فلم “کاف کنگنا ” سے عوام مایوس کیوں …..؟

فلم کاف کنگنا کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس فلم کے ڈائریکٹر خلیل الرحمان ہیں جنہوں نے پاکستان کی ٹیلیویژن انڈسٹری کو کافی اچھے ڈرامے دیے، انہوں نے ڈراموں کی طرح فلمی دنیا میں بھی سب کر ہٹ کر سوچا جیسے کے مارول اور ڈی سی فلم، یہ سب مختلف اور اپنی مثال آپ ہیں کہ ان فلموں میں سے حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس فلم میں پاکستانی اور مسلمان کا کردار علی مصطفی ( سمیع خان ) نے ادا کیا اس فلم میں انڈیا کی ہندو لڑکی گنگنا راتھوڑ کا کردار ( ایشال فیاض ) نے کیا۔ یہ دونوں بنگلہ دیش میں 16 دسمبر کو ہونے والے SAARC مقابلے میں ملتے ہے ۔

The Premise:

سارک ملکوں کے بہت سخت مقابلے میں علی مصطفی اور کنگنا فائنل میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں علی مصطفی سے کشمیر کے بارے میں سوال ہوتا ہے کہ  ” کشمیر انڈیا میں کب شامل ہوا ؟”۔ ایسا خلاف معمول سوال سن کر علی مصطفی چپ کر جاتا ہے لیکن کنگنا اسکا صحیح جواب دے کر ٹرافی اور لاہور کا سات دن کا ٹرپ جیت جاتی ہے۔

لاہور میں کنگنا اور علی مصطفی کے ساتھ ساتھ سیرو تفریح کے دوران انہیں پیار ہو جاتا ہے لیکن ٹرپ ختم ہونے پر کنگنا واپس انڈیا چلی جاتی ہے اب علی مصطفی دل سے مجبور دوبارہ انڈیا جا کر اسے واپس لانا چاہتا ہے ۔ ابھی کہانی میں ہیرو کا بلا اجازت انڈیا جانا، مشکلات کا سامنا کرنا وغیرہ جیسے ٹوئٹس ہے فلم کے کمزور سکرین پلے کے باوجود اسے ایک بہت معیاری فلم کہا جا سکتا ہے ۔

The Performances in Kaaf Kangana:

سمیع خان نے ایک سال میں اپنی تیسری فلم کاف کنگنا میی فلم رانگ نمبر 2 اور غم کی طرح زبردست کردار ادا کیا ۔ لیکن یہ کمزور کہانی اور ایشال فیاض کی واجبی ایکٹنگ اور نارمل میک اپ نے اچھا تاثر قائم نہ کیا ۔ سمیع خان کی ہمت کی داد دینا ہو گی کہ برے میک اپ کے باوجود ایشال کے ساتھ رومانس کیا ۔ ساجد حسن بھی انڈین لڑکی کنگنا کے والد کے کردار کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے ۔ عائشہ عمر نے مہمان اداکارہ کے باوجود اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن نیلم منیر کا آئٹم نمبر بالکل ہی وقت اور پیسوں کا ضیاع تھا کہ اسکی ضرورت نہ تھی۔

loading...

ہمایوں سعید کو اپنے ڈرامے ‘میرے پاس تم ہو’ میں اداکاری کرکے کیا محسوس ہوا …؟

Production Value:

پروڈکشن ڈیزائن انڈین صابن کے کمرشلز جیسا تھا۔ اکثر جگہوں پر بیگراونڈ بھی سین کے ڈائیلاگ سے میل جھول نہیں رکھتا تھا۔ فلم میں دیوالی کا سین بھی آرٹیفیشل لگا۔ نیلم کا ڈانس دیکھانے کے بجائے پورے گانے میں ڈائریکٹر کا فوکس نیلم کے چہرے پر تھا جیسے کے اسے ڈانس آتا ہی نا ہو ۔ گانوں کو 80s۔ 90s کے فلمی بیک گراؤنڈ کے ساتھ فلمایا گیا لیکن اپنا کچھ خاص تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے ۔

The Storyline is What Ultimately Fails the Film:

کمزور کہانی فلم کی ناکامی کا باعث بنتی ہے ۔ فلم کے سکرپٹ سید نور کی ” دیوانے تیرے پیار میں” کی نقل لگتا ہے کے ہیرو بغیر ویزہ کے دشمن کے ملک میں ہیروئن لینے چلا جاتا ہے ۔ فلم کا سب سے بڑی کمزروی کافی سین کی فنشنگ اچھی نہ کرنا ہے ۔ کنگنا کو پاکستان حکومت نے کنگنا کے والد کی جاب نیچر کی وجہ سے جلدی واپس بھیج دیا تھا لیکن فلم میں یہ بتایا نہیں گیا کہ اسکا والد کام کیا کرتا تھا ۔ بلکہ فلم کے اختتام پر بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے وہ واپس وہ پاکستان بھی آ جاتی ہے جس میں اسکی مدد انڈین سکھ فوجی بجرنگی کرتا ہے یہ کردار بھی اپنی چھاپ چھوڑنے میں ناکام رہا۔

The Verdict:

ڈائریکٹر خلیل الرحمان نے اچھی رومینٹک کہانی بنانے کی کوشش کی لیکن فلم کے درمیان میں انہوں نے انڈیا کی ثقافت اتنی زیادہ دکھائی جیسے یہ پاکستانی نہیں، انڈین فلم ہے ۔ کم از کم سینیما سے نکلنے کے بعد میں کافی مایوس تھا کے پاکستان ٹیلی ویژن تاریخ کو زبردست ڈرامے دینے والے خلیل الرحمان نے یہ کیا فضول فلم بنائی ۔

(Visited 207 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں