بسم اللہ

مائی نانکی

فلم بنانے کے سلسلے میں ظہیر سے سعید کی ملاقات ہوئی۔ سعید بہت متاثر ہوا۔ بمبئی میں اس نے ظہیر کو سنٹرل اسٹوڈیوز میں ایک دو مرتبہ دیکھا تھا اور شاید چند باتیں بھی کی تھیں مگر مفصل ملاقات پہلی مرتبہ لاہور میں ہوئی۔ لاہور میں یوں تو بے شمار فلم کمپنیاں تھیں مگر سعید کو اس تلخ حقیقت کا علم تھا کہ ان میں سے اکثر کا وجود صرف ان کے نام کے بورڈوں تک ہی محدود ہے۔ ظہیر نے جب اس کو اکرم کی معرفت بلایا تو اس کو سو فیصدی یقین تھا کہ ظہیر بھی دوسرے فلم پروڈیوسروں کی طرح کھوکھلا ہے جو لاکھوں کی باتیں کرتے ہیں۔ آفس قائم کرتے ہیں۔ کرائے پر فرنچیر لاتے ہیں اور آخر میں آس پاس کے ہوٹلوں کے بل مار کر بھاگ جاتے ہیں۔ ظہیر نے بڑی سادگی سے سعید کو بتایا کہ وہ کم سے کم سرمائے سے فلم بنانا چاہتا ہے۔ بمبئی میں وہ اسٹنٹ فلم بنانے والے ڈائریکٹر کا اسسٹنٹ تھا۔ پانچ برس تک وہ اس کے ماتحت کام کرتا رہا۔ اس کو خود فلم بنانے کا موقعہ ملنے ہی والا تھا کہ ہندوستان تقسیم ہو گیا اور اسے پاکستان آنا پڑا۔ یہاں وہ تقریباً ڈھائی سال بیکار رہا مگر اس دوران میں اس نے چند آدمی ایسے تیار کرلیے جو روپیہ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ اس نے سعید سے کہا

’’دیکھیے جناب میں کوئی فرسٹ کلاس فلم بنانا نہیں چاہتا۔ کم فلم آدمی ہوں۔ اسٹنٹ فلم بنا سکتا ہوں اور انشاء اللہ اچھا اسٹنٹ فلم بناؤں گا۔ پچاس ہزار روپوں کے اندر اندر سو فیصدی نفع تو یقینی ہے۔ آپ کا خیال ہے؟‘‘

سعید نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا۔

’’ہاں، اتنا نفع تو ہونا چاہیے۔ ‘‘

ظہیر نے کہا

’’جو آدمی روپیہ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ حساب کتاب سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہو گا۔ یہ آپ کا کام ہے۔ باقی سب چیزیں میں سنبھال لوں گا۔ ‘‘

سعید نے پوچھا

’’مجھ سے آپ کیا خدمت چاہتے ہیں؟‘‘

ظہیر نے بڑی سادگی سے کہا۔

’’پاکستان کے تقریباً تمام ڈسٹری بیوٹر آپ کو جانتے ہیں۔ میری یہاں ان لوگوں سے واقفیت نہیں۔ بڑی نوازش ہو گی اگر آپ میری فلم کی ڈسٹری بیوشن کا بندوبست کردیں۔ ‘‘

سعید نے کہا۔

’’آپ فلم تیار کرلیں۔ انشاء اللہ ہو جائے گا۔ ‘‘

’’آپ کی بڑی مہربانی ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر ظہیر نے میز پر پڑے ہوئے پیڈ پر پنسل سے ایک پھول سا بنایا

’’سعید صاحب، مجھے سو فیصدی یقین ہے کہ میں کامیاب رہوں گا۔ ہیروئن میری بیوی ہو گی۔ ‘‘

سعید نے پوچھا۔

’’آپ کی بیوی؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘

’’پہلے کسی فلم میں کام کر چکی ہیں؟‘‘

’’جی نہیں۔ ‘‘

ظہیر نے پیڈ پر پھول کے ساتھ شاخ بناتے ہوئے کہا۔

’’میں نے شادی یہاں لاہور میں آکر کی ہے۔ میرا ارادہ تو نہیں تھا کہ اسے فلم لائن میں لاؤں مگر اس کو شوق ہے۔ بہت شوق ہے۔ ہر روز ایک فلم دیکھتی ہے۔ میں آپ کو اس کا فوٹو دکھاتا ہوں۔ ‘‘

ظہیر نے میز کا دروازہ کھول کر ایک لفافہ نکالا اور اس میں سے اپنی بیوی کا فوٹو سرکا کر سعید کی طرف بڑھا دیا۔ سعید نے فوٹو دیکھا۔ معمولی خدوخال کی جوان عورت تھی۔ تنگ ماتھا۔ باریک ناک موٹے موٹے ہونٹ۔ آنکھیں بڑی بڑی اور اداس۔ یہ آنکھیں ہی تھیں جو اس کے چہرے کے دوسرے خطوط کے مقابلے میں سب سے نمایاں تھیں۔ سعید نے غور سے ان کو دیکھنا چاہا مگر معیوب سمجھا اور فوٹو میز پر رکھ دیا۔ ظہیر نے پوچھا۔

’’کیا خیال ہے آپ کا؟‘‘

سعید کے پاس اس سوال کا جواب تیار نہیں تھا۔ اس کے دل و دماغ پر دراصل وہ آنکھیں چھائی ہوئی تھیں۔ بڑی بڑی اداس آنکھیں۔ غیر ارادی طور پر اس نے میز پر سے فوٹو اٹھایا اور ایک نظر دیکھ کر پھر وہیں رکھ دیا۔ اور کہا

’’آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘

ظہیر نے پیڈ پر ایک اور پھول بنانا شروع کیا۔

’’یہ فوٹو اچھی نہیں۔ ذرا سی ہلی ہوئی ہے۔ ‘‘

اتنے میں پچھلے دروازے کا پردہ ہلا اور ظہیر کی بیوی داخل ہوئی۔ وہی بڑی بڑی اداس آنکھیں۔ ظہیر اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔

’’عجیب و غریب نام ہے اس کا۔ بسم اللہ!‘‘

پھر سعید کی طرف اشارہ کیا۔

’’یہ میرے دوست سعید صاحب۔ ‘‘

بسم نے کہا۔

’’آداب عرض۔ ‘‘

سعید نے اس کا جواب اٹھ کر دیا۔

’’تشریف رکھیے۔ ‘‘

بسم اللہ دوپٹہ ٹھیک کرتی سعید کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ ہلکے پیازی رنگ کے کلف لگے ململ کے مہین دوپٹے کے پیچھے اس کے سینے کا ابھار چغلیاں کھا رہا تھا۔ سعید نے اپنی نگاہیں دوسری طرف پھیر لیں۔ ظہیر نے فوٹو واپس لفافے میں رکھا اور سعید سے کہا۔

’’مجھے سو فیصدی یقین ہے کہ بسم اللہ پہلے ہی فلم میں کامیاب ثابت ہو گی۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا فلمی نام کیا رکھوں۔ بسم اللہ ٹھیک معلوم نہیں ہوتا۔ کیا خیال ہے آپ کا؟‘‘

سعید نے بسم اللہ کی طرف دیکھا۔ اس کی بڑی بڑی اداس آنکھوں میں وہ ایک لحظے کے لیے جیسے ڈوب سا گیا۔ فوراً ہی نگاہ اس طرف سے ہٹا کر اس نے ظہیر سے کہا۔

’’جی ہاں۔ بسم اللہ ٹھیک نہیں ہے۔ کوئی اور نام ہونا چاہیے۔ ‘‘

تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ بسم اللہ خاموش تھی۔ اس کی بڑی بڑی اداس آنکھیں بھی خاموش تھیں۔ سعید نے اس دوران میں ان آنکھوں کے اندر کئی بار ڈبکیاں لگائیں۔ ظہیر اور وہ دونوں باتیں کرتے رہے۔ بسم اللہ خاموش بیٹھی اپنی بڑی بڑی اداس آنکھوں پر چھائی ہوئی سیاہ پلکیں جھپکاکی۔ اس کے ہلکے پیازی رنگ کے کلف لگے ململ کے مہین دوپٹے کے پیچھے اس کے سینے کا ابھار برابر چغلیاں کھاتا رہا۔ سعید ادھر دیکھتا تو ایک دھکے کے ساتھ اس کی نظریں دوسری طرف پلٹ جاتیں۔ بسم اللہ کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ فوٹو میں اس رنگت کاپتا نہیں چلتا تھا۔ اس گہرے سانولے رنگ پر اس کی بڑی بڑی کالی آنکھیں اور بھی زیادہ اداس ہو گئی تھیں۔ سعید نے کئی مرتبہ سوچا کہ اس اداسی کا باعث کیا ہے؟۔ اس کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ اداس دکھائی دیتی ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ کوئی معقول بات سعید کے ذہن میں نہ آئی۔ ظہیر بمبئی کی باتیں شروع کرنے والا تھا کہ بسم اللہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کی چال میں بے ڈھنگا پن تھا، جیسے اس نے اونچی ایڑھی کے چپل نئے نئے استعمال کرنے شروع کیے۔ غرارے کی نشست بھی ٹھیک نہیں تھی۔ سلوٹوں کا گراؤ بھدا تھا۔ اس کے علاوہ سعید نے یہ بھی محسوس کیا کہ ادب آداب سے بسم اللہ محض کررہی ہے۔ لیکن اس کے گہرے سانولے چہرے پر دو بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، اداس ہونے کے باوجود کس قدر جذبات انگیز تھیں! چند ہی ملاقاتوں میں ظہیر سے سعید کے تعلقات بہت گہرے ہو گئے۔ ظہیر بے حد سادہ دل تھا۔ اس خاص چیز سے سعید بہت متاثر ہوا تھا۔ اس کی کسی بھی بات میں بناوٹ نہیں ہوتی تھی۔ خیال جس شکل میں پیدا ہوتا تھا سادہ الفاظ میں تبدیل ہو کر اس کی زبان پر آجاتا تھا۔ کھانے پینے اور رہنے سہنے کے معاملے میں بھی وہ سادگی پسند تھا۔ جب بھی سعید اس کے یہاں جاتا۔ ظہیر اس کی خاطر تواضع کرتا۔ سعید نے اس سے کئی بارکہا کہ تم یہ تکلیف نہ کیا کرو مگروہ نہ مانا۔ وہ اکثر کہا کرتا

’’اس میں کیا تکلیف ہے، آپ کا اپنا گھر ہے۔ ‘‘

سعید نے جب تقریباً ہر روز ظہیر کے ہاں جانا شروع کیا تو اس نے سوچا کہ یہ بہت بُری بات ہے۔ وہ میری اتنی عزت کرتا ہے۔ مجھے اپنا دوست سمجھتا ہے اورمیں اس سے صرف اس لیے ملتا ہوں کہ مجھے اس کی بیوی سے دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ بہت بُری بات ہے۔ اس کے ضمیر نے کئی دفعہ اسے ٹوکا مگر وہ برابر ظہیر کے ہاں جاتا رہا۔ بسم اللہ اکثر آجاتی تھی۔ شروع شروع میں وہ خاموش بیٹھی رہتی۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے باتوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ لیکن گفتگو کے لحاظ سے وہ خام تھی۔ سعید کو دکھ ہوتا تھا کہ وہ اچھی اچھی باتیں کرنا کیوں نہیں جانتی۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ظہیر گھر سے باہر تھا۔ سعید نے آواز دی تو بسم اللہ بولی۔

’’باہر گئے ہوئے ہیں۔ ‘‘

یہ سن کر سعید کچھ دیر کھڑا رہا کہ شاید وہ اس سے کہے، اندر آجائیے۔ ابھی آتے ہیں۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ ظہیر کے فلم کا چکر چل رہا تھا۔ اس کا ذکر قریب قریب ہر روز ہوتا۔ ظہیر کہتا مجھے اتنی جلدی نہیں ہے۔ ہر ایک چیز آرام سے ہو گی۔ اور اپنے وقت پر ہو گی۔ سعید کو ظہیر کے فلم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کو اگر دلچسپی تھی تو بسم اللہ سے جس کی بڑی بڑی اداس آنکھوں میں وہ کئی بار غوطے لگا چکا تھا۔ اور اس کی یہ دلچسپی دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔ جس کا احساس اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا کیونکہ یہ کھلی ہوئی بات تھی کہ وہ اپنے دوست ظہیر کی بیوی سے جسمانی رشتہ پیدا کرنے کا خواہاں تھا۔ دن گزرتے گئے۔ ظہیر کے فلم کا کام وہیں کا وہیں تھا۔ سعید ایک دن اس سے ملنے گیا تو وہ کہیں باہر گیا ہوا تھا۔ چلنے ہی والا تھا کہ بسم اللہ نے کہا۔

’’اندر آجائیے وہ کہیں دور نہیں گئے۔ ‘‘

مزید پڑھیں: بس اسٹینڈ

سعید کا دل دھڑکنے لگا۔ کچھ توقف کے بعد وہ کمرے میں داخل ہوا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ بسم اللہ میز کے پاس کھڑی تھی۔ سعید نے جرأت سے کام لے کر اس سے کہا۔

’’بیٹھئے۔ ‘‘

بسم اللہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر خاموش رہی اس کے بعد سعید نے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’ظہیر آئے نہیں ابھی تک؟‘‘

بسم اللہ نے مختصر جواب دیا۔

’’آجائیں گے۔ ‘‘

تھوڑی دیر پھر خاموش رہی۔ اس دوران میں کئی مرتبہ سعید نے بسم اللہ کی آنکھوں کی طرف دیکھا۔ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اٹھ کر ان کو چومنا شروع کردے۔ اس قدر چومے کہ ان کی ساری اداسی دھل جائے مگر سعید نے اس خواہش پر قابو پا کر اس سے کہا۔

’’آپ کو فلم میں کام کرنے کا بہت شوق ہے؟‘‘

بسم اللہ نے ایک جمائی لی اور جواب۔

’’ہے تو سہی۔ ‘‘

سعید ناصح بن گیا۔

’’یہ لائن اچھی نہیں۔ میرا مطلب ہے بڑی بدنام ہے۔ ‘‘

اس کے بعد اس نے فلم لائن کی تمام برائیاں بیان کرنا شروع کردیں۔ ظہیر کا خیال آیا تو اس نے رخ بدل لیا۔

’’آپ کو شوق ہے تو خیر دوسری بات ہے۔ کیریکٹر مضبوط ہو تو آدمی کسی بھی لائن میں ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ پھرظہیر خود اپنا فلم بنا رہا ہے لیکن آپ کسی دوسرے کے فلم میں کام ہرگز نہ کیجیے گا۔ ‘‘

بسم اللہ خاموش رہی۔ سعید کو اس کی یہ خاموشی بہت بری معلوم ہوئی۔ پہلی مرتبہ اس کو تنہائی میں اس سے ملنے کا موقعہ ملا تھا مگر وہ بولتی ہی نہیں تھی۔ سعید نے ایک دو مرتبہ ڈرتے ڈرتے ٹوہ لینے والی نگاہوں سے اسے دیکھا مگر کوئی رد عمل پیدا نہ ہوا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ اس سے مخاطب ہوا۔

’’اچھا تو پان ہی کھلائیے۔ ‘‘

بسم اللہ اٹھی۔ ریشمی قمیض کے پیچھے اس کے سینے کا نمایاں ابھار ہلا۔ سعید کی نگاہوں کو دھکا سا لگا۔ بسم اللہ دوسرے کمرے میں گئی تو وہ ڈر ڈر کے تیکھی تیکھی باتیں سوچنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پان لے کر آئی اور سعید کے پاس کھڑی ہو گئی۔

’’لیجئے۔ ‘‘

سعید نے شکریہ کہہ کر پان لیا تو اس کی انگلیاں بسم اللہ کی انگلیوں سے چھوئیں اس کے سارے بدن میں برقی لہر دوڑ گئی۔ اس کے ساتھ ہی ضمیر کا کانٹا اس کے دل میں چُھبا۔ بسم اللہ سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے گہرے سانولے چہرے سے سعید کو کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ سعید نے سوچا

’’کوئی اور عورت ہوتی تو فوراً سمجھ جاتی کہ میں اسے کن آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ لیکن یہ شاید سمجھ گئی ہو۔ شاید نہ بھی سمجھی ہو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ‘‘

سعید کا دماغ بے حد مضطرب تھا۔ ایک طرف بسم اللہ کا ستانے والا وجود تھا۔ اس کی بڑی بڑی اداس آنکھیں۔ اس کے سینے کا نمایاں ابھار۔ دوسری طرف ظہیر کا خیال، اس کے ضمیر کا کانٹا۔ سعید عجب الجھن میں پھنس گیا تھا۔ بسم اللہ کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا تھا۔ اس کا مطلب صاف تھا کہ جو چیز سعید سوچ رہا ہے ناممکن ہے۔ مگر وہ پھر اس کو انہی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ اس سے مخاطب ہوا۔

’’ظہیر نہیں آئے میرا خیال ہے۔ میں چلتا ہوں۔ ‘‘

بسم اللہ نے خلافِ توقع کہا۔

’’نہیں نہیں بیٹھئے۔ ‘‘

’’آپ تو کوئی بات ہی نہیں کرتیں۔ ‘‘

یہ کہہ کرسعید اٹھا۔ بسم اللہ نے پوچھا۔

’’چلے؟‘‘

سعید نے اس کی طرف ٹوہ لینے والی نگاہوں سے دیکھا۔

’’جی نہیں، بیٹھتا ہوں۔ آپ کو اگر کوئی اعتراض نہ ہو۔ ‘‘

بسم اللہ نے ایک جمائی لی۔

’’مجھے کیا اعتراض ہو گا۔ ‘‘

بسم اللہ کی آنکھوں میں خمار سا پیدا ہو گیا۔ سعید نے کہا۔

’’آپ کو شاید نیند آرہی ہے۔ ‘‘

’’جی ہاں رات جاگتی رہی۔ ‘‘

سعید نے ذرا بے تکلفی سے پوچھا۔

’’کیوں!‘‘

بسم اللہ نے ایک اور جمائی لی۔

’’کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ ‘‘

سعید بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد بسم اللہ سو گئی۔ اس کے سینے کا نمایاں ابھار ریشمی قمیض کے پیچھے سانس کے زیرو بم سے ہولے ہولے ہل رہا تھا۔ بڑی بڑی اداس آنکھیں اب بند تھیں۔ دایاں بازو ایک طرف ڈھک گیا تھا۔ آستین اوپر کو اٹھ گئی تھی۔ سعید نے دیکھا گہرے سانولے رنگ کی کلائی پر ہندی کے حروف کھدے ہوئے تھے۔ اتنے میں ظہیر آگیا۔ سعید اس کی آمد پر سٹپٹا سا گیا۔ ظہیر نے اس سے ہاتھ ملایا۔ اپنی بیوی بسم اللہ کی طرف دکھا۔

’’ارے سو رہی ہے۔ ‘‘

سعید نے کہا۔

’’میں جارہا تھا۔ کہنے لگیں ظہیر صاحب ابھی آجائیں گے۔ آپ بیٹھئے۔ میں بیٹھا تو آپ سو گئیں۔ ‘‘

ظہیر ہنسا۔ سعید بھی ہنسنے لگا۔

’’بھئی واہ، اٹھو اٹھو۔ ‘‘

ظہیر نے بسم اللہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ بسم اللہ نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنی بڑی بڑی اداس آنکھیں کھول دیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اب ان میں ویرانی سی بھی تھی۔

’’چلو چلو، اٹھو۔ ایک ضروری کام پر جانا ہے۔ ‘‘

بسم اللہ سے یہ کہہ کر ظہیر سعید سے مخاطب ہوا۔

’’معاف کیجیے گا سعید صاحب، میں ایک کام سے جارہا ہوں۔ انشاء اللہ کل ملاقات ہو گی۔ ‘‘

سعید چلا گیا۔ دوسرے روز اس نے ظہیر کے ہاں جانے سے پہلے یہ دعا مانگی کہ وہ گھر پر نہ ہو۔ وہاں پہنچا تو باہر کئی آدمی جمع تھے۔ سعید کو ان سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ ظہیر کی بیوی نہیں تھیں۔ وہ ایک ہندو لڑکی تھی جو فسادوں میں یہاں رہ گئی تھی۔ ظہیر اس سے پیشہ کراتا تھا۔ پولیس ابھی ابھی اسے برآمد کرکے لے گئی ہے۔ وہ بڑی بڑی سیاہ اور اداس آنکھیں اب سعید کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔

سعادت حسن منٹو

(Visited 7 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں