تین میں، نہ تیرہ میں

مائی نانکی

’’میں تین میں ہوں نہ تیرہ میں، نہ ستلی کی گرہ میں‘‘

’’اب تم نے اُردو کے محاورے بھی سیکھ لیے۔ ‘‘

’’آپ میرا مذاق کیوں اُڑاتے ہیں۔ اردو میری مادری زبان ہے‘‘

’’پدری کیا تھی؟ تمہارے والد بزرگوار تو ٹھیٹھ پنجابی تھے۔ اللہ اُنھیں جنت نصیب کرے بڑے مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ اتنی دیر لکھنؤمیں رہے، وہاں پچیس برس اُردو بولتے رہے لیکن مجھ سے ہمیشہ انھوں نے پنجابی ہی میں گفتگو کی۔ کہا کرتے تھے اُردو بولتے بولتے میرے جبڑے تھک گئے ہیں اب ان میں کوئی سکت باقی نہیں رہی۔ ‘‘

’’آپ جھوٹ بولتے ہیں‘‘

’’میں تو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہوں۔ کوئی بات بھی تم سے کہوں تم یہی سمجھو گی کہ جھوٹ ہے حالانکہ جھوٹ بولنا عورت کی فطرت ہے۔ ‘‘

’’آپ عورت ذات پر ایسے رکیک حملے نہ کیا کریں۔ مجھے بڑی ہی کوفت ہوتی ہے۔ ‘‘

’’بہت بہتر آئندہ محتاط رہنے کی کوشش کروں گا۔ ‘‘

’’صرف کوشش کریں گے۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ اپنی زبان ایسے معاملوں میں قطعی طور پر بند رکھیں گے۔ ‘‘

’’یہ وعدہ میں نہیں کرسکتا۔ بندہ بشر ہے۔ ہوسکتا ہے سہواً میرے منہ سے کچھ نکل جائے جسے تم حملہ قرار دے دو۔ ‘‘

’’میں یہ سوچتی ہوں آپ۔ آپ کس قسم کے شوہر ہیں بس ہر بات کو مذاق میں اُڑا دیتے ہیں۔ پرسوں میں نے آپ سے کہا کہ منجھلی کو ٹائیفائیڈ ہو گیا ہے تو آپ نے مسکرا کر کہا فکر نہ کرو ٹھیک ہو جائے گی۔ لڑکا ہوتا تو فکر و تردّد کی بات تھی، لڑکیاں نہیں مرا کرتیں۔ ‘‘

’’میں اب بھی یہی کہتا ہوں۔ سب سے چھوٹی اُوپر کی منزل سے نیچے گری اور بچ گئی۔ دو مرتبہ اسے ہیضہ ہوا، چیچک نکلی، نمونیا ہوا مگر وہ زندہ ہے اور اپنی بڑی بہنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تندرست ہے۔ ‘‘

’’آپ کی یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آتی‘‘

’’یہ میری منطق نہیں میری جان۔ قدرت کو یہی منظور ہے کہ مرد دُنیا میں کم ہو جائیں اور عورتیں زیادہ۔ تمھارا پہلا بچہ جو لڑکا تھا، اسے معمولی سا زُکام ہوا اور وہ دوسرے دن اللہ کو پیارا ہو گیا۔ تمھاری بڑی لڑکی کو تو تین بار ٹائیفائیڈ ہوا لیکن وہ زندہ ہے۔ میرا خیال ہے وہ وقت آنے والا ہے جب اس دنیا میں کوئی مرد نہیں رہے گا ٗ صرف عورتیں ہی عورتیں ہوں گی۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ مردوں کے بغیر تم عورتوں کا گزارا کیسے ہو گا۔ ‘‘

’’یعنی جیسے آپ لوگوں کے بغیر ہمارا گزارا ہو ہی نہیں سکتا۔ ہم بہت خوش رہیں گی۔ مردوں کا خاتمہ ہو گیا تو یہ سمجھیے کہ ہمارے تمام دُکھ درد کا خاتمہ ہو گیا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ ‘‘

’’تم آج محاوروں کو بہت استعمال کر رہی ہو۔ ‘‘

’’آپ کو کیا اعتراض ہے؟‘‘

’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اعتراض ہو بھی کیا سکتا ہے۔ محاورے میری املاک نہیں۔ میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا کہ تم آج محاورے زیادہ استعمال کررہی ہو۔ ‘‘

’’دو ہی تو کیے ہیں، یہ زیادہ ہیں کیا؟‘‘

’’زیادہ تو نہیں۔ لیکن اندیشہ ہے کہ تم دس پندرہ اور مجھ پر ضرور لڑھکادو گی۔ ‘‘

’’تھوتھا چنا باجے گھنا۔ آج اتنا کیوں گرج رہے ہو۔ آپ کو معلوم نہیں کہ جو گرجتے ہیں برستے نہیں۔ ‘‘

’’دو محاورے اور آ گئے۔ خدا کے لیے ان کو چھوڑو۔ مجھے یہ بتاؤ کہ آج ناراضی کی وجہ کیا ہے؟‘‘

’’ناراضی کا باعث آپ کا وجود ہے۔ مجھے آپ کی ہر حرکت بُری معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘

’’میں اگر تم سے پیار محبت کی باتیں کرتا ہوں تو وہ بھی تمھیں بُری لگتی ہیں۔ ‘‘

’’مجھے آپ کی پیار محبت کی باتیں نہیں چاہئیں۔ ‘‘

’’تو اور کیا چاہیے‘‘

’’یہ تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔ میں کیا جانوں۔ شوہر کو اپنی بیوی کو سمجھنا چاہیے۔ وہ کیا چاہتی ہے، کیا نہیں چاہتی۔ اس کو اس کا علم پوری طرح ہونا چاہیے۔ آپ تو بالکل غافل ہیں۔ ‘‘

’’میں کوئی قیافہ گیر، رمزشناس اور نفسیات کا ماہر نہیں کہ تمھیں پوری طرح سمجھ سکوں۔ اور تمھارے دماغ کے تلوّن کی ہر سلوٹ کے معنی نکال سکوں۔ میں اس معاملے میں گدھا ہوں۔ ‘‘

’’آپ اونٹ ہیں اونٹ‘‘

’’کس لحاظ سے؟‘‘

’’اس لیے کہ آپ کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ ‘‘

’’اچھا بھلا ہوں۔ میری کل سیدھی ہے۔ ابھی تم نے مجھ سے پرسوں کہا تھا کہ آپ چالیس برس کے ہونے کے باوجود ماشاء اللہ جوان دکھائی دیتے ہیں۔ تم نے میرے بدن کی بھی بہت تعریف کی تھی۔ ‘‘

’’وہ تو میں نے مذاق کیا تھا۔ ورنہ آپ تو ایسا جھڑوس ہو چکے ہیں۔ ‘‘

’’دیکھو ایسی بدزبانی مجھے پسند نہیں۔ تم بعض اوقات ایسی بکواس شروع کر دیتی ہو، جو کوئی شریف عورت نہیں کر سکتی۔ ‘‘

’’تو گویا میں شریف نہیں۔ فاحشہ ہوں۔ بازاری عورت ہوں۔ میں نے آپ کو کیا گالی دی جس پر آپ کو اتنا طیش آ گیا کہ آپ نے مجھ کو بدزبان کہہ دیا۔ ‘‘

’’بھئی، میں اب جھڑوس ہو چکا ہوں۔ مجھ سے بات نہ کرو۔ ‘‘

’’میں آپ سے بات نہ کروں گی تو اور کس سے کروں گی۔ ‘‘

’’میں اس کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں۔ تم اپنے بھنگی سے گفتگو کر سکتی ہو۔ اس سے یہ بھی کہہ سکتی ہو کہ میں جھڑوس ہو گیا ہوں۔ ‘‘

’’آپ کو شرم نہیں آتی۔ آپ نے یہ کیسی بات کہی ہے؟‘‘

’’بھنگی اور مجھ میں کیا فرق ہے! جس طرح تم اس غریب سے پیش آتی ہو، اسی طرح کا سلوک مجھ سے کرتی ہو۔ ‘‘

’’بڑے بیچارے غریب بنے پھرتے ہیں اور اب مجھ سے کہتے ہیں کہ میں بھنگی کے ساتھ بات کیا کروں۔ غیرت کا مادہ تو آپ میں رہا ہی نہیں۔ ‘‘

’’میں نر ہوں۔ مادہ تم ہو۔ ‘‘

’’اس سے کیا ہوا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مرد عورتوں کو اتنا حقیر کیوں سمجھتے ہیں۔ ہم میں کیا برائی ہے۔ کیا عیب ہے۔ یہی نا کہ ہمارے والدین نے غلطی سے آپ کے ساتھ میری شادی کر دی۔ ‘‘

’’شادی تو آخر کسی جگہ ہونی ہی تھی۔ تم کیا کرتیں اگر نہ ہوتی؟‘‘

’’میں بہت خوش رہتی۔ شادی میں آخر پڑا ہی کیا ہے؟‘‘

’’کیا پڑا ہے۔ خاک!۔ میں تو کنواری رہتی تو اچھا تھا۔ اس بک بک میں تو نہ پڑتی۔ ‘‘

’’کس بک بک میں؟‘‘

’’یہی جو آئے دن ہوتی رہتی ہے۔ ‘‘

’’نہیں معلوم ہونا چاہیے کہ روز روز کی چخ صرف تمہاری وجہ سے ہوتی ہے ورنہ میں نے ان پندرہ برسوں میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی کہ تمہاری خدمت کروں۔ ‘‘

’’خدمت؟‘‘

’’خدمت نہ کہو، میں اپنا فرض ادا کرتا رہا ہوں۔ خاوند کو یہی کرنا چاہیے۔ تمھیں مجھ سے کس بات کا گلہ ہے؟‘‘

’’ہزار گلے ہیں، ایک ہو تو بتاؤں‘‘

’’ان ہزار گلوں میں سے ایک گلہ تو مجھے بتا دو تاکہ میں اپنی اصلاح کر سکوں۔ ‘‘

’’آپ کی اصلاح اب ہو چکی۔ آپ تو ازل سے بگڑے ہوئے ہیں۔ ‘‘

’’یہ اطلاع تمھیں کہاں سے ملی تھی؟۔ میں تو اس سے بالکل بے خبر ہوں۔ ‘‘

’’آپ کی بے خبری کا تو یہ عالم ہے کہ آپ کو خود اپنی خبر نہیں ہوتی۔ ‘‘

’’غالب کا ایک شعر ہے: ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی خود اپنی خبر نہیں آتی!‘‘

’’غالب جائے جہنم میں۔ اس وقت تو آپ مجھ پر غالب ہیں۔ ‘‘

’’لاحول ولا۔ میں تو جھڑوس ہو چکا ہوں۔ ازل سے بگڑا ہوا ہوں۔ ‘‘

’’آپ میری ہر بات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘‘

’’میں یہ جرأت کیسے کر سکتا ہوں مجھ میں اتنی طاقت ہے نہ مجال۔ لیکن میں کیا پوچھ سکتا ہوں کہ آج آپ کی ناراضی کا باعث کیا ہے؟‘‘

’’میری ناراضگی کا باعث کیا ہو سکتا ہے، یہی کہ آپ۔ ‘‘

’’کیا؟‘‘

’’آپ خود سوچیے۔ بڑے سمجھدار ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں؟‘‘

’’میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ تمہارے کانوں کے لیے ’ٹوپس‘ لے کر آؤں گا۔ مگر میں جس دوکان میں گیا وہاں مجھے دل پسند ٹوپس نہ ملے۔ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ لٹھے کا ایک تھان لے کر آؤ۔ میں نے شہر بھر میں ہر جگہ کوشش کی مگر ناکام رہا۔ تمہارے ریشمی کپڑے جو لانڈری میں دُھلنے کے لیے گئے تھے۔ میں ان کو وصول کرنے گیا۔ مگر لانڈری والے نے کہا کہ اُس کے دھوبی بیمار ہیں، اس لیے دو دن انتظار کیجیے۔ تمہاری گھڑی جو خراب ہو گئی تھی۔ اس کے متعلق بھی میں نے پوچھا۔ گھڑی ساز نے کہا کہ اس کا ایک پرزہ بنانا پڑے گا جو وہ بنا رہا ہے۔ ‘‘

’’آپ بہانے بنانا خوب جانتے ہیں۔ ‘‘

’’خدا کی قسم سچ کہہ رہا ہوں۔ تمہاری قمیضیں کل درزی سے آ جائیں گی، اس کو میں نے بہت ڈانٹا کہ تم نے اتنی دیر کیوں کر دی۔ اس نے کہا، حضور کل لے جائیے گا۔ ‘‘

’’قمیصیں جائیں بھاڑ میں۔ ‘‘

’’وہ کیوں؟‘‘

’’آپ کو توکچھ ہوش ہی نہیں‘‘

’’میں کیا بے ہوش رہتا ہوں۔ تمھیں جو کہنا ہے کہہ ڈالو۔ اتنی لمبی چوڑی تمہید کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

’’ضرورت اس لیے تھی کہ آپ پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ اگر میں نے ایک جملے میں اپنا مدعا بیان کیا ہوتا۔ ‘‘

’’تو ازراہِ کرم اب تم ایک جملے میں اپنا مدعا بیان کردو تاکہ میری خلاصی ہو۔ ‘‘

’’میری داڑھ اتنی تکلیف دے رہی ہے۔ کئی مرتبہ سے آپ سے کہہچکی ہوں۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے چلیے مجھے، مگر۔ ‘‘

’’ابھی چلو!۔ داڑھ کیا، تم چاہو تو میں سب دانت نکلوا دوں گا۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں