اسلامی نظریاتی کی غیر فعالیت اور جانبداری

اسلامی نظر یاتی کونسل

اسلامی نظر یاتی کونسل نے حکومت کی جانب سیحج کیلئے سبسڈی دینے کو جائز قرار دیدیا ہے۔ ریاست مدینہ کے خدو خال تیار کرنے کیلئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیدیا ہے۔ یہ فیصلے کونسل کے د وروزہ اجلاس میں کئے گئے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ شراب ممانعت کے بارے میں ایک خط موصول ہوا ہے کہ اسے ممنوع قرار دیا جائے اس حوالے سے تمام مذاہب کے رہنماؤں سے نکتہ نظر لیکر آئندہ ایجنڈا میں زیر بحث لائینگے۔

دریں اثناء وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہریار آفریدی نے بتایا ہے کہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے مقصد میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اشرافیہ کے لئے بنے ہوئے کلبوں میں ملازمین کو ہمراہ لے جانے کی پابندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹوئٹر پیغام کے مطابق یہ حکم مساوات قائم کرنے اور اور نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمہ کے لئے جاری کیا گیا ہے۔

یہ دونوں پیغامات اگرچہ دو مخلتلف شخصیات کی طرف سے مختلف تناظر میں سامنے آئے ہیں لیکن ان دونوں میں مدینہ ریاست کا قیام بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ شہریار آفریدی تو عمران خان کے دست راست اور وزیر مملکت برائے داخلہ امور ہیں۔ اس لئے انہیں حکومت کی ترجمانی کرنے اور تحریک انصاف کے ایجنڈے کے مطابق گفتگو کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ لیکن اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے ملک میں قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق بنوانے میں رہنمائی کے لئے قائم کیا گیا ہے۔

اس کے ارکان اور چئیر مین کو اگرچہ حکومت ہی نامزد کرتی ہے لیکن اس ادارے اور اس کے سربراہ سے غیر جانبدارانہ اور متوازن رائے دینے کی توقع کی جاتی ہے۔پاکستان کو اسلامی قوانین اور ان کے اطلاق کے حوالے سے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ ملک میں نماز پڑھنے سے لے کر زندگی کے دیگر معمولات تک میں سینکڑوں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس لئے قومی سطح پر قائم ایک دینی ادارے سے اسلامی احکامات کے بارے میں ابہام ختم کرنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی امید کی جاتی رہی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی افسوس سے نوٹ کی گئی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک نشست و برخواست کی مجلس تو بن گئی ہے لیکن اس نے ابھی تک ملک میں فکری ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے کوئی قابل قدر کردار ادا نہیں کیا ہے۔ ماضی میں یہ ادارہ کم عمر بچوں کی شادی کو اسلامی قرار دینے طلاق کے احکامات جیسے معاملات میں رائے زنی سے زیادہ کوئی خاص کام کرنے میں کامیاب نہیں ہا۔ ملک میں فرقہ واریت، اقلیتوں کے حقوق، فتوے بازی کے مزاج کی بیخ کنی اور دین کے نام پر نفرت اور مذہب کی آڑ میں انتشارکے پرچار کو روکنے کے لئے بھی اسلامی نظریاتی کونسل کوئی خاص اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ملک میں ضیا دور کی ترامیم کے بعد توہین مذہب کے قوانین بے گناہوں کے قتل کے علاوہ ناجائز سزائیں دینے کا سبب بھی بنتے رہے ہیں۔ یہ بات بھی بار بار سامنے آتی رہی ہے کہ ذاتی اختلاف، جائیداد ہتھیانے یا باہمی تنازعات کا بدلہ لینے کے لئے علاقے کے ملا اور پولیس کے ساتھ مل کر مخالفین کے خلاف توہین مذہب کی شقات کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن ملک کی مذہبی جماعتوں اور جید علما کی طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے ہمیشہ کان لپیٹے رکھے ہیں۔

توہین مذہب کے معاملہ کے علاوہ، دہشت گردی ہو یا دین کے نام پر قتل کرنے کی نعرے بازی، بات بے بات کفر کے فتوے جاری کرنے کا رویہ ہو یا حکومت، ریاست اور اس کے نظام عدل کو چیلنج کرنے کی تحریکیں، اسلامی نظریاتی کونسل اپنا آئینی اور دینی فریضہ ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اس کونسل نے کبھی حکومت کا حاشیہ بردار بننے کی براہ راست کوشش نہیں کی۔ اس کے چئیرمین اور اراکین اپنی مراعات سے استفادہ کرتے رہے لیکن بہر حال حکومت کی سیاست کا حصہ نہیں بنے۔ تاہم اب ریاست مدینہ کے قیام کے جوش میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ نے براہ راست سیاسی معاملہ میں حصہ دار بننے کا اعلان کیا ہے اور ریاست مدینہ کے خدوخال واضح کرنے کے لئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے سیاسی نعرے کے مطابق ریاست مدینہ کے نعرے کو زندہ رکھ سکے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کا یہ رویہ افسوسناک ہے اور اسے مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کونسل ملکی قوانین کا اسلامی فقہ کی روشنی میں جائزہ لینے اور ان میں مناسب ترامیم تجویز کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔ اگر یہ حکمران جماعت کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنے گی تو اس کونسل کی رہی سہی افادیت بھی جاتی رہے گی اور اسلام کے نام پر قائم اس ادارے کی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔عمران خان اور تحریک انصاف سیاسی ایجنڈے کے طور پر ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ خاص طور سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس نعرے کو شدت سے اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا واحدمقصد چور سیاست دانوں کو انجام تک پہنچانے کے نعرے کو تقویت دینا اور اپنے انتخابی وعدے کے مطابق عوام کی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکامی کی صورت میں ریاست مدینہ جیسے جذباتی نعرہ کے ذریعے سیاست گرم رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔

البتہ اس نعرے کا ایک دوسرا مقصد ملک میں شخصی آمرانہ نظام نافذ کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر مدینہ ریاست کے نعرہ کو کرپشن کے خلاف بیان بازی اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمہ اور صدارتی نظام کے مباحث کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف ملک سے متفقہ آئینی پارلیمانی نظام لپیٹنے کے نقطہ نظر سے ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ ورنہ آسانی سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 14 صدیوں میں دنیا کے متعدد حصوں پر مسلمان حکمران رہے ہیں لیکن ان میں کسی کو نہ تو مدینہ ریاست بحال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کبھی کسی کی طرح سیاس عزم کا اظہار کیا۔

اب اس کا نعرہ بلند کر کے عوام کو ایک بے مقصد خواب دکھانے کی افسوسناک کوشش کی جا رہی ہے۔ریاست مدینہ کا مبہم نعرہ سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ناکامی کی طرف بڑھتی کوئی بھی حکومت اسی قسم کے ہتھکنڈے اختیار کرتی ہے۔شہریار آفریدی کی طرف سے سرکاری کلبوں میں ذاتی ملازمین لے جانے کی نام نہاد پابندی ختم کرنے کا اعلان بھی اسی سیاسی شعبدہ بازی ہی کا حصہ ہے۔ ملک میں امتیازی رویوں کو ختم کرنے کے لئے وزیر اعظم کے ترجمان کو نجی ملازمین کی ضرورت پر زور دینے کی بجائے مخصوص کلبوں اور انتظامات کا طریقہ ختم کرنے کے لئے اقدام کرنا چاہئے تھا۔ یہ مقصد ملک میں جبری مشقت، کم سن بچوں کے کام اور ملازمین کے ساتھ ناانصافی کا کلچر ختم کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے قانون بنانے اور انہیں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں