قرآن پاک ہماری پوری زندگی کا نظام العمل

قرآن

قرآن پاک ہمارے مہربان رب کا بھیجا ہوا کلام ہے جس میں اس نے براہِ راست ہمیں مخاطب کیا ہے ۔ اس پیغام میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اس زمین پر جینے کا سلیقہ کیا ہے ، اپنوں کے ساتھ ، بیگانوں کے ساتھ ، سارے انسانوں کے ساتھ ہم کیسے رہیں ، لوگوں کے ساتھ ہمارے معاملات اور تعلقات کی نوعیت کیا ہو،خوداپنے رب کے ساتھ ہمارا کیا انداز ہو، اس نے ہم پر جو بے پنا ہ احسانات کئے ہیں ان کا شکر کیسے ادا کریں ، اس دنیا میں ہم ایک اچھی زندگی کیسے گزاریں ، کس طرح اپنے رب کو خوش رکھیں ، اس زندگی کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے ، اس کی خوشیاں ہم کیسے حاصل کریں ، اس کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا ، کن کاموں کو اختیار کرنا اورکن کاموں سے بچنا ہو گا وغیرہ ، یہ ساری باتیں نہایت تفصیل سے ہمارے رب نے قرآن پاک میں بتادی ہیں۔

مختصر لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک ہماری پوری زندگی کا نظام العمل یا عملی پروگرام ہے کو رب العالمین نے اپنے محبوبؐ کے ذریعے ہمارے لئے بناکر بھیجا ہے ۔ اس پروگرام کی پیروی پر ہی ہماری کامیابی کا انحصار ہے ، ہماری ساری خوشیاں اور ساری ترقیاں اسی سے وابستہ ہیں ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے توقرآن پاک کا پڑھنا ، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہمارے لئے از حد ناگزیرہے ۔ اسی لئے ہمارے نبی محمد ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو قرآن پاک سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں ۔ ‘‘

آپ ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلندی عطاکرتاہے اور کچھ دوسرے لوگو ں کو پستی میں پھینک دیتاہے ۔ ظاہر ہے بلندی انہیں عطاہوتی ہے جو اس کتاب کو سینے سے لگاتے ہیں ، اسے پنے دل میں بساتے ہیں۔ اس کے برعکس پستی میں وہ گرتے ہیں جو کتابِ الہٰی کی ناقدری اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، جو جہالت کی تاریکی میں بھٹکتے اور من مانے طریقے سے زندگی گزارتے ہیں ۔ اس طر ح خود بھی نقصان اٹھاتے ہیں ،
دوسروں کو بھی پہنچاتے ہیں ، خود بھی تباہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی تباہ کرتے ہیں ۔

اگرہم اللہ اور رسول ؐ کی نگاہ میں اچھا انسان بننا چاہتے ہیں اور دنیاوآخرت کی بلندیاں اور کامرانیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ قرآن پاک کو ذوق وشوق سے پڑھیں ، اچھی طرح سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو گزاریں اور اپنی سیرت کو سنواریں ۔ اس کے لئے ہمیں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ہوگا: سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ ہم قرآن پاک کو ایک عظیم بلکہ سب سے عظیم کلام سمجھیں ، ہم یہ سمجھیں کہ اس صفحہ ہستی پر کوئی ایسی کتاب نہیں جو اس کتاب کی جگہ لے سکتی ہو اور اس سے ہمیں بے نیاز کر سکتی ہو۔

قرآن پاک ہمیں دنیا کی تمام کتابوں سے بے نیاز کر سکتا ہے مگر دنیا کی کوئی کتاب ہمیں قرآن پاک سے بے نیا ز نہیں کر سکتی ۔ دنیا اور آخرت کی ساری کامرانیاں اور تمام بلندیاں اسی کتاب سے وابستہ ہیں ۔ جب تک امتِ مسلمہ اس کتاب سے وابستہ رہی ، دنیا کی تمام قوموں میں سر بلند رہی ، عزت و سطوت اور اقبال مندی اس پر سایہ فگن رہی اور وہ زندگی کے ہر میدان میں دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:- بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کرو …….

مگر جب اس نے قرآن مجید کی طرف پیٹھ کر لی اور خدائی علم کے بجائے انسانی علوم کو اپنی توجہات کا مرکز بنا لیا ، جب اس کی زندگی کے تمام شعبوں سے قرآن پاک کے احکا م سے غفلت ہوئی اور یکسر جاہلی علوم اس کے دل و دماغ پر چھاگئے اور وہی اس کی تہذیب و تمدن کی اساس بن گئے تو ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم دے مارا ۔ کتاب الٰہی کی یہ عظمت و حیثیت اچھی طرح ہمارے دل و دماغ میں جاگزیں رہنی چاہئے تاکہ ہم اسے اپنی زندگی میں وہ مقام دے سکیں جس کی وہ حقدار ہے ، اور تاکہ اس غلطی کی تلافی کر سکیں جو ہمارے اگلوں سے سر زد ہو چکی اور جس کا خمیازہ بعد کی نسلوں نے بھگتااور آج تک بھگت رہی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن پاک کو نہ اجر و ثواب کی نیت سے پڑھا جائے نہ حصو ل برکت کی نیت سے ، بلکہ ہمیشہ اس نیت سے پڑھا جائے جس نیت سے اللہ کے رسول ؐ اور صحابہ کرامؓ پڑھتے تھے ۔ صحابہ کرامؓ قرآن پاک کو ہمیشہ اس جذبے سے پڑھتے تھے کہ اس کی ایک ایک ہدایت کو اپنے اندر جذب کرلیں۔

چنانچہ روایتوں میں آتا ہے وہ ایک بار میں بہت سا قرآن جان لینے کی کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ نبی ؐ سے ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دس آیتیں پڑھتے تھے ۔ جب ان دس آیتوں کو اچھی طرح اپنے دل و دماغ میں جذب کر لیتے اور اپنی سیرت و کردار میں انہیں سجا لیتے تب وہ آپ ؐ سے دوسری دس آیتیں سیکھتے اور عمل دہراتے ۔ صحابۂ کرامؓ قرآن پاک کو اسی طرح پڑھتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے ’’ نور ‘‘ کہا ہے ، یہ نور ہمارے پاس اس لئے آیا تاکہ ہمارے دل و دماغ کو منور اور ہماری زندگیوں کو روشن کردے۔

صحابہؓ کے ہاں اجروثواب کی نیت سے یا حصول برکت کی نیت سے قرآن پاک پڑھنے کا رواج کبھی نہیں رہا ۔ یہ رواج مسلمانوں میں اس وقت شروع ہوا جب قرآن پاک پر عمل کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو بدلنے اور سنوانے کا جذبہ مفقود ہوگیا ، جب ان کے اندر سے یہ شعور ختم ہو گیا کہ اللہ نے ہمیں اس کتاب کا امین بنایا ہے تاکہ اس امانت کو دوسروں تک پہنچائیں ، اس کے علوم کو ساری دنیا میں تقسیم کریں اور اس کی روشنی سے سارے جہانوں کو روشن کریں ۔ صرف اجر و ثواب یا حصول برکت کی نیت سے قرآن پاک پڑھنے کا مطلب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتاکہ ہم قرآن پاک کی اہمیت اور اس کی عظمت کو سمجھا نہیں ، ہم نے اس مقصد کو ہی نہیں سمجھا جس کے لئے ہمارے رب نے یہ قرآن نازل فرمایا ہے ۔ یہ قرآن تو ایسی کتاب ہے جسے کوئی سمجھ کے پڑ ھ لے تو اس کی آنکھوں کی نیند اڑجائے اور دل کا سکو ن جاتا رہے ، وہ غفلت و سرمستی کی خانقاہوں سے نکل کر جہدوعمل کے میدانوں میں آکھڑا ہو اور ہر اس پہاڑ سے ٹکرا جانے کے لئے بے چین ہو جائے جو اس قرآنی مشن کے لئے سد راہ ہو۔

اگر ہم اجروثواب کے خواہاں اور رحمت کے متمنی ہیں تو وہ اجروثواب اور وہ رحمت و برکت قرآن پاک کے الفاث میں نہیں بلکہ اس مشن اوراس نظام میں جس کی طرف قرآن پاک دعوت دیتا ہے ۔ اسی مشن کوعام کرنے اور اسی نظام کو قائم کرنے کی راہ میں ہمارے ہادی اور رہبر حضرت محمد مصطفی ﷺ طائف کی گلیوں میں لہو لہان کئے گئے ، اسی نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد میں بدروحنین کے معرکے کے برپا ہوئے اور پھر بعد میں اسی مشن کو عام کرنے اور اسی نظام کو قائم کرنے کی راہ میں جام شہادت کے اتنے دَور چلے اور جاں نثار انِ قرآن کے اتنے ہاتھ اور سر قلم ہوئے کہ انہیں شمار کرنا کسی بڑے سے بڑے حساب داں کے بس میں نہیں ۔بد قسمتی سے آج ہماری ساری توجہ رواں دواں یعنی دوڑتی بھاگتی قرآن خوانی پر ہوتی ہے ، اس کے معانی پر نہیں ،اس کے مشن پر نہیں ، اس کے نظام پر نہیں اور اس کے پیغام پر نہیں ۔ ہماری یہ حالت بڑی ہی عبرت ناک ہے۔

ہم اس حالت میں قرآن پاک سے کٹے ہوئے بھی نہیں ، اس سے جڑے ہوئے بھی نہیں ، اس کے دوست بھی نہیں اوراس کے دشمن بھی نہیں ! اپنی اس حالت پر چاہے ہم مطمئن ہو ں اور چاہے ہماری پوری مسلم قوم مطمئن ہو ،مگر خود قرآن مطمئن نہیں ۔ آج قرآن پاک ہمارے خلاف فریادی ہے ، وہ زبردست فریاد کر رہا ہے مگر افسوس کہ ہمارے پاس وہ کان نہیں جو اس کی فریاد کو سن سکیں ۔ دیکھئے ، ماہر القادری نے کس طرح قرآن کی فریاد کو قلمبند کیا ہے ۔

یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے
قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں
ایسے بھی ستایا جاتاہوں
کس بزم میں مجھ کو بار نہیں
کس عرس میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتاہوں ،
مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں

قرآن پاک کی کوئی آیت بلا سوچے سمجھے مت پڑھئے ۔ غور تدبر کے ساتھ ایک دو آیت پڑھنا ، اس پر ٹھہرنا ، اس سے اثر پزیر ہونا ، اس کی روشنی میں اپنا احتساب کرنا ، آئندہ کے لئے اپنے رب سے نیا عہدو میثاق کرنا اور اس سے عمل کی توفیق مانگنا ، بلاسوچے سمجھے پورا قرآن پاک پڑھنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بزرگ اسلاف ایک ایک آیت کو اتنی اتنی دیر تک پڑھتے رہتے تھے جتنی دیر میں کوئی پڑھنے والا پورا قرآن پاک پڑھ سکتا ہے ۔ حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات یہ آیت پڑھی : ( ترجمہ ) ’’ اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیر ے ( ہی ) بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی بڑا غالب حکمت والا ہے ۔ ‘‘ (سورہ مائدہ : 118) اسی آیت کو آپ ؐ نہایت رقت کے ساتھ رات بھر پڑھتے رہے ، بار بار دہراتے رہے ، یہاں تک کہ صبح ہوگئی !
حضرت عبادہ بن حمزہ ایک بزرگ تابعی ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کے گھر گیا ، دیکھا کہ وہ ایک آیت پڑھنے میں مشغول ہیں ، یہ وہ آیت تھے جو جنت میں جنتیوں کی زبان پر رواں ہوگی : ( ترجمہ ) ’’ پس اللہ نے ہم پر احسان فرما دیا اور ہمیں نارِ جہنم کے عذاب سے بچا لیا ۔ ‘‘ ( سورہ الطور: 27)
میں کچھ دیر کھڑا رہا ، وہ بار بار یہ آیت پڑھ رہی تھیں ،جہنم سے پنا ہ مانگ رہی تھیں اور جنت کی دعا کر رہی تھیں ۔ مجھے اندازہ ہوا ، یہ کیفیت جلدی ختم ہونے والی نہیں ، چنانچہ میں بازار چلاگیا ، وہاں جو کام تھا وہ کام کیا ، پھر واپس آیا تو دیکھا ، وہ ابھی تک اسی آیت میں مشغول ہیں ، بار بار آیت پڑھ رہی ہیں ، جہنم سے پنا ہ مانگ رہی ہیں اور جنت کی دعا کر رہی ہیں!

اسد الرحمن

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں