حضرتِ آدمؑ کی اولاد ہیں۔ وہی بزرگ جو جنت سے نکالے گئے تھے۔ پر ہم تمھیں پھر جنت میں پہنچا دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ چلو ہمارے ساتھ‘ وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں اور شہد کی بھی‘‘

سلمیٰ نے یوں محسوس کیا کہ اس کے سینے میں سے دودھ کے ننھے منے قطرے نکلنے شروع ہو گئے ہیں اور اس کے ہونٹ مٹھاس میں لپٹے ہوئے ہیں۔ شاہدہ ‘ اُس سے بار بار اپنے خاوند کی تعریف کرتی‘ اصل میں اُس کا مدعا یہ تھا کہ اس کے بھائی کے ساتھ سلمیٰ کا رشتہ قائم کر دے۔ مگر گھر پر یہ پہلی ملاقات تھی‘ اس لیے وہ کھل کے بات نہ کر سکی۔ بہرحال اس نے اشاروں کنایوں میں سلمیٰ پر یہ واضح کر دیا کہ اس کا خاوند جو بہت شریف اور محبت کرنے والا آدمی ہے اُس کا بھائی اُس سے بھی کہیں زیادہ شریف النفس ہے۔ سلمیٰ نے یہ اشارہ نہ سمجھا ‘ اس لیے کہ وہ بہت سادہ لوح تھی‘ اُس نے صرف اتنا کہہ دیا

’’آج کل کے زمانے میں شریف آدمیوں کا ملنا محال ہے۔ تم خوش قسمت ہو کہ تمھیں ایسا خاندان مل گیا جہاں ہر آدمی نیک اور شریف ہے‘‘

’’افسوس ہے کہ اس وقت میرے خاوند گھر میں موجود نہیں ورنہ میں تم سے انھیں ضرور ملاتی‘‘

’’کبھی پھر سہی۔ کیا کام کرتے ہیں‘‘

’’ہائے‘ انھیں کیا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لاکھوں روپے کی جائیداد ہے۔ مکانوں اور دکانوں سے کرایہ ہی ہر مہینے دو ہزار کے قریب وصول ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماشاء اﷲ زمینیں ہیں‘ وہاں کی آمدن الگ ہے۔ اناج کی کوئی دقّت نہیں۔ منوں گندم گھر میں پڑا رہتا ہے۔ چاول بھی۔ ہر قسم کی ترکاری بھی ہر وقت میسر ہو سکتی ہے۔ اﷲ کا بڑا فضل و کرم ہے۔ ان کا چھوٹا بھائی جو آج کل لندن میں ہے‘ زراعت کے متعلق جانے کیا سیکھ رہا ہے۔ ایک مہینے تک واپس آ رہا ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت ہے۔ تم اُسے دیکھو گی۔ تو۔ ‘‘

سلمیٰ نے گھبراتے ہوئے لہجے میں کہا

’’ہاں ‘ ہاں۔ جب وہ آئیں گے تو ان سے ملنے کا اتفاق ہو جائے گا‘‘

شاہدہ نے کہا

’’بڑا شریف لڑکا ہے۔ بالکل اپنے بڑے بھائی کی مانند‘‘

’’جی ہاں۔ ضرور ہو گا‘ آخر شریف خاندان سے تعلق ہے‘‘

’’وہ بس آنے ہی والا ہے۔ تم مجھے اپنی ایک تصویر دے دو‘‘

’’کیا کرو گی‘‘

’’بس شہد لگا کے چاٹا کروں گی‘‘

یہ کہہ کر شاہدہ نے سلمیٰ کا منہ چوم لیا‘ اور پھر اپنے خاوند کی تعریفیں شروع کر دیں۔ سلمیٰ تنگ آ گئی ‘ اُس نے تھوڑی دیر کے بعد کوئی بہانہ بنا کر رخصت چاہی اور بس اسٹینڈ پر پہنچ گئی‘ جہاں اسے

’’اے روٹ‘‘

کی بس پکڑنا تھی۔ وہ جب وہاں پہنچی تو ایک مرد نے اُسے بہت بُری نگاہوں سے گھورنا شروع کر دیا۔ وہ پریشان ہو گئی‘ جاڑوں کے دن تھے مگر اس نے کئی مرتبہ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔ اسٹینڈ پر ایک بس آئی‘ اس نے اس کا نمبر نہ دیکھا اور جب چند مسافر اُترے تو وہ فوراً اس میں سوار ہو گئی۔ وہ آدمی بھی اس بس میں داخل ہو گیا‘ اس کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ بس کے انجن میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی‘ جس کے باعث اسے رکنا پڑا‘ سب مسافروں سے کہہ دیا گیا کہ وہ اُتر جائیں کیونکہ کافی دیر تک یہ بس نہیں چل سکے گی۔ سلمیٰ نیچے اُتری تو وہ آدمی جو اُسے بہت بری طرح گھور رہا تھا وہ بھی اس کے ساتھ باہر نکلا۔ سڑک پر ایک کار جا رہی تھی اُس نے اس کے ڈرائیور کو آواز دی

’’امام دین‘‘

امام دین نے موٹر ایک دم روک لی۔ اس آدمی نے سلمیٰ کا ہاتھ پکڑا اور اس سے کہا : چلیے۔ یہ میری کار ہے۔ جہاں بھی آپ جانا چاہتی ہیں‘ آپ کو چھوڑ آؤں گا‘‘

سلمیٰ انکار نہ کر سکی‘ موٹر میں بیٹھ گئی‘ اُس کو ماڈل ٹاؤن جانا تھا مگر وہ اسے کہیں اور لے گیا۔ اور۔ ! سلمیٰ نے محسوس کیا کہ مرد واقعی عورت کے لیے لازم ہوتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا بہترین دن گزارا۔ گو اُس نے پہلے بہت حیل و حجت اور احتجاج کیا مگر اُس آدمی نے اسے رام کر ہی لیا۔ تین چار گھنٹوں کے بعد جب سلمیٰ نے اُس شخص کا بٹوہ کھول کر یونہی دیکھا تو اُس میں ایک طرف شاہدہ کا فوٹو تھا۔ اُس نے ہچکچاہٹ کے ساتھ پوچھا :

’’یہ۔ یہ۔ عورت کون ہے؟‘‘

’’اُس شخص نے جواب دیا:

’’میری بیوی‘‘

سلمیٰ کے حلق سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی‘ آپ کی بیوی؟‘‘

شاہدہ کا خاوند مسکرایا

’’کیا مردوں کی بیویاں نہیں ہوتیں؟‘‘

سعادت حسن منٹو

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں