عمران خان بمقابلہ متحدہ اپوزیشن

عمران خان بامقابل متحدہ اپوزیشن

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ایک ملک میں ایک انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اپنی اچھی عادات کی بنا پر وہ عوام میں ہردلعزیز تھا۔ بادشاہ بیمار ہوا تو اسے اپنے ملک کی فکر لگ گئی۔ کہ میرے بعد اس ملک کا کیا ہوگا۔

بادشاہ کے تین بیٹے تھے۔ لیکن تینوں میں سے کوئی اس قابل نہ تھا ۔کہ ملک کو سنبھال سکے۔بادشاہ نے سوچا کہ ملک میں گھوم پھر کر دیکھا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی کے اندر ملک کو سنبھالنے کی اہلیت ہو۔ بادشاہ ملک کے مشہور مشہور علاقوں میں گیا۔ بھیس بدل کر وہ مختلف لوگوں سے ملا۔ مگر کسی نے اسے متاثر نہ کیا۔

مایوس ہو کر وہ جنگل کے راستے محل واپس جانے لگا۔ راستے میں اس کا شیر سے سامنا ہو گیا۔ جنگل میں لکڑہارے لکڑیاں کاٹ رہے تھے۔ سب شیر کو دیکھ کر اپنی جان بچانے کے لیئے بھاگنے لگے۔ تب ہی ایک نوجوان آگے بڑھا۔ اور بادشاہ کو بچایا۔ جب بادشاہ نے اس سے گفتگو کی تو اسےاس نوجوان لکڑہارے کی ذہانت کا اندازہ ہوا۔

بادشاہ اس نوجوان کو اپنے محل لے گیا۔ اور کچھ لوگوں کو اسکی تربیت پر مامور کیا۔ جب فیصلے کا دن آیا۔ کہ کون سا شہزادہ بادشاہ بنے گا۔ تب بادشاہ نے ایک عجیب فیصلہ سنایا۔ کہ جو لکڑہارے کے بیٹے (یعنی اس نوجوان) سے جیت گیا وہی بادشاہ بنے گا۔

تینوں شہزادے جو بادشاہ بننے کے لیئے ایک دوسرے سے قطع تعلق کرچکے تھے متحد ہوگئے۔ کیونکہ انہیں اندازہ ہوگیا ہے۔ اگر آج ایک عام آدمی بادشاہ بن رہا ہے۔ تو کل کو بادشاہت عام لوگوں کو ملنے لگے گی۔ بادشاہ نے چاروں کو ایک ایک علاقہ حکمرانی کے لئے سونپا اور حکم دیا کہ اپنے اپنے علاقے کی حالت کو بہتر کرنا ہے۔بادشاہ نے ان چاروں کو مال و دولت کے ساتھ ایک مہینے کا وقت دیا گیا۔

ایک مہینے بعد جب بادشاہ نے جب علاقوں کا جائزہ لیا تو فیصلہ اس نوجوان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ شہزادوں کو بہت غصہ آیا۔ انہوں نے بادشاہ سے پوچھا کہ اس نے یہ نا انصافی کیوں کی؟ بادشاہ نے کہا کہ میں نے تم چاروں کے علاقے دیکھے تم لوگ چونکہ عیش و عشرت میں پلے بڑھے ہو۔ تو تم لوگوں نے علاقے کو پُرآشائش بنانے پر توجہ دی۔ جب کے لکڑہارے نے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ لکڑہارہ بادشاہ بن گیا۔ اور لوگوں کے مسائل حل کرنے لگا۔

لیکن شہزادے متحد ہوکر اس پر تنقید کرنے لگے ۔اور لوگ جو ذہنی طور پر شہزادوں کے غلام تھے۔ وہ بھی شہزادوں کا ساتھ دینے لگے۔

لکڑہارے جب نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیئے وظیفہ مقرر کیا۔ تو شہزادوں نے کہا کہ یہ کم ہے۔ لوگوں نے بھی شہزادوں کی تاہید کی۔ جب لکڑہارے نے وظیفہ بڑھایا ۔تو شہزادوں نے کہا کے یہ تو فضول خرچی ہے۔ اس پر بھی لوگوں نے شہزادوں کی تاہید کی۔ لکڑہارے کو سمجھ آگیا کہ یہ نہیں سدھر سکتے۔ اس نے ملک کی بہتری کہ لیئے اقدامات کرنا شروع کردیے۔ آج ملک تو پہلے سے بہتر ہوگیا ہے۔ لیکن لوگ بہتر نہیں ہوئے۔ لکڑہارا کوششش میں لگاہے۔ کہ لوگ بھی ٹھیک ہو جائیں۔

یہی حال آج کل پاکستان کی حکومت PTI کا ہے۔ عمران خان بامقابل متحدہ اپوزیشن

جہاں بادشاہ کی طرح کچھ دانا لوگوں نے عمران خان کو منتخب کیا ہے۔ وہاں ذہنی غلامی میں جکڑے لوگ آج بھی “شہزادوں” کے ساتھ ہیں۔ اور “شہزادے” یعنی دوسری سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن میں ہیں۔ حکومت پر تنقید کر رہی ہیں۔ جب عمران خان وزیرعظم بنا تو ان جماعتوں نے کہا۔ یہ فوج کا لایا ہوا ہے۔ اور لوگ بھی ان شہزادوں کے عشق میں ایسے گرفتار کے اپنے محافظوں کو برا بھلا کہنے لگے۔اور اس کے بعد عمران خان نے ملک کی بھلائی کے لیئے جو بھی اقدامات کیے۔

اپوزیشن نے بھرپور مخالفت کی۔ خواہ وہ عمران خان کا غربت ختم کرنے کے لیئے مرغیاں دینے کا اعلان ہو، یا پھر عہدے تبدیل کرنا۔ متحدہ اپوزیشن مسلسل تنقید کر رہی ہے۔ خصوصاً اسد عمر کو والی بات پر۔

یہاں تو یہ حال ہے کہ نہ خود اچھا کیا۔ نہ کسی کو کرنے دیں گے۔ اپوزیشن کو اب یہ اعتراض ہے۔ کہ پہلے کیوں نہ تبدیل کیا۔ بندہ پوچھے جو حالت تم لوگ ملک کی چھوڑ کر گئے۔اب اس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ اور جس کی کرکاردگی ٹھیک نہیں اسے ہٹایا جائے گا۔ جیالے اور کارکن بھی لگے ہیں شوشل میڈیا پر ملک کی حالت سنوارنے۔ ان کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ موروثی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور جہاں تک بات ہے ۔ملک کو ٹھیک کرنے کی تو جو بندہ “ذہن” رکھتا ہو۔ وہ خو ہی سمجھ سکتا ہے ۔کہ ملک کی حالت سنوارنے کے لیئے وہ تمام اقدامات ضروری ہیں۔ جو PTI کی حکومت کرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو شعور عطا فرمائے۔

ابھرتی ہوئی مہمان کالم نگار
کرن مشتاق

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں